سرحد:شدت پسندی کی فکری ہیئت، تنظیمی ساخت

صوبہ سرحد کے مالاکنڈ ڈویژن میں بالخصوص سوات میں کئی سالوں سے فوجی کارروائی جاری ہے مگر اس دوران ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے کہ اس کے خلاف صوبے اور ملک کے دیگر علاقوں میں عسکریت پسندوں کی جانب سے کچھ خاص پرتشدد ردعمل سامنے آیا ہو۔

لیکن دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ہر بار باقاعدہ فوجی کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی اس کے خلاف زوردار انداز میں ردعمل سامنے آتا ہے کہ نتیجے کے طور پر سیاسی اور فوجی قیادت طاقت کی بجائے گفت وشنید پر غور کرنا شروع کردیتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

جواب ڈھونڈھنے کے لیے پاکستان کے اندر موجود مختلف شدت پسند تنظیموں جو تحریکِ طالبان پاکستان کے نام سے ایک ’چھتری تلے‘ جمع ہوئی ہیں ان کی تنظیمی ساخت، سیاسی وابستگیاں، فکری ہیئت، مفادات، مقاصد اور نسلی پسِ منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن

طالبان کا سب سے زیادہ فعال نیٹ ورک مولانا فضل اللہ کی سربراہی میں وادی سوات میں سرگرم عمل تھا اور ہے بھی۔ اپر، لوئر دیر، بونیر، اور شانگلہ میں تنظیم کی قدرے ڈھیلی ڈھالی تنظیمی ساخت موجود ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن کے ساتھ اگر باجوڑ، خیبر اور مہمند ایجنسی کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہاں پر موجود ’طالبانائزیشن‘ کی تصویر کچھ اور بھی واضح ہوجائے گی۔ صوبہ سرحد اور وفاق کے زیر انتظام یہ قبائلی علاقے جغرافیائی لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں لہٰذا باقی قبائلی علاقوں کی نسبت یہاں طالبانائزیشن کی فکری، سیاسی اور مذہبی مقاصد کچھ حد مختلف نظر آتے ہیں۔

Image caption مالاکنڈ ڈویژن میں طالبان نے شرعی سزاؤں پر زیادہ زور دیا

پہلے یہاں کی طالبانائزیشن کے سیاسی اور مذہبی پہلو پر نظر ڈالتے ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں عسکریت پسندی کی بلا واسطہ طور پر فروغ پانے کا سبب بنتی ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن میں چار سیاسی پارٹیاں ایسی ہیں جن کی جڑیں عوام میں گہری ہیں۔ ان میں سیکولر عوامی نینشل پارٹی اور پیپلز پارٹی بالترتیب پارلیمانی لحاظ سے سرفہرست ہیں جبکہ مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی تیسرے اور جمیعت علماء اسلام چوتھے نمبر پر سب سے بڑی جماعتیں سمجھی جاتی ہیں۔

اے این پی اور پیپلز پارٹی تو فکری اور سیاسی لحاظ سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنےمیں عملی طور پر مصروف عمل ہیں جبکہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی احتجاج تو کرتی ہیں مگر ان میں جماعت اسلامی کی آواز اس لیے زیادہ توانا ہوتی ہے کہ ضلع دیر میں وہ ایک مضبوط جماعت ہے۔ لہٰذا اکثر دیکھا گیا ہے کہ مالاکنڈ اور باجوڑ ایجنسی میں جماعت اسلامی کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی پر احتجاج جے یو آئی کے مقابلے میں شدید ہوتا ہے۔

عمومی طور پر ان دونوں جماعتوں کے اندر عسکریت پسندوں کے لیے نرم گوشہ تو موجود ہی ہے مگر یہاں پر عسکریت پسندی کے فروغ کے لیے جس تنظیم نے زیادہ فکری اور سیاسی میدان فراہم کیا ہے وہ ہے مولانا صوفی محمد کی کالعدم تنظیم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی۔ یہ تنظیم انیس چورانوے سے مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کے نفاذ کے لیے مسلح جدوجہد کرتی چلی آرہی ہے اور مولانا فضل اللہ کی قیادت میں مالاکنڈ ڈویژن میں جتنے بھی عسکریت پسند سرگرم ہیں ان کی فکری آبیاری اور سیاسی وابستگی تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ رہی ہے۔

Image caption عسکریت پسندی کے فروغ کے لیے مولانا صوفی محمد کی تنظیم نے زیادہ فکری اور سیاسی میدان فراہم کیا ہے

مالاکنڈ ڈویژن، باجوڑ اور خیبر ایجنسی میں سرگرم طالبان کی سوچ پر پنچ پیری مسلک زیادہ حاوی رہی ہے۔ اس علاقے میں اس مسلک کی بنیاد آئی ایس آئی کے سابق میجر عامر کے والد مولانا طاہر نے رکھی تھی۔ پنج پیر صوابی کا ایک علاقہ ہے جہاں سے مولانا صوفی محمد، خیبر ایجنسی میں پنچ پیری مسلک کے پرچارک مفتی منیر شاکر، باجوڑ طالبان کے سربراہ مولانا فقیر محمد اور خیبر ایجنسی میں لشکرِ اسلام کے سربراہ منگل باغ نے بھی چند دنوں تک مذہبی تعلیم حاصل کی ہے۔ خود مولانا فضل اللہ کا تعلق بھی پنچ پیری مسلک سے ہے۔ پنچ پیری مسلک کو سعودی عرب کے مولانا عبدالوہاب نجدی کی سخت گیر اسلامی سوچ جس کے لیے وہابیت کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے کو ایک مقامی شکل سمجھا جاسکتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو جنوبی اور شمالی وزیرستان سمیت دیگر قبائلی علاقوں کے مقابلے میں مالاکنڈ ڈویژن، باجوڑ، خیبر اور ایک حد تک مہمند ایجنسی میں سرگرم طالبان نے معاشرے کو اپنی سوچ کے مطابق اسلامی قالب میں ڈھالنے کی جبری کوشش کی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے شرعی سزاؤں پر زیادہ زور دیا ہے۔ نوجوان لڑکی کو ناجائز تعلقات رکھنے پر سرِ عام کوڑے مارنا، تنازعات کا شرعی حل نکالنا، موسیقی، لڑکیوں کی تعلیم ، شیو بڑھانے پر پابندی، مزاروں پر حملے اس کی کئی مثالیں ہیں۔

وزیرستان

اب ذرا جنوبی، شمالی، کرم ، اورکزئی اور صوبہ سرحد کے ان علاقوں میں جنکی سرحدیں ان قبائلی علاقوں سے ملتی ہیں موجود عسکریت پسندوں کی سیاسی، فکری، نسلی اور تنظیمی ساخت پر نظر ڈالتے ہیں۔

اگر یہاں کی عسکریت پسندی کے حوالے سے صرف جنوبی اور شمالی وزیرستان کو نمونے کے طور پر لیا جائے تو تصویر زیادہ واضح ہوجائے گی۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان کو پاکستان یا کہیں اور شرعی نظام کے نفاذ سے زیادہ غرض نہیں ہے بلکہ یہاں پر مختلف النسل جہادیوں کی موجودگی کی وجہ سے اس میں ’بین الاقوامی جہاد‘ کی جھلک زیادہ واضح نظر آتی ہے۔

Image caption وزیرستان میں ’انٹر نینشل جہادی نیٹ ورک‘ کی موجودگی کی وجہ سے کسی بھی فوجی کارروائی کا ردعمل زیادہ شدید ہوتا ہے

جنوبی اور شمالی وزیرستان میں سرگرم طالبان مالاکنڈ، خیبر، مہمند اور باجوڑ ایجنسی کے طالبان کی مانند معاشرے کو اپنی سوچ کے مطابق اسلامی قالب میں ڈھالنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ میں جب دو سال قبل وانا گیا تھا تو میں نے ملا نذیر کے زیر کنٹرول علاقوں میں لڑکیوں کو یونیفارم میں سکول جاتے ہوئے دیکھا اور موسیقی سننے پر پابندی نہیں تھی۔ایسے نوجوان بھی نظر آئے جنہوں نے شیو بنائی ہوئی تھی۔ جب پچھلے سال تحریکِ طالبان کے مقتول سربراہ بیت اللہ محسود کی دوسری شادی ہورہی تھی تو اس موقع پر طالبان نے ڈھول کی تھاپ پر مقامی رقص کیا تھا۔

ان علاقوں میں جمیعت علماء اسلام واحد سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے جو فکری لحاظ سے دیوبندی ہے۔ یہاں کے زیادہ تر طالبان کا تعلق جے یو آئی سے ہے۔ بیت اللہ محسود، ملا نذیر، حافظ گل بہادر، مفتی ولی الرحمٰن اور دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت جے یو آئی کے سرگرم ارکان رہ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی کی بجائے جے یو آئی کسی بھی فوجی کارروائی پر زیادہ واویلا کرتی ہے اور ہمیشہ ہی امن مذاکرات میں پیش پیش رہی ہے۔

مقامی طالبان کے علاوہ یہاں پر ’انٹر نینشل جہادی نیٹ ورک‘ کی موجودگی ہی کی وجہ سے کسی بھی فوجی کارروائی کا ردعمل زیادہ شدید ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں القاعدہ کے عرب جنگجوؤں، ازبکستان، افغانستان، ترکمنستان، چیچن، سینکیانک، کشمیر اور ملک کے اندر فرقہ ورانہ فسادات میں سرگرم جہادی تنظیمیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی نے امریکہ، یورپی ممالک اور خطے کے دیگر ملکوں، چین، ایران ، انڈیا، افغانستان، وسطی ایشیائی ممالک کو زیادہ ہی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

مذکورہ تنظیموں کی مذہبی سوچ، نسلی پسِ منظر اور ذیلی مقاصد مختلف تو ہوسکتے ہیں لیکن جس چیز پریہ سبھی متقق نظر آتے ہیں وہ ہے افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کی بیدخلی اور پاکستان کو دباؤ میں لاکر دہشتگردی کے خلاف جنگ سے اس سے علیحدہ کرنا۔

اگر دیکھا جائے تو یہ قوتیں سرحد کے آر پار یعنی پاکستان اور افغانستان میں اپنی مذکورہ بالا مقاصد میں ایک حد تک کامیاب نظر آرہی ہیں۔ طالبان کی شدید مزاحمت کے بعد اوباما انتظامیہ کی جانب سے نئی افغان حکمت عملی تشکیل دینے پر طویل ترین مباحثے اور پاکستان فوج کی شدت پسندوں کو نکیل ڈالنے میں بظاہر ناکامی اس کی واضح مثالیں ہیں۔

Image caption تحریکِ طالبان کے فیصلوں پر فرقہ ورانہ اور کشمیر میں جہاد کرنے والی تنظیموں کی سوچ اب زیادہ حاوی ہوگئی ہے

جب کبھی بھی ان علاقوں میں فوجی کارروائی کی بات کی جاتی ہے تو جنوبی وزیرستان سے بم دھماکوں، خودکش حملوں یا ہائی پروفائل ٹارگٹ کی شکل میں تشدد کی ایک لہر شروع ہوجاتی ہے کیونکہ جنوبی وزیرستان میں موجود غیر ملکی جنگجوؤں کے پاس’مرو یا مارو‘ کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔

اسی لیے انہوں نے ایک منظم اور کامیاب منصوبہ بندی کے تحت تحریکِ طالبان کی تنظیمی اور عسکری ساخت کو کچھ اس انداز سے بدل دیا ہے کہ وہ سخت حالات میں ان کے لیے ایک’بفر اور جارحانہ فورس‘ کے طور پر کام کرسکے۔

بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد اندرونی کشمکش کے بعد تحریکِ طالبان ایک حد تک جے یو آئی کے اثر سے نکل کر فرقہ ورانہ فسادات کی کالعدم تنظیموں کی ہاتھوں میں چلی گئی ہے جس سے تنظیم کی عسکری کارروائیوں میں اور بھی شدت آگئی ہے۔ تحریکِ طالبان کے فیصلوں پر فرقہ ورانہ اور کشمیر میں جہاد کرنے والی تنظیموں کی سوچ اب زیادہ حاوی ہوگئی ہے۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انکی تربیت اتنی بہتر انداز میں ہوئی ہے کہ وہ اسلام آباد اور صوبہ پنجاب میں کارروائی غیر ملکی اور قبائلی جنگجوؤں کے مقابلے میں زیادہ ماہرانہ اور مؤثر طریقے سے کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں