تھانے پر خودکش حملے میں گیارہ ہلاک

کوہاٹ پولیس سٹیشن
Image caption حملہ آور پہلے پولیس کی کالونی میں داخل ہوا تھا لیکن ڈیوٹی پر مامور اہلکار نے اس کو اجنبی سمجھ کروہاں سے نکال دیا: فضل نعیم

صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں پولیس کے مطابق چھاؤنی کے علاقے میں واقع پولیس سٹیشن پر خودکش حملہ ہوا ہے جس میں گیارہ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے ہیں۔

کوہاٹ پولیس کے ترجمان فضل نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح ایک مبینہ خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی صدر پولیس سٹیشن کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دی۔ ان کے بقول حملے میں گیارہ افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہوئے ہیں۔ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین پولیس اہلکار اور آٹھ عام شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو کوہاٹ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں سو کلو بارود استعمال کیا گیا ہے جس سے تھانے کی آدھی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور پہلے پولیس کی کالونی میں داخل ہوا تھا لیکن وہاں ڈیوٹی پر مامور پولیس سپاہی نے اس کو اجنبی سمجھ کروہاں سے نکال دیا۔

ان کے مطابق سپاہی نے بتایا کہ گاڑی میں سوار شخص نے شیشہ نیچے کیا اور کچھ کہے بغیر آگے بڑھ گیا اور تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی تھانے کے گیٹ کے ساتھ ٹکرا دی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کی عمر بیس سال کے لگ بھگ معلوم ہورہی تھی جبکہ اس کی ہلکی ہلکی داڑھی تھی۔ان کے بقول جس علاقے میں واقعہ ہوا ہے وہاں پر کوہاٹ کے اعلٰی افسران کی رہائش گاہیں اور نجی کالج اور یونیورسٹی واقع ہیں۔

صدر پولیس اسٹیشن سے کوہاٹ پولیس کے سربراہ دلاور بنگش کی رہائش گاہ کی دیورار متصل ہے تاہم ان کو اور ان کے اہل خانہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ تھانے کے بالکل سامنے کوہاٹ کے ضلعی رابطہ آفسر، نجی کالج ، ورچول یونیورسٹی اور تقریباً پچاس گز کے فاصلے پر ڈی آئی جی کی رہائش گاہ اور جنرل پوسٹ آفس واقع ہے۔ جائے وقوعہ سے تقریباً تیس گز دور فوجی چیک پوسٹ بھی موجود ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چند دن قبل صدر پولیس سٹیشن کی عمارت کے ساتھ دو کلو وزنی بم بھی نصب کیا تھا جس کو بعد میں ناکارہ بنادیا گیا تھا۔

ضلع کوہاٹ میں بڑی فوجی چھاونی واقع ہے اور یہ شہر شدت پسندی سے زیادہ متاثرہ ضلع ہنگو اور درہ آدم خیل کے درمیان واقع ہے۔ یہاں پر زیادہ تر کاروائیوں کی ذمہ داری اس سے قبل درہ آدم خیل کے طالبان نے قبول کی ہے۔تاہم تازہ حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول کی ہے اور نہ ہی حکومت نے کسی کو ذمہ دار ٹھرایا ہے۔

اسی بارے میں