جنڈولہ:’چیک پوسٹ پر طالبان کا حملہ‘

Image caption رزمک، وانا، جنڈولہ، ملزئی اور سروکئی کے علاقوں سے توپخانے کا استعمال کیا گیا

جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے چوتھے روز اطلاعات ملی ہیں کہ جنڈولہ کے علاقے کوٹکئی میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر طالبان نے بھرپور حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ نے بتایا ہے کہ یہ چیک پوسٹ کھوٹکئی کے علاقے غنڈئی میں قائم کی گئی تھی۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے ڈیرہ اسماعیل خان سے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق جنڈولہ کے علاقے کوٹکئی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو سکیورٹی فورسز کی بنائی جانے والی چیک پوسٹوں پر طالبان نے حملے کیے جس کے نتیجے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

کوٹکئی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ کا گاؤں ہے۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے ساری رات جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں پر توپخانے سے بمباری کی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق رزمک، وانا، جنڈولہ، ملزئی اور سروکئی کے علاقوں سے توپخانے کا استعمال کیا گیا۔ واضح رہے کہ رزمک جنوبی وزیرستان کے شمال میں واقع ہے جبکہ وانا مغرب، جنڈولہ مشرق اور ملزئی اس کے جنوب میں ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی فورسز محسود علاقے تروم کے پل پر قائم چیک پوسٹ پر پہنچ گئی ہیں اور وہاں انہوں نے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ مکین کے شمالی حصے، کوٹکئی اور تیارزہ کے مقام پر سکیورٹی فورسز کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوٹکئی کے علاقے میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر جو طالبان نے حملہ کیا تھا اس میں چالیس سے پینتالیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین طالبان جنگجو ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

انہوں نے میڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ رپورٹنگ کرتے وقت احتیاط سے کام لیں اور حکومتی پروپیگینڈا کا حصہ نہ بنیں۔

انہوں نے محسود قبیلے کے حکومت کے حمائتی ملِک اور سرداروں کو بھی متنبہ کیا کہ ابھی بھی وقت ہے وہ حکومت کی حمایت بند کردیں نہیں تو نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سید شعیب حسن نے منگل کی صبح سرحدی علاقے سے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایک اہم پہاڑی پر قبضہ کر لیا ہے جو جنوبی وزیرستان کے مغرب میں واقع ہے۔ سرکاری اہلکار کہتے ہیں کہ اس پہاڑی پر فوج کے کنٹرول سے افغان شدت پسندوں کی جانب سے طالبان کی مدد کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ روز فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس اور وزیرِ اطلاعات نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ سنیچر سے اب تک اٹھہتر شدت پسند مارے جا چکے ہیں جبکہ اس کارروائی میں نو فوجی جوان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پینتیس زخمی ہیں۔ تاہم ہمارے نامہ نگار کے مطابق علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج کو اس سے کہیں زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

دریں اثناء وزیرستان سے لوگوں کی نقل مکانی کے باعث اس بات کے خدشات ہیں کہ پاکستان میں اگلے چند روز میں انسانی بحران شروع ہونے کو ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحد پر لگ بھگ ایک لاکھ افراد نقل مکانی کر کے جمع ہو چکے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ شہر میں متاثرین کے لیے پانچ مراکز بنائے گئے ہیں جہاں ان کا اندراج کیا جارہا ہے۔

متاثرین کی امداد کے حوالے سے سرگرم ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دنوں میں بیس ہزار سے زیادہ لوگ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اندارج کے علاوہ اس وقت کسی قسم کا امدای سامان دینا شروع نہیں کیاگیا ہے۔البتہ محسود قبائل کی ایک کمیٹی اپنی مدد ۔آپ کے تحت امدادی اشیاء تقسیم کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں