تحفظات کا اظہار، فوج کا حق ہے: مشرف

سابق صدر مشرف
Image caption استقبالیہ میں تین سو کے قریب پاکستانی مرد اور خواتین موجود تھے جنہوں نے پاکستان کے سابق فوجی حکمران کے پہنچنے پر کئي منٹوں تک اپنی نشستوں سے اٹھ کر انکا پرجوش استقبال کیا۔

پاکستان کے سابق فوجی حکمران ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کیری لوگر بل پر پاکستان کی فوج کی طرف سے تحفظات کا اظہار فوج کا حق ہے کیونکہ وہ سمجتھی ہے کہ اس سے اسکے (فوج کے) اصول متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی عوام بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کیری لوگر بل ملک کی خود مختاری کے خلاف ہے تو وہ بل کو مسترد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں ’اعتدال پسند‘ یا میانہ رو طالبان سے بات کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی حکمران جو آجکل امریکی دورے پر ہیں گزشتہ رات نیویارک میں پاکستانیوں کے ایک اجتماع اور بعد میں پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کے ایک گروپ سے خطاب کررہے تھے۔ اس اجتماع میں پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے اس استقبالیہ میں تین سو کے قریب پاکستانی مرد اور خواتین موجود تھے جنہوں نے پاکستان کے سابق فوجی حکمران کے پہنچنے پر کئي منٹوں تک اپنی نشستوں سے اٹھ کر انکا پرجوش استقبال کیا۔ نیویارک کے علاقے سٹیٹن آئلینڈ میں یہ استقبالیہ سابق فوجی حکمران کو ان کے کچھ مداح پاکستانی کاروباریوں کی طرف سے دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پرویز مشرف کے خلاف پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں ان کی آئین سے مبینہ غداری سمیت کئي معاملات زیر سماعت ہیں اور بلوچ قومپرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کے الزام میں بھی ان کے خلاف مقدمہ درج ہے۔

ایک طرف پاکستانیوں کی طرف سے انکی قابلِ ذکر تو کہیں غیر معمولی پذیرائي دیکھی جارہی تو دوسری طرف ان کے لیے دیے جانے والے استقبالیوں اور لیکچروں کے مواقع پر پاکستانی ان کی حمایت اور مخالفت میں مظاہرے کرتے بھی دیکھے جار ہے ہیں۔

سابق فوجی حکمران نے کیری لوگر بل پر فوج کے تحفظات کے متعلق سوال کے جواب میں کہا ’فوج کو تحفظات کا حق حاصل ہے کیونکہ فوج سمجھتی ہے کہ اسکے اصولوں کو دھچکا پہنچاہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت خطے میں انتہا پسندی افغانستان میں روسی فوجوں کی واپسی کے بعد ان پچیس ہزار غیر ملکی مجاہدین کو واپس انکے ملکوں میں نہ بھیجنے یا ان کی واپس آباد کاری پر عدم توجہي کے سبب ہوئی اور اس میں القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کو پنپنے کا موقع مل گيا۔

پاکستان کے سابق فوجی حکمران نے کہا کہ اگر دنیا کے بہت سے ممالک افغانستان میں طالبان حکومت کے وقت اسے تسلیم کرکے وہاں اپنے سفارت خانے کھولتے تو القاعدہ جیستی نتظیموں کو پنپنے کا موقع نہیں مل سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ’اعتدال پسند‘ یا میانہ رو طالبان سے بات چیت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا انتہاپسندی سے دہشتگردی جنم لیتی ہے اور انتہاپسندوں پر ’ہمیں (پاکستاینوں کو) اپنی صفوں میں بھی نظر رکھنی چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ سارے تو نہیں لیکن کچھ مدرسے اور مساجد بھی انتہاپسندی کی ترویج کرتے ہیں۔

سابق صدر مشرف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جتنے ترقیاتی کام ان کے دور حکومت میں ہوئے اتنے گزشہ پچاس سال میں کبھی نہیں ہوئے۔

جب ان سے پاکستان میں موجودہ حکومت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسکا جواب دینے سے انکار کردیا۔

این آر او یا قومی مصالحتی آرڈیننس پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ اس پر کوئي تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ این آر او کے متعلق مقدمے پاکستان کی عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ تاہم انھوں نے پاکستان کے موجودہ صدر آصف علی زرداری کا نام لیے بغیر کہا کہ انکے خلاف دس برس تک مقدمات عدالتوں میں رہے لیکن کچھ بھی ثابت نہیں ہوسکا تو وہ کیا کرسکتے تھے۔

ایک اور سوال کے جواب میں جنرل ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ بلوچستان میں ترقی ہونی چاہیے لیکن ملک کے خلاف بات کرنے والوں کیخلاف 'صفر برداشت' یا 'زیرو ٹالرنس' ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ پاکستان ناکام ریاست ہے لیکن قیادت ضرور ناکام ہوئي ہے۔

اسی بارے میں