عارف نظامی برطرف

پاکستانی اخبارات(فائل فوٹو)

سیڑھیاں اترجانے کی اصطلاح سے پاکستان کے صحافتی حلقے بخوبی آگاہ ہیں لیکن یہ تصور ذرا مشکل تھا کہ ادارہ نوائے وقت کے بانی حمید نظامی کے صاحبزادے، دی نیشن کے ایڈیٹر، عارف نظامی بھی ایک روز سیڑھیاں اتر جائیں گے۔

بھئی سیدھی صحافتی زبان میں بات یہ ہے کہ پاکستان کے موقر انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کے ایڈیٹر عارف نظامی کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔

ویسے تواخبارات میں ایڈیٹر آتے جاتے رہتے ہیں، برطرفیاں تقرریاں اور استعفے بھی پاکستان کی صحافت میں معمول کی بات ہے لیکن یہ ایک ایسے ایڈیٹر کی برطرفی ہے جس کے بارے میں اس پہلے یہ تاثر تھا کہ وہ اخبار کےمالکوں میں سے ایک ہیں۔

عارف نظامی کے والد حمید نظامی نے تئیس مارچ سنہ انیس سو چالیس کو عین اس دن لاہور سے نوائے وقت کا پہلا پرچہ شائع کیا تھا جب لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی۔

تو کہا جا سکتا ہے کہ مینار پاکستان اور اخبار نوائے وقت اس یادگار قومی دن کی دو ایسی نشانیاں ہیں جن کا تعلق براہ راست لاہور سے ہے۔

عارف نظامی اس وقت بچے تھے جب ان کے والد صرف پینتالیس برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ مجید نظامی اپنا الگ اخبار ندائے ملت نکال چکے تھے۔ عارف نظامی کی والدہ نے نوائے وقت کی ادارت سنبھالی اور اپنے کم سن بچوں کے ساتھ اخبار چلانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ چند ہی مہینوں میں نوائے وقت کی اشاعت بہت کم رہ گئی تھی۔

دیور بھابھی میں صلح کے بعد مجید نظامی روزنامہ نوائے وقت کے انتظامی اور ادارتی سربراہ ٹھہرے، بھتیجے عارف نظامی نے ایک عام رپورٹرکی حثیت سے اخبار میں کام کرنا شروع کیا اور سنہ انیس سو چھیاسی میں اس دور کے پنجاب کے واحد نجی انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کی بنیاد رکھ دی۔ پرنٹ لائن پر عارف نظامی کا نام شائع ہوا۔

باہر والوں کے لیے سب کچھ بظاہر ٹھیک چل رہا تھا۔ مجید نظامی اکثر سب کے سامنے عارف نظامی کو ڈانٹ دیتے لیکن کوئی بھی اسے چچا کی شفقت بھری جھڑکی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا، تاہم معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین نکلا جب گزشتہ روز ’دی نیشن‘ کی پرنٹ لائن سے پہلی بار عارف نظامی کا نام ہٹا لیا گیا اور ان کی جگہ صرف رمیزہ نظامی کا نام رہ گیا۔

نوجوان رمیزہ نظامی نوائے وقت گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر چیف ایڈیٹر مجید نظامی کی لے پالک صاحبزادی اور وقت ٹی وی کی چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں۔

عارف نظامی پاکستان میں اخبارات کے مدیروں کی ایک تنظیم سی پی این ای کے منتخب صدر ہیں۔

دی نیشن کے سابق ایڈیٹر عارف نظامی اور موجودہ پرنٹر پبلشر رمیزہ نظامی سے کوشش کے باوجود ٹیلی فون پر رابطہ نہیں ہوسکا البتہ مجید نظامی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ عارف نظامی کی برطرفی کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے وہ دی نیشن کے محض ملازم تھے اور قواعد کے مطابق ملازم کو برطرف کیا جاسکتا ہے۔

عارف نظامی نے اپنی برطرفی کے بعد ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ میں ایک پروفیشنل جرنلسٹ ہوں اور جب کسی صحافی کو برطرف کیا جائے تو اسے صفائی کا موقع دیا جاتا ہے لیکن مجھے تو یہی علم نہیں کہ مجھے کس بات کی سزا دی گئی ہے۔

عارف نظامی کی برطرفی کے بعددی نیشن سے وابستہ درجن بھر کے قریب سنئیر کارکن صحافیوں کے مستعفی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔دی نیشن کے مستعفی ہونے والے ڈپٹی ایگزیکٹو ایڈیٹر سرمد بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا استعفی عارف نظامی سے اظہار یک جہتی بھی ہےاور ایک ایک پیشہ ورایڈیٹر کی برطرفی کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج بھی ہے۔