معمر شخص کی قید سے رہائی

Image caption سعید الحق کو انیس سو ننانوے میں رہائی نصیب ہوئی تھی۔

کراچی کی ایک عدالت نے ایک پچاسی سالہ شخص کو ایک نامعلوم شخص کو قتل کرنے کےالزام سے اڑتیس سال بعد بری کردیا ہے، پولیس نے اٹھائیس سال تک سعید الحق کو نہ کبھی عدالت میں پیش کیا اور نہ ہی اس ’بلائینڈ‘ کیس کا چالان پیش ہوا۔

اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل میں گزارنے والے پچاس سالہ سعید الحق کو چھ مارچ انیس سو اکہتر کو کراچی کے تھانے آرٹلری میدان کی حدود میں ہونے والے ایک قتل کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا، پولیس کے پاس موجود ایف آئی آر کی بوسیدہ کاپی میں نہ تو ہلاک ہونے والے کا کوئی نام پتہ ہے اور نہ کوئی گواہ ہے دلچسپ بات یہ ہے اس میں سعید الحق کا نام بھی شامل نہیں ہے۔

اپنی عمر، رشتے دار اور قوت گویائی گنوانے والے سعید الحق کو اس وقت رہائی نصیب ہوئی جب انیس سو ننانوے میں جیل ریفارمز کمیٹی کے رکن ایڈووکیٹ قادر خان مندوخیل سینٹرل جیل کے دورے پر پہنچے۔

ایڈووکیٹ قادر خان مندوخیل نے بتایا کہ جب انہوں نے تفصیلات معلوم کیں تو پتہ چلا کہ وہ پولیس تشدد کی وجہ سے ذہنی توازن اور قوت گویائی کھو بیٹھے ہیں۔

’میں نے اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو خط لکھا کہ ایک ایسا قیدی ہے جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا اس کے بعد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی جس میں آئی جی پولیس ، ایس ایچ او آرٹلری تھانہ اور آئی جی جیلز کو فریق بنایا گیا جب ہائی کورٹ نے ریکارڈ طلب کیا تو پتہ چلا اس کا کوئی ریکارڈ ان کے پاس نہیں ہے۔‘

Image caption سیعد الحق کے کسی رشتہ دار کا پتہ نہیں چل سکا

انیس سو ننانوے میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ناظم حسین صدیقی نے سعید الحق کو دو ہزار روپے کے ذاتی مچلکے پر قادر خان مندوخیل ٹرسٹ کے حوالے کیا اور انہیں اس بات کا پابند بنایا کہ وہ ان کا علاج کرائیں گے اور اگر فائل ملی تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

گزشتہ دس سال سے سعید الحق آزاد ہیں مگر اس عرصے میں نہ تو ان کی قوت گویائی بحال ہوئی اور نہ ہی کسی رشتے دار کا پتہ چل سکا، ملیر میمن گوٹھ میں واقع قادر مندوخیل ٹرسٹ میں ان کی صبح اور شام خاموشی سے ساتھ گذر رہے ہیں۔

قادر مندو خیل نے رواں سال سعید الحق کی بریت کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے متعلقہ آرٹلری میدان پولیس کو نوٹس جاری کیے کہ اس مقدمے کی فائل لیکر پیش ہوں۔

قادر مندو خیل کے مطابق تین تاریخوں کے بعد پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ان کا نہ کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی ملنے کی امید ہے، جس پر عدالت نے انہیں بری کردیا۔

ایڈووکیٹ مندوخیل اس بریت کو غنیمت سمجھتے ہیں مگر ان کہنا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کم سے کم معاوضے کا اعلان تو کیا جاتا۔

ٹی وی چینلز پر چلنے والی تصاویر سے ایڈووکیٹ مندوخیل آس لگائے بیٹھے ہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی ان کو پہچان لے اور انہیں لینے کے لیے آجائے ۔

اسی بارے میں