کامرہ اور پشاور میں دھماکے، سات ہلاک

کامرہ حملہ
Image caption ’حملہ آور کمپلیکس کے اندر جانا چاہتا تھا لیکن روکے جانے پراس نے خود کو اڑا دیا‘

کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کی طیارہ ساز فیکٹری کے نزدیک خودکش حملے اور صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایک بم دھماکے میں سات افراد ہلاک اور کم از کم اٹھائیس زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں جی ٹی روڈ کے قریب کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس جانے والے راستے کی داخلی چوکی پر خودکش دھماکہ جمعہ کی صبح ساڑھے سات بجے کے قریب ہوا۔

پشاور اور کامرہ میں دھماکوں کے بعد: تصاویر

اٹک کے ضلعی پولیس افسر فخر سلطان نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔

اس حوالے سے پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ خودکش حملہ آور کامرہ کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش میں تھا لیکن چوکی پر تعینات اہلکاروں نے حملہ آور کو روکا تو وہیں دھماکہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور پیدل آیا اور پہلی ہی چوکی پر اس کی شناخت ہوگئی اور وہ آگے نہیں جا سکا۔ اس واقعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کامرہ میں دسمبر دو ہزار سات میں ایک سکول بس پر حملے میں چار بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ جنوری سن دو ہزار آٹھ میں نامعلوم افراد نے کامرہ ایروناٹیکل کملپلیکس پر چار راکٹ داغے تھے لیکن اس حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔

دریں اثناء پشاور کے رہائشی علاقے حیات آباد میں دھماکے سے کم از کم آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو کے دلاور خان وزیر کے مطابق یہ ایک کار بم دھماکہ تھا اور حیات آباد فیز ٹو میں واقع ایک ریستوران اس کا نشانہ بنا۔ دھماکے میں ایک کار مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور ریستوران کو بھی نقصان پہنچا۔ پشاور کے ڈی سی اور صاحبزادہ انیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعہ کو بارہ بجے کے قریب ہونے والے اس دھماکے میں پندرہ افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ہسپتال حکام کے مطابق زخمیوں میں سے چھ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ نو افراد ہسپتال میں داخل ہیں۔

سوان ریستوران کے ویٹر اور اس دھماکے عینی شاہد الطاف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ہوٹل کے اندر ایک کمرے میں موجود تھا کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے ان کے کان بند ہوگئے۔ انہوں نے سمجھا کہ باورچی خانے کے اندرگیس سلنڈر پھٹ گیا ہے لیکن جب انہوں نے باہر نکل کر دیکھا تو ہوٹل کے سامنے مکمل اندھیرا چھا گیا تھا اور اُوپر سے پتھر کے ٹکڑے گر رہے تھے۔

خیال رہے کہ پشاور میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران بم دھماکوں کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں