اسلامک یونیورسٹی میں دھماکہ، آٹھ ہلاک

Image caption جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے پیش نظر پورے ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کی صورتحال ہے

اسلام آباد میں واقع انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے کیمپس میں دو خودکش حملوں میں حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے جائے حادثہ سے ایک مشکوک شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ خودکش حملہ آوروں کا ساتھی ہے۔

انسپکٹر جنرل اسلام آباد کلیم امام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلامک یونیورسٹی میں دونوں دھماکے خودکش حملے تھے جن میں چھ افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے ہیں۔ان کے مطابق ایک دھماکہ شریعہ بلاک میں ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ لڑکیوں کے کیفی ٹیریا میں ہوا۔

پہلا دھماکہ شریعہ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء الحق کے کمرے کے باہر ہوا جس میں عینی شاہدین کے مطابق تین افراد ہلاک ہوئے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مذکورہ افسر کا دفتر تباہ ہوگیا اس کے علاوہ اس بلاک میں واقع دیگر عمارتوں کے شیشے اور دروازے بھی ٹوٹ گئے۔

ہلاک ہونے والوں میں دو خود کش حملوں سدرہ، آمنہ، خلیل الرحمن، نفیس، عابد اور پرویز مسیح شامل ہیں۔

پمز ہسپتال کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ انٹرنیشل اسلامک کے نیو کیمپس میں ہونے والے خودکش حملے سکیورٹی کی ناقص صورت حال کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بناء پر ملک میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں اور اس ضمن میں نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم مقامات پر سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

شوکت علی نے جو کہ شریعہ میں ایل ایل بی کے طالب علم ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ وہ قریبی گراؤنڈ میں پڑھ رہے تپے کہ اچانک دھماکہ ہوا اور وہ اس کی آواز سن کر وہاں پر پہنچے۔ اُنہوں نے کہا کہ انہوں نے وہاں سے تین افراد کی لاشیں نکالی ہیں جبکہ اس دھماکے میں پندرہ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ دوسرا دھماکہ خواتین کے کیفی ٹیریا میں ہوا جہاں پر خودکش حملہ آور ویٹر کے بھیس میں داخل ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کو دروازے پر ہی روک لیا گیا جس پر اُس نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ اس حملے میں ایک ملازم اور ایک طالبہ ہلاک جبکہ دس طالبات زخمی ہوئیں جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے۔

اسلامک یونیورسٹی میں ایم فل کے طالبعلم ضیاء الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے وقت وہ دوسری منزل پر کلاس کے باہر ہی کھڑے تھے۔’جب دھماکہ ہوا تو میں دور جاکر گرا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ جیسے میں دنیا سے رخصت ہوگیا ہوں۔ اس کے بعد جب میں نے سنبھلنے کی کوشش کی تو بارود کی بو پھیلی ہوئی تھی اور چیخوں کی آوازیں تھیں۔ مجھے اتنی زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی تو میں وہاں سے نکل آیا لیکن میرے آس پاس مختلف انسانی اعضاء بکھرے پڑے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ طالبان کی اگر سوچ ہے کہ وہ سیکولر لوگوں پر حملے کریں گے تو ہماری یونیورسٹی میں تو اس طرح کا کوئی ماحول نہیں تھا۔ ’اس ادارے میں تو لڑکے لڑکیاں الگ الگ پڑھتے ہیں اسلامی ماحول ہے اور پھر دنیا کے ستاون ملکوں سے طلباء و طالبات یہاں پڑھنے آئے ہوئے ہیں۔ تو یہاں دھماکہ کرنا، نہ تو شریعت اس کی اجازت دیتی ہے اور نہ ہی انسانیت اس کی اجازت دیتی ہے۔‘

پی ایچ ڈی کے طالبعلم عبدالباسط نے نے بتایا کہ دھماکے کے وقت وہ ہاسٹل میں تھے۔ ’جب پہلے دھماکے کی آواز سنی پہلے تو یہ لگا کہ جیسے کسی طیارے کے ایئرپریشر کی آواز ہے لیکن جب دوسرا دھماکہ ہوا تو میں ہاسٹل کی چھت پر چلا گیا جہاں سے ہمیں فیکلٹی بلاک سے دھواں اٹھتا نظر آیا۔ اس کے بعد جب دھماکے کی جگہ پر گیا تو وہاں تو ہنگامی حالت تھی ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔‘

بم ڈسپوزل سکواڈ کے عملے کا کہنا ہے کہ ان خودکش حملوں میں 20 سے 25 کلو وزنی دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جائے حادثہ سے ضروری شواہد اکھٹے کرکے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔

یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر انوار حسین صدیقی کا کہنا ہے کہ نیوکیمپس میں سکیورٹی کے مناسب اقدامات کیے گئے تھے اور طالبعلم کی ہمراہی کے بغیر کسی بھی شخص کو کیمپس میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔

یونیورسٹی کی وائس پریذیڈنٹ پروین قادر کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کو کسی بھی قسم کی کوئی دھمکی نہیں ملی تھی اس لیے یونیورسٹی بند نہیں کی گئی تھی۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے کیمپس میں پولیس اہلکاروں کو تعینات نہیں کیا جاتا بلکہ یہاں پر یونیورسٹی کی سکیورٹی کا اپنا سٹاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی چند روز کے لیے بند رہے گی۔

وزیر داخلہ رحمان ملک جب جائے حادثہ کا دورہ کرنے کے لیے پہنچے تو وہاں پر موجود طلباء نے اُن کے خلاف نعرے بازی کی جس کی وجہ سے وہ اپنا دورہ مختصر کرکے واپس چلے گئے۔

اُدھر اس واقعہ کے بعد نیو کیمپس میں واقع طالبات کے ہوسٹلز خالی کروا لیے گئے ہیں اور اُنہیں ہدایت کی گئی ہے جب یونیورسٹی دوبارہ کھلے گی تو اُنہیں مطلع کر دیا جائے گا۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

واضح رہے کہ جی ایچ کیو پر حملے اور لاہور میں حالیہ حملوں اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے پیش نظر پورے ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کی صورتحال ہے اور اسلام آباد میں جگہ جگہ ناکے لگے ہیں۔

پورے ملک میں فوج کے زیر انتظام سکول ایک ہفتے کے لیے بند کردیے گئے ہیں جبکہ چند نجی سکولوں نے بھی سکیورٹی کے پیش نظر چند روز کے لیے سکول بند کردیے ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد میں واقع انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں خودکش حملوں کے بعد صوبہ سندھ کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق تمام سرکاری سکول اور کالج اتوار تک بند رہیں گے جبکہ یونیورسٹیاں صرف کل بدھ کو بند رہیں گی۔

اسی بارے میں