’جی ایچ کیوحملہ آوروں کے پاس بھارتی اسلحہ تھا‘

میجر جنرل اطہر عباس اور وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ
Image caption میجر جنرل اطہر عباس اور وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کے قبضےسے بھارتی اسلحہ ملا تھا۔

میجر جنرل اطہر عباس نے یہ بات پیر کے روز وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

پریس بریفنگ کا مقصد جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی تازہ اطلاعات بتانا تھا لیکن اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کالعدم تنظیموں کے چھوٹے چھوٹے گروپ ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور انہیں مالی امداد اور تربیت جنوبی وزیرستان سے مل رہی ہے۔

جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں سے بھارتی اسلحہ ملنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ بھارتی خفیہ اداروں کا اس حملے سے کوئی تعلق تھا۔

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کو کمزور کرنے کے لیے طالبان کے مخالف دھڑوں سے بات ہو سکتی ہے۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ اطلاعات یہ ہیں کہ مولوی نذیر اور گل بہادر کے تحریک طالبان کی قیادت کے ساتھ اختلافات ہیں۔

میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 18 شدت پسند اور 2 فوجی ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے۔

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جب سے یہ آپریشن شروع ہوا ہے اُس وقت سے لے کر اب تک اٹھتر شدت پسند ہلاک جبکہ اس کارروائی کے دوران نو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ اس وقت سیکورٹی فورسز کو علاقے میں 8 سے 10 ہزار شدت پسندوں کا سامنا ہے جس میں سے ایک ہزار غیر ملکی بھی شامل ہیں تاہم انہوں نے ان غیر ملکیوں میں کسی بھی کالعدم تنظیم کی کسی بھی بڑی شخصیت کا نام نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے پندرہ کلومیٹر تک علاقے کے اندر چلی گئی ہے اور سیکورٹی فورسز نے جنڈولہ اور کُنڈ کا علاقہ محفوظ بنا لیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کوٹ کائی میں آپریشن کر رہی ہے جو کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے اہم کمانڈر قاری حسین کا آبائی گاؤں ہے اور وہ شدت پسند خودکش حملہ آور تیار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے چھوٹے چھوٹے گروپ ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کر رہے ہیں تاہم اُنہیں مالی امداد اور تربیت جنوبی وزیرستان سے ہی ملتی ہے۔

اس پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک شدت پسندوں کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت علاقے میں اپنی عملداری کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے پاس جو اسلحہ ہے وہ افغانستان سے آرہا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران کسی بھی غیر ملکی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان سے اب تک نقل مکانی کرنے والے ساڑھے چودہ ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے ان افراد کو چند روز بعد 5 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اشیائے خوردونوش خرید سکیں۔

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ محسود قبائل میں یہ روایت ہے کہ وہ موسم سرما میں نقل مکانی کر کے اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے جاتے ہیں اس لیے حکومت کو اُن کے لیے علیحدہ کیمپ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسی بارے میں