پشاور:تھانے پر خودکش حملہ،بارہ ہلاک

پشاور
Image caption پشاور میں حالیہ چند ہفتوں میں یہ چوتھا دھماکہ ہے

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں صدر کے علاقے میں واقع پولیس کے تفتیشی مرکز پر خودکش حملے میں بارہ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبہ سرحد کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں نو عام شہری بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں پر حملے، 40 ہلاک

پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کا نشانہ سواتی پھاٹک کے نزدیک سی آئی ڈی کا تفتیشی مرکز تھا اور جس جگہ دھماکہ ہوا وہ فوجی چھاؤنی کے قریب واقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے تھانے کی بیرونی دیوار تباہ ہو گئی جبکہ تھانے کی عمارت سے متصل مسجد کو بھی نقصان پہنچا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق ابتداء میں سی سی پی او پشاور لیاقت علی خان نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ سی آئی ڈی سینٹر پر دو خودکش حملہ آوروں نے دھماکے کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایک حملہ آور برقع پوش خاتون تھی جو ایک موٹر سائیکل پر سوار تھی جبکہ دوسرا حملہ ِآور ایک کار میں موجود تھا۔ تاہم بعد ازاں یہ اطلاع صحیح ثابت نہیں ہوئی۔

ابتداء میں جس خاتون پر حملہ آور ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا وہ پی اے ایف سکول کی ٹیچر ثابت ہوئیں جو حملے کے وقت اپنے والد اور بہن کے ہمراہ تھانے کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔ نجی ٹی وی سماء کے پشاور میں بیورو چیف شوکت خٹک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے ایک رپورٹر نے اس خاتون کے گھر کا دورہ کیا تو یہ پتہ چلا کہ ہلاک ہونے والی خاتون کا نام ناہید تھا اور وہ سکول سے چھٹی کے بعد اپنے والد منظور اور دس سالہ بہن آسیہ کے ساتھ گھر جا رہی تھیں کہ دھماکے کا نشانہ بنیں۔

بم ڈسپوزل شعبے کے اے آئی جی شفقت ملک نے بھی پولیس کے اس دعوے کو رد کیا ہے کہ دو خودکش حملے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک دھماکہ کار میں ہوا اور موٹرسائیکل، کار کے انتہائی قریب ہونے کی وجہ سے نشانہ بنی۔

عینی شاہد عالمگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا گھر تھانے کے قریب ہے اور دھماکے کے وقت وہ گھر سے باہر نکل رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا۔ ’میرے بچے بھی سکول سے گھر پہنچ چکے تھے اور دھماکے کے بعد میرےگھر میں افرتفری مچ گئی۔ میں چند منٹ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچا اور دیکھا کہ تھانے کے مین گیٹ کے قریب سے دھواں اُٹھ رہا تھا اور سڑک کے کنارے چھ لاشیں پڑی تھیں جو بُری طرح جھلس گئی تھیں۔ کوئی پولیس نظر نہیں آ رہی تھی صرف ایک شخص وہاں پر موجود تھا جو لاشوں کے قریب کھڑا تھا۔‘

ایک اور عینی شاہد محمد بلال نے کا کہنا تھا ’میں دھماکے کے وقت قریب ہی موجود تھا اور دھماکہ ہوتے ہی پورے علاقے میں اندھیرا چھا گیا۔ تھوڑی دیر بعد اندھیرا ختم ہوا تو میں نے دیکھا کہ تھانے کے سامنے لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ لاشوں میں ایک خاتون کی لاش بھی تھی جن کا ایک پیر تن سے جدا ہوگیا تھا‘۔

خیال رہے کہ یہ حالیہ چند ہفتے میں پشاور میں ہونے والا چوتھا دھماکہ ہے۔ گزشتہ روز بھی پشاور کوہاٹ روڈ پر آفیسرز کالونی میں دھماکے سے ایک بچے ہلاک ہوا تھا جبکہ اس سے قبل خیبر بازار اور پشاور صدر میں ہونے والے دھماکوں میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں