پشاور پھر خوف کے سائے میں

فائل فوٹو
Image caption پشاور میں گزشتہ دنوں ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر عام شہری تھے

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں گزشتہ دنوں یکے بعد دیگرے بم دھماکوں اور مبینہ خودکش حملوں سے شہر میں بظاہر خوف کے سائے بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات میں والدین بچوں کو سکول بھیجنے سے اجنتاب کر رہے ہیں جبکہ سڑکوں اور بازاروں میں ایک بار پھر گہما گہمی ماند پڑ گئی ہے۔

جمعہ کو کینٹ کے علاقے میں سی آئی اے کے ایک تفتیشی مرکز پر ہونے والے حملے سے شہر میں پہلے سے قائم خوف اور بے یقینی کی فضا میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ اس دھماکے کے بعد شہر کے بعض اعلٰی نجی تعلیمی اداروں نے سکولوں کو عارضی طورپر بند کرنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ اس حملے سے قبل پشاور صدر اور خیبر بازار میں دو بڑے دھماکے ہوئے تھے جس کے باعث لوگوں نے مصروف علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم بچوں کو سکول بھیجنا بند کردیا تھا۔

پشاور شہر میں ایسے کئی تعلیمی ادارے قائم ہیں جو بازاروں یا تجارتی مراکز کے قریب واقع ہیں جہاں اب والدین غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اپنے بچوں کو نہیں بھیج رہے ہیں۔

پشاور میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران چار چھوٹے بڑے بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں ستر سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ دھماکے شہری علاقوں میں ہوئے جس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

ویسے تو پشاور شہر ’افغان جہاد‘ کے وقت سے دھماکوں اور تشدد کی زد میں رہا ہے لیکن گزشتہ دو تین سالوں کے دوران شہر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی حد تک خراب رہی ہے۔

تقریباً ایک سال پہلے شہر اور اطراف کے علاقوں میں اغواء برائے تاؤان کی وارداتوں میں اچانک اضافہ ہوا۔خاص طور پر شہر کے پوش علاقوں سے غیر ملکی سفارت کاروں اور مالدار لوگوں کے اغواء کا سلسلہ شروع ہوا۔

ان وارداتوں میں افغان سفیر عبد الخالق فراحی اور ایرانی قونصل خانے کے پریس اتاشی حشمت اطہر زادہ کو بھی اغواء کیا گیا اور جو بدستور لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر افغان اہلکاروں بھی اغواء ہونے کے بعد لاپتہ ہیں۔

ان دنوں حالات اس حد تک خراب ہوگئے تھے کہ صاحب حیثیت لوگ اغواء کے خوف سے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ شہر میں ہر طرف اغواء برائے تاؤان اور قتل کے وارداتیں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔

تین چار ماہ قبل جب صوبے کے ضلع سوات میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا تو شدت پسندوں کی جانب سے پشاور کو ایک بار پھر دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اس دوران بھی بازاروں میں بھی دھماکے ہوئے تھے جس میں عام شہری ہلاک ہوئے۔

Image caption پشاور کے واحد فائیو سٹار ہوٹل کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں چند غیر ملکی بھی ہلاک و زخمی ہوئے

ان ہی دنوں پشاور کے واحد فائیو سٹار ہوٹل کانٹینٹل کو ایک خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں چند غیر ملکی بھی ہلاک و زخمی ہوئے۔ انتہائی حساس علاقے میں قائم ہوٹل پر حملے کے بعد شہر میں کشیدگی بڑھی اور لوگوں نے پھر گھروں سے باہر نکلنا بند کردیا۔

اس سال میں شاید یہ تیسری بار ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال اتنی خراب ہوچکی ہے کہ لوگ اپنے اپ کو محفوظ نہیں سمجھتے۔

دوسری جانب اعلٰی حکام ایک بار پھر سے اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے باعث شہر میں مزید دہشت گردی کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ سوات میں جب آپریشن عروج پر تھا تو ان دنوں بھی اس قسم کے بیانات دیے جا رہے تھے کہ ’دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، ان کاخاتمہ قریب ہے وغیرہ وغیرہ۔‘

مبصرین کے مطابق اب دوبارہ سے اس قسم کے بیانات سے تو حکومت خود ہی عوام کو خوف زدہ کر رہی ہے۔

دوسری جانب اگر شہر کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو بظاہر تو سکیورٹی پہلے سے بہتر ہے۔ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار خاصے چوکس نظر آتے ہیں ۔ان کے انداز سے لگتا ہے کہ وہ پوری طرح ہر چیلنج کےلیے بھی تیار ہیں۔ شہر کے اندر بھی پولیس اہلکار تقریباً ہر گاڑی کو چیک کر رہے ہیں لیکن ان تمام تر اقدامات کے باوجود دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں