کوہاٹ دھماکہ، ہلاکتیں چالیس ہوگئیں

Image caption ملبہ اٹھانے کا کام سنیچر کی شام تک جاری رہا

صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں جمعہ کو ہونے والے خودکش کار بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چالیس ہوگئی ہے جبکہ چھتیس افراد زخمی ہیں۔

مقامی پولیس کے ترجمان فضل نعیم نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کو بتایا ہے کہ دھماکے سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے مزید سات لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد چالیس تک پہنچ گئی ہے۔

خودکش حملے سے تباہی: تصاویر

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد متاثرہ علاقے سے ملبہ اٹھانے کا کام سنیچر کی شام تک جاری رہا۔ ادھر دھماکے کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ جمعہ کی دوپہر کوہاٹ سے قریباً سترہ کلومیٹر دور استررزئی کے کچہ پخہ چوک میں ایک کار میں سوار خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ اس دھماکے سے نہ صرف حملہ آور کی گاڑی بلکہ آس پاس کی زیادہ تر عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں اور دھماکے کی جگہ پر ایک گہرا گڑھا بن گیا تھا۔

مقامی پولیس کے اہلکار علی حسن نے بی بی سی اردو کے دلاور خان وزیر کو بتایا تھا کہ اس علاقے میں زیادہ تر دوکانیں اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی تھیں اور ہلاک ہونے والوں میں سے بھی زیادہ کا تعلق اہل تشیع سے ہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ انہیں کچھ عرصے سے طالبان سے دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔

Image caption دھماکے سے قریبی دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک عینی شاہد محرم علی شاہ نے بتایا تھا ’لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور حکومت کی جانب سے کسی قسم کی مدد نہیں پہنچی۔ آرمی کے کچھ اہلکار پہنچ گئے ہیں اور وہ لوگوں کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دھماکے سے اردگرد کی دوکانیں مکمل طورپر زمین بوس ہوگئی ہیں اور ملبے کے نیچے لاشیں موجود ہیں لیکن یہ معلوم نہیں کہ ملبے کے نتچے کتنے لوگ دبے ہوئے ہیں۔‘

لشکرِ جھنگوی العالمی نامی ایک تنظیم نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ خود کو تنظیم کا ترجمان ظاہر کرنے والے عثمان حیدر نامی شخص نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ حملہ ان کی تنظیم کے اہم رہنما مولانا امین کی ہلاکت کا بدلہ ہے۔

یاد رہے کہ اسررزئی کا علاقہ ضلع ہنگو کے سرحد پر واقع ہے جہاں پہلے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ بڑی تعداد میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں