’تعلیمی اداروں کو جلدازجلد کھولا جائے‘

فائل فوٹو، عاصمہ جہابگیر
Image caption پاکستان میں تعلیمی حالت پہلے ہی خراب ہے اور ایک طویل عرصہ کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی سے یہ زیادہ پست ہوگی: عاصمہ جہانگیر

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو جلدازجلد کھولنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ دہشت گردوں کی طرف سے شہریوں کی زندگی کو مفلوج کرنے کے عزائم کو شکست دی جا سکے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہنگامی اقدام کے طور پر تعلیمی ادادوں کی بندش قابل فہم ہے تاہم والدین اور طلبا کو خوف میں مبتلا کرنا دہشت گردی کے خطرے کا ایک مستقل حل نہیں ہے۔ ان کے بقول تعلیمی اداروں کی بندش سے دہشت گرد یہ سمجھیں گے کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

تعلیمی دارے عارضی طور پر بند

انہوں نے بیان میں حیرانگی ظاہر کی کہ سرکاری اور نجی سکولوں کو تو بند کردیا گیا ہے لیکن جنگجو اور دہشت گرد تنظیموں کو نظریاتی سپورٹ فراہم کرنے والے پیشتر مذہبی مدرسےمعمول کے مطابق کام کر رہے ہیں جس سے جدید تعلیمی اداروں کو کام سے روکنے کے مقصد کی تکمیل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی اقدامات کرنے کے بعد تعلیمی اداروں کو بلاتاخیر کھولنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تعلیمی حالت پہلے ہی خراب ہے اور ایک طویل عرصہ کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کی معطلی سے یہ زیادہ پست ہوگی جب کہ دہشت گرد تعلیمی اداروں کے دوبارہ کھلنے کا انتظار کر سکتے ہیں اور اس دوران کہیں اور حملہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے درمیانی اور طویل مدتی اقدامات اٹھائے جائیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ موجود حالات میں میڈیا کا کردار فیصلہ کن ہے اور میڈیا کو چاہیے کہ دہشت گردی کی کوریج نشر کرتے ہوئے عالمی نشریاتی اخلاقیات کی پابندی کریں۔

اسی بارے میں