’دیکھتےہی گولی مارنے کی خبر میں نےپڑھی‘

جنرل ضیاء
Image caption جنرل ضیاء نے ایک منتخب وزیرِ اعظم کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگا دیا

پانچ جولائی سن ستتر کی صبح بڑی روشن سی لگی، دھوپ بکھری پڑی تھی۔ مجھے اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ یہ تو شب گزیدہ سحر تھی۔ ریڈیو پاکستان کے صبح سات بجے کے بلیٹن میں ملک میں مارشل لاء لگنے کی خبر نشر ہو چکی تھی۔ مگر کیوں! میں نے سوچا، ابھی رات کو ہی آخری بلیٹن میں بھٹو صاحب اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان اختلافات طے پا جانے کی خبریں سن کر سب کی جان میں جان آئی تھی۔

بلکہ ریڈیو پاکستان کے نیوز سکیشن میں تو یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ پانچ جولائی صبح چھ بجے بھی مسٹر بھٹو اور پاکستان قومی اتحاد کے درمیان معاہدے کی خبر نشر ہوئی تھی، مگر سات بجے کا بلیٹن آن ائیر جانے سے قبل ایک فوجی نے سٹوڈیوز میں گھس کر بلیٹن کو رکوایا اور مارشل لاء کی خبر نشر کروائی۔ ریڈیو پاکستان کے نیوز بلیٹن ان دنوں راولپنڈی کی ایک رہائشی کوٹھی میں بنائے گئے عارضی سٹوڈیوز سے نشر ہوتے تھے۔

شنید ہے کہ فوجی جماعت سٹوڈیوز کے بارے میں لاعلم تھی۔ اس لیے بروقت نہیں پہنچ پائی۔ ویسے اس منظر میں جھانکے کے لیے کوئی زیادہ دور تو جانے کی ضرورت نہیں، اس کا ایکشن ری پلے بہت سوں نے بارہ اکتوبر 99 کو بھی دیکھا ہے، مشرف کے ’کو دِتا‘ (غیر قانونی طور پر حکومت ہتھیانے) کے وقت۔ جب ایک فوجی نے اسلام آباد ٹی وی پر انگلش نیوز ریڈر شائستہ زید کے سامنے سے بلیٹن کھینچ لیا تھا۔ مگر بھئی اگلی دفعہ پہلےسوچ لیجئے گا کہ اب تو کوئی تیس چینلوں پر خبریں نشر ہو رہی ہوتی ہیں۔

خیر یہ بات ہے جنرل ضیاء والے ’کودتا‘ کی جس کے بعد لاہور کے نیوز روم میں شام کے بلیٹن کی تیاری ہو رہی تھی۔ ماحول بہت ہی افسردہ اور خوفزدہ تھا۔ گو پیپلز پارٹی کی مقبولیت کاگراف سن ستر کے مقابلے میں نیچے آ چکا تھا مگر پھر بھی پارٹی کے چاہنے والوں کی اکثریت تھی۔

بھٹو صاحب الصبح دو اور تین بجے کے درمیان گرفتار کیے جا چکے تھے، مگرجنرل ضیاء کے میڈیا مشیر کرنل سالک کی جانب سے جاری شدہ ہینڈ آؤٹ کے احکامات تھے کہ وزیر اعظم کے لیےگرفتار یا معزول کا لفظ استعمال نہ کیا جائے۔ ایڈیٹر صاحبان ممتاز حمید راؤ، جاوید پراچہ اور خالد محمود ربانی اسی مخمصے میں سر جوڑے بیٹھے تھے کہ کیا کہا جائے۔ عملاً بھٹو صاحب کوگرفتار کرکے مری کے ایک گیسٹ ہاؤس میں پہنچا دیا گیا تھا۔مگر حکم عدولی کی مجال کہاں۔ جو میں نے پڑھا وہ یہ تھا کہ فوج نے وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو اپنی حفاظت میں لے کر حالات کی بہتری تک ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے۔

پانچ جولائی کا دن پُر اضطراب خاموشی میں گزر گیا۔ شام گہری ہونے لگی تو لاہور کے فوجی کمانڈر کی جانب سے ایک اور حکم نامہ آ گیا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ رات بارہ کے بعد گھر سے نکلنا بھی مت کہ شہر میں کرفیو نافذ کر دیاگیا ہے۔ ہینڈ آؤٹ کے کوئی بارہ نکات میں سے ایک یہ تھا کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے گی۔ یہ ہینڈ آؤٹ رات گیارہ اور بارہ بجےمیں نے پڑھے۔

میرے لیے یہ بلکل اچھوتا تجربہ تھا۔ پڑھتے ہوئے مجھ پر ہیبت طاری تھی کہ اگر کوئی لفظ غلطی سے بھی غلط ادا ہوا توکہیں مجھے باہر نکلتے ہی گولی نہ مار دیں۔

شفٹ ختم ہونے تک نیوز روم کے عملے کے کرفیو پاسسز بن کر آ چکے تھے۔ تو لیجئیے اب ہم اپنے ہی شہر، اپنی ہی گلیوں میں چلنے پھرنے کے لیے بھی ایک فوجی مہرکے محتاج ہو چکے تھے۔

