’عدلیہ کی آزادی کے باوجود کچھ نہیں بدلا‘

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ججز کیس کو ختم کرنےکو زیادہ اہمیت دے رہے ہوتے ہیں بجائے اس کی کہ انصاف کی فراہمی کی جائے:علی احمد کرد
،تصویر کا کیپشن

ججز کیس کو ختم کرنےکو زیادہ اہمیت دے رہے ہوتے ہیں بجائے اس کی کہ انصاف کی فراہمی کی جائے:علی احمد کرد

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کُرد کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے باوجود ابھی تک کچھ نہیں بدلا اور حالات اُسی طرح کے ہی ہیں جو نو مارچ سنہ دو ہزار سات سے پہلے تھے۔

علی احمد کرد نے عدالتی سال شروع ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’فرعونوں‘ کےسامنے پیش ہو رہے ہوتے ہیں جو کیس کو ختم کرنےکو زیادہ اہمیت دے رہے ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ انصاف کی فراہمی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہی رویہ نو مارچ سنہ دوہزار سات سے قبل اعلٰی عدلیہ کے ججوں سے لےکر مقامی عدالتوں کے ججوں کا تھا۔

واضح رہے کہ سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ججوں کی بحالی کی تحریک کی کامیابی کے بعد وکلاء کے کسی سرکردہ رہنما نے کُھل کر ججوں کے رویے کے بارے میں تنقیدی کلمات کہے ہیں۔

علی احمد کُرد نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے شروع کی جانے والی تحریک میں نہ صرف وکلاء نے ان کا ساتھ دیا بلکہ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں وکلاء نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے بھی پیش کیے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر کا کہنا تھا کہ لوگ اُن سے یہی سوال پوچھتے ہیں کہ اس تحریک کی کامیابی کے کیا اثرات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ وکلاء نے جو پٹیشنز دائر کی تھیں اُن میں سے بہت کم درخواستوں کو دیوانی یا فوجداری اپیلوں میں تبدیل کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ایک سو پچاس کے قریب پٹیشنز ریلیف کےلیے دائر کی جاتی ہیں جس میں سے بہت کم کو سول یا فوجداری اپیلوں میں تبدیل کردیا جاتا ہے جبکہ باقی رد کردی جاتی ہیں۔

علی احمد کُرد کا کہنا تھا کہ وکلاء ذمہ دار افراد ہیں اور کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسی بےمقصد پٹیشن دائر کی جائے جس سے عدالت کا قیمتی وقت ضائع ہو۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ فرض ہے کہ وہ وکلاء کو تحمل کے ساتھ سنے۔