پشاور دھماکہ: ذمہ داری اور مقاصد

پشاور دھماکہ
Image caption مبصرین کے مطابق طالبان ان دھماکوں کی ذمہ داری نہیں قبول کرتے جن میں عام شہریوں کو نشانہ بنایاجاتا ہے

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں تقریباً پندرہ دنوں کے بعد ایک اور مبینہ خودکش حملے میں ایک بار پھر بظاہر عام آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں چالیس سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے سولہ ستمبر کو پشاور کے مصروف صدر بازار میں ایک کار بم دھماکہ ہوا تھا جس میں کم از کم گیارہ عام شہری لقمہ اجل بن گئے تھے۔اُسی دن صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں بھی ایک پولیس تھانے پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں پندرہ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

بنوں میں خودکش حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔حکیم االلہ محسود کے قریبی ساتھی کمانڈر اور خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ قاری حُسین نے بی بی سی کو ٹیلیفون کر کے بتایا تھا کہ طالبان کچھ عرصے سے خاموش ہوگئے تھے لیکن اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ طالبان کمزور پڑ گئے ہیں۔

قاری حسین نے اس مرتبہ پشاور کار بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی تاحال کسی اور نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بنوں اور پشاور کار بم دھماکوں سے پہلے کوہاٹ کے علاقے استررزئی میں بھی شیعوں پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کی ذمہ داری العالمی نامی ایک نئی شدت پسند تنظیم نے قبول کرلی تھی۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے ایک بااثر عالم دین مولانا محمد امین کے قتل کے بدلے میں کیا گیا ہے۔

دھماکہ اہل تشیع کے علاقے میں ہوا تھا لیکن اس میں اہل سنت و الجماعت کے کئی افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی سکیورٹی فورسز یا اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں پر حملہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری تو مقامی طالبان یا کسی دوسرے شدت پسند تنظیم کی جانب سے فوری طور پر قبول کرلی جاتی ہے، لیکن جب کسی بازار، مارکیٹ یا کسی اور ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں عام شہری زیادہ ہوتے ہیں، تو طالبان یا عسکریت پسند تنظمیں اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق ان دھماکوں میں بھی طالبان یا حکومت مخالف تنظیموں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان شہریوں کے علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری اس لیے قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی عام لوگوں میں حمایت میں کمی کا احتمال ہوتا ہے۔

گزشتہ ایک دو ماہ کے دوران صوبہ سرحد میں جتنے بھی بم دھماکے یا خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر واقعات میں شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے یعنے ان میں بیشتر عام شہری ہی ہلاک ہوئے ہیں۔

بعض مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بظاہر پبلک مقامات پر حملوں کا مقصد طالبان کی جانب سے حکومت پر ایک قسم کا دباؤ ڈالنا ہوسکتا ہے کیونکہ اس وقت پاکستانی سکیورٹی فورسز سوات سے لیکر وزیرستان تک مختلف علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔

بعض علاقوں میں تو حکومت نے باقاعدہ کارروائیاں شروع نہیں کی ہیں لیکن میڈیا میں اس کا اعلان بہت پہلے سے کیا گیا ہے۔ جس طرح جنوبی وزیرستان میں حکومت نے مقامی طالبان کے خلاف دو دفعہ آپریشن کرنے کا اعلان کیا لیکن تین مہینے گزرنے کے باجود بھی وہاں باقاعدہ طورپر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی قبائلی علاقوں میں آپریشن کے حوالے سے تاحال کوئی واضح پالیسی سامنے آسکی ہے۔

وزیرستان کوئی عام علاقہ نہیں بلکہ وہاں تو طالبان کی مرکزی لیڈرشپ موجود ہے، اس کے علاوہ غیر ملکی بھی ہیں۔ ایسے علاقے کے بارے میں کارروائی سے پہلے میڈیا میں اس کا چرچا کرنا باعث حیرت ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کی یہ بھی رائے ہے کہ جب سے وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا اس کے بعد سے ملک میں دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

آپریشن کا اغاز ابھی تک نہیں ہوسکا لیکن دھماکوں میں تیزی آرہی ہے۔

اسی بارے میں