کرفیو کے باعث نیوز کا عملہ ایک ساتھ دوگاڑیوں میں مختلف سمتوں میں اپنے گھروں کو روانہ ہوا۔ میرے ایک ساتھی سہیل ظفر بولے صاحب کچھ بھی ہو مگر ہماری فوج وقت کی بہت پابند ہے، دیکھنا ٹھیک بارہ بجے سٹرکوں پر آچکی ہوگی۔ مگر شہر خموشاں اورگرم ہواؤں کی سائیں سائیں کے سوا ان سٹرکوں پر کسی فوجی کا دور دور تک کوئی نام نشان نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر ایک اور ساتھی نے لقمہ دیا: ’بس جی بس یہ ہاتھی کے دانت ہیں، ڈراتے ہیں اور وہ بھی اپنے ہی لوگوں کو۔‘ راستے بھر اس قسم کی گفتگو ہوتی رہی کیونکہ لوگوں کو ابھی ڈھاکہ کا ڈوبنا ہی نہیں بھولا تھا۔

مگرہم سب کے لیے اچھنبے کا باعث ہوا جب ہم اپنے کچھ ساتھیوں کو چھوڑنے اندرون شہر گئے۔ لاہور کے رہنے والے جانتے ہیں کہ یہ علاقہ لاہور کا دل کہلاتا تھا۔ یہاں روایتی کھانوں کی دکانیں رات گئے تک کھلی رہتی تھیں۔ دن بھر کی تپش کے بعد جب رات بھیگتی تھی تو زندہ دلان لاہور ان دکانوں کا رخ کرتے تھے۔ اُس وقت فیشن ایبل اور ماڈرن قسم کے ایئر کنڈیشڈ ہوٹل ذرا کم ہی تھے۔ دکانوں کے سامنے معمول کی رونق تھی۔ لوگ کھانے کھاتے اور خوش گپیوں میں مصروف نظر آئے۔ بہت ممکن ہے بہت سے کرفیو کے بارے میں لا علم ہوں۔ یا پھر۔۔۔۔۔ خیر چھوڑیں احمد ندیم قاسمی کی غزل کا یہ شعر سنیں۔ یہ انہوں نے اپریل 1979 میں لکھی تھی۔

طوفاں ہے اگر گھر کے درپے یوں بیٹھ نہ جاؤ کچھ تو کرو

کھڑکی کے شکستہ شیشے پر کاغذ ہی لگاؤ کچھ تو کرو

Image caption نیوز ایڈیٹر خالد محمود ربانی جو مارشل لاء لگنے کے چند روز بعد معطل ہوئے

ایک یا دو روز بعد جنرل ضیا الحق لاہور آئے۔ مارشل لاء ڈکٹیٹر کی حیثیت سے ان کی یہ پہلی نیوز کانفرنس تھی۔ بولے فوج کو تو مجبوراً جمہوریت بچانے کے لیے مداخلت کرنی پڑی۔ بہت خوب۔

نوک خنجر سے سلے زخم ندیم

کیا عجب طرز مسیحائی ہے

جنرل ضیاء نے پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر طنز کرتے ہوئے خاص طور سے ٹی وی کو ہدایت کی کہ ’مجھے بیجا تشہیر کا کوئی شوق نہیں، جب تک بہت ضروری نہ ہو میری تصویر ٹی وی پر نہ دکھائی جائے۔‘ رات کو خبروں میں جنرل ضیا کی پریسں کانفرنس کی خبر تو نشر ہوگئی مگر اس کی فٹیج نہ دکھائی جا سکی کیونکہ فٹیج کو ڈائریکٹر نیوز کی ہدایت پر کرنل سالک کے ہاتھ راولپنڈی بھیجا جانا تھا۔ جہاں سے اسے نشر ہونا تھا۔ مگر کیمرہ مین کے ائیرپورٹ پہنچنے سے پہلے جنرل ضیا کا جہاز پرواز کر چکا تھا۔ ذاتی تشہیر نہ چاہنے والے جرنیل یا پھر ان کے مشیر نے اگلے ہی روز ہمارے سینیئر ایڈیٹر خالد محمود ربانی کو اس ناکردہ جرم پر معطل کر دیا کہ جنرل ضیاء کی پریس کانفرنس چلنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔

اس میں تو شک نہیں کہ صحافیوں کے لیے وہ ایک تاریک دور تھا۔ کئی ساتھیوں نے جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے۔ مگر میں یہ ہی کہوں گی کہ آمریت کی نوکِ خنجرکا پہلا شکار پاکستان ٹیلی وثرن کے نیوز ایڈیٹر خالد محمود ربانی تھے۔ ربانی صاحب بحال تو ہوئے مگر لاہور سے راولپنڈی منتقلی اور معذولی کے ساتھ۔ سن نوے میں میرے ٹی وی چھوڑنے کے بعد ربانی صاحب اپنے دو کم عمر بچوں اور اہلیہ کے ساتھ لاہور جاتے ہوئے کار کے ایک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

آئندہ جمعے کو پھر ملاقات ہوگی۔

اسی بارے میں