طالبان رہنما قاری حسین کا انٹرویو

پشاور خودکش حملہ
Image caption پشاور میں عوامی مقامات پر خودکش حملے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی کارستانی تھی: قاری حسین

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی رہنماء قاری حسین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فوجی کارروائی سے انہیں سیاسی فائدہ یہ ہوا ہے کہ ان کا ’دشمن اب واضح ہوگیا‘ ہے۔

’تمام سیاسی جماعتیں جنہوں نے کارروائی کی حمایت کی ہماری دشمن ہیں، زرداری کی پارٹی ہماری دشمن ہے، نیشنل پارٹی (عوامی نیشنل پارٹی) ہماری دشمن ہے۔۔۔ ہم انشا اللہ ان سب سے نمٹ لیں گے۔‘

یہ بات انہوں نے ایک قبائلی صحافی سمیع اللہ وزیر سے انٹرویو میں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی اب نہیں گزشتہ چار پانچ ماہ سے ان کے علاقوں میں جاری ہے۔ ’کارروائیاں تو دو ہزار تین۔چار سے جاری ہیں۔ ہم پر مسلسل بمباری ہو رہی ہے، توپ خانے کا استعمال ہو رہا ہے، لیکن ہر بم کے ساتھ ہمارا جذبہ بڑھ جاتا ہے۔‘

پینتیس سالہ قاری حسین طالبان تحریک کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کے دست راست سمجھے جاتے ہیں لیکن میڈیا کو بہت کم انٹرویو دیتے ہیں۔ موبائل فون پر ریکارڈ کیے گئے پشتو زبان میں اس انٹرویو کا دورانیہ سات منٹ ہے۔

بھارت کی جانب سے مالی معاونت کے حکومتی الزام کے بارے میں قاری حسین نے کہا کہ وہ ایسی امداد پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ’ہم بھارت کی ہر چیز پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، ہم ہندو پرست یا امریکہ پرست نہیں ہیں۔ یہ کردار ان لوگوں کا ہے جو ان کے غلام ہیں اور ان کی جانب بھاگتے ہیں۔ یہ سب پروپیگنڈا ہے۔‘

پشاور میں عوامی مقامات پر خودکش حملوں کے بارے میں ان کا الزام تھا کہ یہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی کارستانی تھی تاکہ، بقول ان کے، ’مجاہدین کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کرسکیں۔ ہم اتنے بےغیرت لوگ نہیں کہ عوام اور معصوم لوگوں کو ماریں، یہ دھماکے ہمارے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہیں۔۔۔ اصل قتلِ عام تو قبائلی علاقوں میں جاری ہے۔‘

خود کش حملہ آوروں کے انچارج سمجھے جانے والے قاری حسین نے خودکش یا فدائین حملوں کا بھرپور دفاع کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خدا انہیں معصوم افراد کی مدد کے لیے جائز قرار دیتے ہیں اور بقول ان کے اس کی اجازت دیتے ہیں۔ ’یہ فدائین ان معصوم لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں اس کا جواز دیتا ہے۔‘

اسی بارے میں