گھریلو کچرے سے گیس بنانا ممکن

Image caption گیس کا یہ پلانٹ گھر کی چھت پر لگایا جا سکتا ہے

بجلی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے جہاں حکومتِ پاکستان کرائے کے بجلی گھروں جیسے ہنگامی مگر مہنگے منصوبوں پر کام کر رہی ہے وہیں ملک کے ایک پسماندہ حصے کے ایک انجینیئر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے بجلی اورگیس اپنے گھر میں ہی مفت پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

شفقت مصطفیٰ جنوبی پنجاب کے شہر جھنگ میں متبادل ذریعۂ توانائی سے بجلی بنانے والے ایک پلانٹ میں آپریشن مینیجر ہیں۔ بحران کی وجہ سے بجلی کی آنکھ مچولی، بڑھتے ہوئے نرخوں اور گیس کے بِلوں سے تنگ آ کر شفقت نے اپنی مدد آپ کے تحت خود بجلی اور گیس پیدا کرنے کی کوششیں شروع کیں جس میں وہ کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔

انہوں نے بائیو گیس کے ذریعے ناصرف اپنے گھر کا چولہا جلایا ہے بلکہ اسی بائیوگیس پر گیس سے چلنے والا جنریٹر استعمال کرتے ہوئے بجلی بھی پیدا کی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک مِنی بائیو گیس پلانٹ تیار کر کے اپنے گھر کی چھت پر نصب کر لیا ہے۔

بائیو گیس، نامیاتی مرکبات سے آکسیجن کی غیر موجودگی میں پیدا ہونے والی گیس ہے جو استعمال میں معدنی گیس کی خصوصیات رکھتی ہے۔ بائیو گیس نیا آئیڈیا نہیں ہے اور کئی دہائیوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں زیرِ استعمال ہے۔ وقت کے ساتھ باقی دنیا میں بائیو گیس کی پیداوار کو فوقیت ملی ہے اور اس کے طریقوں میں بھی جدت آئی ہے لیکن پاکستان میں محض اس کے راویتی طریقۂ پیداوار پر ہی توجہ دی گئی۔

پاکستان کونسل فار ری نیو ایبل انرجی ٹیکنالوجی نے متبادل ذرائع توانائی کے فروغ کے لیے ملک بھر میں تین ہزار سے زائد بائیو گیس کے روایتی پلانٹ تقسیم کیے ہیں جو گھریلو سطح پر گیس کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ لیکن اس سرکاری مہم میں گیس پیدا کرنے کے لیے گائے بھینسوں کا گوبر استعمال ہوتا ہے۔ کونسل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر پرویز اختر بتاتے ہیں کہ سرکاری بائیو گیس پلانٹ کے حصول کے لیے صارف کے گھر میں چار یا پانچ بھینسوں کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ یہ طریقہ دیہاتی علاقوں میں ہی قابلِ عمل ثابت ہوتا ہے۔

Image caption دو کلوکچر سےپانچ آدمیوں کا کھانا تیار کیا جا سکتا ہے

شفقت مصطفیٰ نے اپنا منی بائیو گیس پلانٹ بھارت میں زیرِ استعمال ماڈل پر تیار کیا ہے جس سے شہری علاقوں میں گیس کا متبادل اور مفت حصول ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے مویشیوں یا ان کے فضلے کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ یہ گندگی یا بدبو پھیلانے کی بجائے ماحول کی پاکیزگی میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تین حصوں پر مشتمل یہ پلانٹ پاکستان میں زیرِاستعمال پانی گرم کرنے والے گیزر کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ دو تہی ڈرم کے وسطی حصے میں ایک ہی دفعہ تھوڑی سے مقدار میں گوبر ڈال کر بیکٹریا کی نشوونما شروع کر دی جاتی ہے جس کے بعد اس پلانٹ میں گھر کا کچرا اور کسی بھی قسم کا نامیاتی فضلہ ڈالنا پڑتا ہے تاکہ گیس کی ترسیل جاری رہے۔ ڈرم کے بیرونی حصے میں گیس ذخیرہ ہوتی ہے جسے گھر میں گیس کی ترسیل کے عمومی نظام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ منی بائیو گیس پلانٹ کا تیسرا حصہ ایک سولر پینل ہے جو شمسی توانائی کے ذریعے پلانٹ کو مطلوبہ درجۂ حرارت فراہم کرتا ہے۔

اس پلانٹ کو تیار کرنے میں شفقت مصطفیٰ کے پچیس ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں۔ دو کلو گرام کچرے سے دو میٹر کیوبک گیس پیدا ہوتی ہے جس سے پانچ لوگوں کا کھانا با آسانی تیار کیا جا سکتا ہے۔ شفقت آجکل اپنے پلانٹ کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ دو کیوبک میٹر گیس کی صلاحیت والے منی بائیو گیس پلانٹ کے ساتھ جنریٹر کی مدد سے چار کلو واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں بجلی کا زیادہ تر حصول ایسے بجلی گھروں سے کیا جا رہا ہے جو تیل پر چلتے ہیں اور ملکی آمدن کا بڑا حصہ تیل کی درآمد پر خرچ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ منگلا اور تربیلا جیسے سستی بجلی کے ڈیم تو ہیں لیکن اس بجلی کو دور دراز کے علاقوں میں گرڈ کے ذریعے پہنچانا اس طریقے کو مہنگا بنا دیتا ہے۔ بجلی کے بحران کو فوری پورا کرنے کے لیے کرائے کے بجلی گھر بنانے کی منظوری دی گئی ہے جو ازخود ایک مہنگا طریقہ ہے۔ اسی طرح بلوچستان اور سندھ میں موجود کوئلے کے وسیع ذخائر کو بجلی کی ممکنہ پیداوار کا اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے لیکن جب عالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل کے حل کے لیے پوری دنیا کاربن کے اخراج کی کٹوتیوں جیسے بین الاقوامی قوانین متعارف کروانے پر بضد ہو، پاکستان کی طرف سے بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلہ جلانا ایک ماحول دوست رویہ ثابت نہیں ہو گا۔

آلٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو عارف علاؤ الدین بتاتے ہیں کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کو کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں سستے اور صاف متبادل ذرائع توانائی میسر نہ ہوں۔ ان کے بقول صوبہ سندھ میں حیدرآباد اور کراچی کے درمیان ہوا کی ایسی گزرگاہ ہے جسے دنیا کی بہترین اور طویل مدتی گزرگاہوں میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس گزرگاہ سے پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کونسل فار ری نیو ایبل انرجی ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر پرویز اختر کا کہنا ہے کہ ملک کے نہری نظام کو علاقائی سطح پر چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول صوبہ پنجاب میں علاقائی سطح پر زرعی فضلات اور فصلوں کو استعمال کر کے بائیو ایندھن حاصل کیا جا سکتا ہے جس سے بجلی اور گیس کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔

سندھ میں ہوا کی گزرگاہ میں آنے والے ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل خارو چار میں ورلڈ وائڈ فنڈ کے تعاون سے ایک خیراتی ادارہ ایکشن فار ہیومینٹیرین ڈویلپمنٹ، ہوا سے بجلی پیدا کر رہا ہے۔ علاقے کے پانچ سو گھر مفت بجلی حاصل کر رہے ہیں اور پہلے مرحلے میں دو ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Image caption اس پلانٹ پر پچیس ہزار روپے کا خرچہ آیا ہے

ادارے کے سیکرٹری جنرل ندیم منصور جمالی بتاتے ہیں کہ ہوا سے پانچ سو واٹ بجلی پیدا کرنے والی چکی پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے۔ اسی طرح ان کے بقول شمسی توانائی سے چلنے والے دو سو واٹ کے بجلی گھر پر ساڑھے تین لاکھ روپے تک لاگت آتی ہے۔ ندیم منصور جمالی کا کہنا ہے کہ شہروں اور دیہاتوں میں چند گھر یا محلے شراکت سے متبادل ذرائع کے بجلی گھر لگا سکتے ہیں اور واپڈا اور اس کے بِلوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

سرکاری اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں متبادل ذرائع توانائی پر فی الوقت ایسے علاقوں کی طرف توجہ دی جا رہی ہے جہاں روایتی ذرائع سے بجلی پہنچانا مشکل ہے۔ لیکن توانائی کے حصول کے لیے بدلتی ہوئی راہوں، ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات و قوانین، معاشی مسائل اور وسائل کے بہترین استعمال جیسے عوامل کو مدنطر رکھتے ہوئے پاکستان کو متبادل ذرائع توانائی پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے متبادل ذرائع توانائی کو باقاعدہ صنعت بنانے کی جانب اقدامات اور اس میں سرکاری اور نجی سرمایہ کاری انتہائی اہم ہیں۔

آلٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو عارف علاؤ الدین بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت ڈھائی لاکھ ٹیوب ویل زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ ٹیوب ویل شمسی توانائی پر منتقل کر دیئے جائیں تو ڈھائی ہزار میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔ ملک بھر میں طویل گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ناصرف ملکی صنعت کو مفلوج کر رہی ہے بلکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے سماجی اضطراب کی موجب بھی بنی ہوئی ہے۔ اس لوڈشیڈنگ کی وجہ تین ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ بجلی کی کمی ہے۔

اسی بارے میں