بگٹی مقدمہ، مشرف سمیت پانچ کو نوٹس جاری

Image caption نواب اکبر بگٹی ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

بلوچستان ہائی کورٹ نے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کی ایک درخواست پر ان کے والد اور بلوچ قوم پرست رہنماء نواب محمد اکبر بگٹی کے قتل کے الزام میں پاکستان کے سابق فوجی صدر اور سابق وزیراعظم سمیت پانچ اہم سیاسی رہنماؤں کواگلے ماہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے صوبہ سرحد کے گورنر کو آئینی عہدے پر فائز ہونے کے دوران عدالت میں طلب کرنے یا نہ کرنے کے لیے آٹارنی جنرل آف پاکستان سے وضاحت بھی طلب کی ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جمعہ کے روز بلوچ قوم پرست رہنماء نواب محمداکبر بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر کی اس درخواست کوسماعت کے لیے منظور کیا۔

نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے وکلاء حادی شکیل ایڈوکیٹ اور سہیل راجپوت نے عدالت میں پیش ہوکر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواب بگٹی کی ہلاکت کا واقع کوہلواور ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقے میں ترتانی میں پیش آیا ہے اور نواب بگٹی کی میت کو بھی ڈیرہ بگٹی میں سپرد خاک کیا گیا ہے لہذا نواب بگٹی کے قتل کی ایف آئی آر ڈیرہ بگٹی میں درج کی جائے۔

اس موقع پر حکومت کی جانب سے پراسیکوٹرجنرل ملک ظہور احمد شاہوانی ایڈوکیٹ پیش ہوکر اصل صورتحال معلوم کر نے کے لیے عدالت سے مہلت طلب کی لیکن عدالت نے انہیں مزید وقت نہیں دیا۔

دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سابق وزیراعظم شوکت عزیز سابق وفاقی وزیرداخلہ آفتاب احمدخان شیرپاؤ، بلوچستان کے سابق وزیراعلی اور مسلم لیگ ق کے صوبائی صدر میرجام محمد یوسف اور سابق صوبائی وزیرداخلہ میرشعیب نوشیروانی کو سات اکتوبر کوعدالت میں پیش ہونے کا نوٹسں جاری کیا ہے۔

عدالت نے بلوچستان کے سابق اور صوبہ سرحد کے موجودہ گورنر اویس احمد غنی کے آئینی عہدے پر فائز ہونے کے دوران عدالت میں طلب کرنے کے بارے میں اٹارنی جنرل آف پاکستان سے وضاحت طلب کی ہے۔

جمیل اکبر بگٹی نے منگل کے روز بلوچستان ہائی کورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈیرہ بگٹی بمقام سبی محمد انور گوہر کے چار ستمبر کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں مذکورہ جج نے جمیل اکبر بگٹی کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترتانی کا علاقہ ضلع کوہلو میں آتا ہے اس لیے اس واقعہ کی سماعت ضلع ڈیرہ بگٹی کی عدالت بمقام سبی میں نہیں ہو سکتی۔

جمیل اکبر بگٹی نے سابق صدر اور دیگر شخصیات کے خلاف اپنی درخواست میں دعوی کیا ہے کہ ان کے والد نواب اکبر بگٹی اور دیگر سینکڑوں بگٹی بلوچوں کو سال دوہزار چھ میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کردیاگیاہے، لہذا اس وقت کے فوجی صدر ریٹائرڈ جنر ل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیرداخلہ اور پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے سربراہ آفتاب احمدخان شیرپاؤ، بلوچستان کے سابق وزیراعلی اور مسلم لیگ ق کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی میرجام محمد یوسف اور سابق صوبائی وزیرداخلہ و رکن صوبائی اسمبلی میرشعیب نوشیروانی کے خلاف نواب بگٹی اور دیگر بلوچوں کے قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں قانون کے مطابق سزادی جائے۔

اسی بارے میں