گلگت بلتستان: اصلاحات پر تحفظات

بلستان، فائل فوٹو
Image caption ہنزہ کو ایک سے زائد نشستیں دینے کے مطالبے کے لیے تمام جماعتوں نے بدھ کو ہنزہ میں ہڑتال اور احتجاجی جلسہ بھی کیا: مقامی صحافی

چھ اضلاع پر مشتمل پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو’گلگت بلتستان‘ کے نام سے نئی انتظامی حیثیت دینے کے بارے میں جاری کردہ صدارتی آرڈیننس پر متعلقہ علاقوں کے زیادہ تر لوگ تو خوش ہیں لیکن اب بھی کچھ معاملات کے بارے میں جہاں گلگت اور بلتستان کے لوگوں کو تحفظات ہیں وہاں بیشتر کشمیری رہنماؤں کو بھی سخت اعتراضات ہیں۔

بیس لاکھ سے زیادہ آبادی اور اور تقریباً تہتر ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے’گلگت بلتستان‘ کے بعض فریقین کا مطالبہ ہے کہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے دور میں ہنزہ اور نگر کو ملا کر ’ہنزہ نگر‘ کے نام سے جو ساتواں ضلع بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ صدر آصف علی زرداری کی جاری کردہ اصلاحات کا حصہ نہیں ہے۔

بعض مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ اعتراض ہنزہ کو قانون ساز اسمبلی میں صرف ایک سیٹ دینے پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی سے لے کر مذہبی جماعتوں تک سب اس بارے میں متفق ہیں کہ ہنزہ کی ایک سیٹ بڑھائی جائے کیونکہ ہنزہ کی آبادی اب سوا لاکھ سے بھی زیادہ ہے اور محض ایک سیٹ کافی نہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ہنزہ سے ملحقہ علاقے نگر کو قانون ساز اسمبلی میں دو نشستیں ہیں تو ہنزہ کی کیوں نہیں؟۔ تمام جماعتوں نے اپنا مطالبہ منوانے کے لیے بدھ کو ہنزہ میں ہڑتال اور احتجاجی جلسہ بھی کیا۔ لیکن تاحال پاکستان کی حکومت نے اس بارے میں کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

’گلگت بلتستان‘ کے نام سے صوبہ نما انتظامی حیثیت سے نئی بننے والی اس اِکائی کے متعلق کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے اعتراضات متعلقہ علاقے کے لوگوں سے یکسر مختلف ہیں۔ علیحدگی پسند کشمیری رہنما امان اللہ خان سے لے کر جماعت اسلامی کے عبدالرشید ترابی سمیت اکثر کو اعتراض گلگت اور بلتستان کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے جدا کر کے علیحدہ انتظامی حیثیت دینے پر ہے۔

یہ اعتراض کرنے والے کشمیری رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اصل میں بیرونی دباؤ کی وجہ سے پاکستان کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے ایک تو کشمیر کی تقسیم کی راہ ہموار ہوجائے گی اور بھارت کو موقع مل جائے گا کہ وہ کنٹرول لائن کو عالمی سرحد تسلیم کرانے کے لیے پاکستان پر دباؤ بڑھا سکے۔

جبکہ حکومت ان کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ پیپلز پارٹی نے شمالی علاقہ جات کے عوام کو سیاسی، انتظامی، مالی اور عدالتی طور پر خودمختار کرنے کا وعدہ پورا کیا ہے۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق گلگت اور بلتستان کے متعلق پہلی بار ذوالفقار علی بھٹو نے انیس سو پچہتر میں اصلاحات کیں، بعد میں انیس سو چورانوے میں بینظیر بھٹو نے اور اب صدر آصف علی زرداری نے خودمختاری دی ہے۔

حکومتی اصلاحات کے مطابق ’گلگت بلتستان‘ کے لیے بالغ رائے دہی کی بنا پر چوبیس اراکین پر مشتمل قانون ساز اسمبلی ہوگی، ان کا اپنا وزیراعلٰی اور گورنر ہوگا۔ نئی انتظامی اِکائی کی اپنی سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، آڈیٹر جنرل اور دیگر اعلیٰ انتظامی افسران ہوں گے۔ اسمبلی کو اکسٹھ معاملات کے بارے میں قانون سازی کا اختیار ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔

’گلگت بلتستان‘ کو آزاد حیثیت دینے کا حکومتی دعوٰی اپنی جگہ لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تمام تر آزادیاں اب بھی اسلام آباد کے ایک حکم کی غلام رہیں گی۔ لیکن اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ اس طرح کی ملنے والی خودمختاری پر بھی بیشتر مقامی لوگ خوش ہیں اور مقامی صحافیوں کے مطابق ہزاروں شہریوں نے سڑکوں پر نکل اپنی خوشی کا اظہار بھی کیا۔

اگر تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو گلگت اور بلتستان کے لوگوں کی اس خوشی کے پیچھے ان کی ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ کی وہ محرومیاں ہیں جو ان کی کئی نسلیں بھگتتی رہی ہیں۔ سولہ مارچ اٹھارہ سو چھیالیس کو جب سکھوں کو شکست دے کر انگریزوں نے امرتسر میں گلاب سنگھ سے ایک معاہدے کے تحت کشمیر کی حکمرانی پچہتر لاکھ روپوں کے عوض گلاب سنگھ کے حوالے کی تو اس وقت گلگت اور بلتستان کشمیر کا حصہ نہیں تھا۔

Image caption پاکستان نے کشمیر کو جب ’آزاد درجہ‘ دیا تو کئی دہائیوں تک کشمیر کا دم چھلا بنے ہوئے شمالی علاقہ جات کو ’آزاد کشمیر‘ میں بھی کوئی مقام نہیں ملا

ڈوگرہ راج دریائے سندھ تک تو تھا لیکن بعد میں جب گلاب رائے کے صاحبزادے رنبیر سنگھ بادشاہ بنے تو ان کی افواج نے گلگت اور بلتستان کو فتح کرکے کشمیر کا حصہ بنا لیا۔ لیکن بعد میں ان کی گرفت کمزور پڑی اور حالات بدلتے رہے لیکن انیس سو سینتالیس کو جب پاکستان بنا تو سنہ اڑتالیس کی پہلی پاک، بھارت جنگ کی اقوام متحدہ نے فائر بندی کروائی اور کنٹرول لائن پر دونوں ممالک میں اتفاق ہوا تو پاکستان کے زیر انتظام آنے والے کشمیر کے ساتھ گلگت اور بلتستان کو بھی شامل رکھا گیا۔

جس کی بڑی وجہ بھارت اور پاکستان کے درمیان منقسم کشمیر کے متلعق اقوام متحدہ کی اکیس اپریل انیس سو اڑتالیس کو منظور کردہ وہ قرارداد تھی جس میں کہا گیا تھا کہ منقسم کشمیر کا حتمی فیصلہ حقِ رائے دہی کی بنا پر کیا جائے گا۔

پاکستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر کو جب ’آزاد درجہ‘ دیا تو کئی دہائیوں تک شمالی علاقہ جات کو ’آزاد کشمیر‘ میں بھی کوئی مقام نہیں ملا۔ اس پورے عرصہ میں شمالی علاقہ جات حقِ رائے دہی کے چکر میں برائے نام تو کشمیر کا حصہ رہا لیکن وہاں کے شہریوں کو بہت سے معاملات میں پاکستانی شہریوں جیسے حقوق یا درجہ بھی نہیں دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس علاقے کے لوگوں نے کارگل کی جنگ میں پاکستان کی لاج رکھی اور لالک نامی سپاہی نے پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا۔

انیس سو تریسٹھ میں جب اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ سرحدوں کے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے توگلگت اور بلتستان سے متصل پانچ ہزار ایک سو اسی مربع کلومیٹر کا علاقہ چین کے حوالے کیا گیا۔ اس معاہدے کے مطابق چین اور پاکستان نے طے کیا کہ جب مسئلہ کشمیر کا معاملہ حل ہوجائے گا تو دونوں ممالک اس علاقے اور سرحدی حد بندیوں کے بارے میں دوبارہ مذاکرات سے معاملات طے کریں گے۔

چار صفحات اور سات شقوں پر مشتل انیس سو تریسٹھ کے پاک، چین معاہدے میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ چین کو دیے گیے علاقے میں آباد لوگ بھی کشمیر کی رائے دہی میں حصہ لیں گے۔ لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک سیاسی رہنما سردار خالد ابراہیم کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے کی رو سے چین کے حوالے کردہ علاقے کے لوگ بھی حق رائے دہی میں حصہ لینے کے حقدار ہیں۔

اسی بارے میں