وزیرستان: ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا

وزیرستان میں فوج
Image caption وزیرستان کے حوالے سے سیاسی حکومت کا بھی کردار بہت اہم ہے

پاکستان میں سویلین اور فوجی اہلکار سوات کے بعد اب دوبارہ قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان کا رخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس بارے میں آج کل اعلٰی حلقوں میں سوچ بچار جاری ہے تاہم اس کا فیصلہ زمینی حقائق اور سوات میں مکمل کامیابی کے حصول کے بعد ہی کیے جانے کی توقع ہے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے امریکہ کے دورے پر ایک بیان میں اس جانب یہ کہتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ اس بابت صلاح مشورے جاری ہیں۔ دوسری جانب پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے منسوب ایک بیان کے مطابق فوجی کارروائی ہونی ہے تاہم ابھی اس کے آغاز کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

ماضی میں قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان میں غلط پالیسی کی بنیاد پر ہونے والی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں فریقین نے بھاری جانی نقصانات اٹھانے کے مقابلے میں کامیابیاں کم ملی ہیں۔ عام شہری کی زندگی اجیرن ہونا، حکومتی رٹ اور حکومت نواز قبائلی سرداروں کا مکمل خاتمہ اس نقصان کے علاوہ ہے۔

اعلٰی فوجی قیادت نے گزشتہ دنوں ایک اجلاس میں تمام صورتحال کا جائزہ بھی لیا تھا۔ تاہم کسی فیصلے پر وہ پہنچ سکے یا نہیں اس بارے میں صورتحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔ اس بابت حکومت اور فوج کو اندرونی و بیرونی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے لیے جنوبی وزیرستان میں کسی بھی کامیاب زمینی کارروائی کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ انٹیلجنس نیٹ ورک کا فقدان ہے۔ اعلٰی فوجی حکام اس خطے کو انٹیلیجنس کے اعتبار سے ’بلیک ہول‘ قرار دیتے ہیں۔ دشمن کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اندھے حملوں سے دوسری جانب عام شہریوں کو زیادہ نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ لہٰذا کسی بھی کارروائی سے قبل سکیورٹی فورسز کو اس اہم علاقے میں اپنا خفیہ نیٹ ورک دوبارہ فعال کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر یہ اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارنے والی بات ہوگی۔

کسی بھی زمینی کارروائی سے قبل سکیورٹی فورسز کو اس علاقے میں اپنی موجودگی کو بڑھانا ہوگا۔ اکا دکا قلعے اور چوکیاں اب بھی فوجیوں کے زیرِاستعمال ہیں انہیں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ان قلعوں پر حملے شدت پسندوں کا سب سے محبوب مشغلہ ہے۔ محسود علاقوں سے اسی طرح فوجیوں کو نکالنے کے بعد اب وہ شمالی وزیرستان کے رزمک جیسے علاقوں میں یہی کچھ کر رہے ہیں۔

اس بابت سکیورٹی فورسز کو مقامی قبائل کی مدد کی بے انتہا ضرورت ہوگی۔ وہ ہی ان قلعوں کے گرد پہلی لائن آف ڈیفنس کا کام کریں گے۔ اس بابت افغانستان میں امریکیوں نے جو پالیسی اپنائی ہے وہ یہاں بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ امریکی اپنے اڈوں کے ارد گرد کی آبادی کے نوجوانوں کو اڈے پر روزگار دیتے ہیں۔ وہ ایسے ہفتہ وار اخبارات ان اڈوں سے شائع کرواتے ہیں جو شاید اڈے سے باہر کم ہی جاتے ہیں۔ بس پڑھے لکھے نوجوانوں کو مصروف رکھنے کا ایک بہانہ ہیں اور اگر اسی طرح ان جریدوں کو پڑھ کر کسی کا دل موم ہوتا ہے تو وہ اضافی فائدہ ہے۔

پھر پاکستانی اور امریکی حکام کو فضائی طاقت کے استعمال میں ایک دوسرے کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنی ہوگی۔ گزشتہ چند ماہ میں امریکیوں نے ڈرون اور پاکستانیوں نے ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں کے ذریعے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے لیکن مشترکہ کارروائی بظاہر نہیں کی ہے۔ اندرون خانہ اگر تعاون ہے تو ہے، کھل کر اس کی بات کوئی نہیں کرتا۔

لیکن ماہرین کے مطابق ایسا کرتے ہوئے حکومت کو اس بات کی احتیاط کرنی ہوگی کہ وہ یہ کارروائی امریکی ایماء پر کرتے ہوئے دکھائی نہ دے۔ سوات میں امریکی دباؤ میں آپریشن کا کوئی الزام سامنے نہیں آیا کیونکہ شدت پسندوں نے امن معاہدوں کی خلاف ورزیاں کر کے خود کو عوام کی عدالت میں گناہ گار ثابت کر دیا تھا۔ سوات کی جنگ اس وجہ سے پہلی مرتبہ اپنی جنگ کہلائی، امریکہ کی نہیں۔

سوات میں سیکھا ایک اور سبق وزیرستان میں حکومت کے کافی کام آئے گا۔ شدت پسندوں کے مظالم اور زیادتیاں ثبوت کے ساتھ اگر عوام میں آئیں گی تو عوامی رائے کارروائی کے حق میں ہوگی۔

فوجی حکام کے مطابق سوات میں ابھی کافی کام باقی ہے۔ صرف ہزاروں کی تعداد میں حراست میں لیے گئے مشتبہ شدت پسندوں کی ہی بات کریں تو ان کے مستقبل کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ عدالتی یا پولیس نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان سے جلد از جلد نمٹنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ مناسب قید خانے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں محض حراست میں رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں نئی مہم جوئی مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

فوج کا کئی جگہوں پر شدت پسندوں کے خلاف مصروف ہونا بھی اس کے لیے بڑا درد سر بن سکتا ہے۔ کئی قبائلی علاقوں کے علاوہ بڑی تعداد میں فوج مالاکنڈ میں بھی مصروف ہے۔ ایک نیا فرنٹ کھولنے سے اسے وزیرستان میں شاید سوات سے زیادہ فوجی جھونکنے پڑیں۔ اس کا جائزہ بھی یقیناً اعلٰی فوجی قیادت کے ذہنوں میں ہوگا۔

ان چند اہم پہلوں کے علاوہ مزید بہت سے پہلو ہیں جن پر سوچ بچار کے بعد ہی کوئی نیا محاذ کھولنے کے بارے میں فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ لیکن ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ایک قدرے مختلف اقدام اس مرتبہ ایک جامع منصوبے کے ساتھ طویل مدتی بنیاد پر فوج کو وزیرستان جا کر علاقے کی صفائی کرنی ہوگی بلکہ وہاں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ عسکریت پسند واپس نہ لوٹ سکیں۔ اس بابت سیاسی حکومت کا بھی کردار بہت اہم ہے۔ اسے ہنگامی بنیادوں پر پولیٹکل ایجنٹ یا جو بھی دوسرا نظام ہو اسے نافذ کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ ماضی قریب کی تاریخ لوگوں ابھی بھولے نہیں ہیں۔

اسی بارے میں