اورکزئی ایجنسی: اساتذہ کو طالبان کاحکم

حکیم اللہ
Image caption امیر فاروقی سے قبل حکیم اللہ محسود اورکزئی ایجنسی کے امیر تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مقرر کیے جانے والے نئے امیر نے سرکاری اساتذہ پر لازم کیا ہے کہ وہ ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے دو ہزار روپے تنظیم کو دیں۔

اورکزئی ایجنسی کے ایک استاد نے نام بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ چند دن پہلے لوئر اورکزئی ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے نئے مقرر کیے جانے والے امیر اسلم فاروقی نے تمام سرکاری اساتذہ کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے دو ہزار روپے نقد تنظیم کے فنڈ میں جمع کرائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے اس سلسلے میں اساتذہ سے کسی قسم کی کوئی مشاورت نہیں کی بلکہ طالبان امیر کی طرف سے یہ فیصلہ انھیں سنایا گیا۔

ان کے بقول اس سے پہلے بھی اورکزئی ایجنسی کی سنٹرل تحصیل میں طالبان نے اساتذہ اور امیر افراد پر ماہوار کچھ رقم مقرر کی تھی لیکن وہ لوگوں کے مرضی سے کیا گیا تھا تاہم حالیہ فیصلے میں اساتذہ سے کوئی مشاروت نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم صرف صرف سنی اساتذہ سے لی جائے گی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ لوئر اورکزئی ایجنسی میں اہل تشیع اور سنیوں کے پانچ قبیلے آباد ہیں جن میں ستوری خیل، بیزوٹی، فیروز خیل، اتمان خیل اور مندراخیل شامل ہیں۔ سنی قبائل کے علاقے میں تقریباً پچاس سے پچپن کے قریب سرکاری سکول قائم ہیں جن میں ایک اندازے کے مطابق دو تین سو کے لک بھگ اساتذہ کام کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان کمانڈر اسلم فاروقی کو تقریباً دو ہفتے قبل لوئر اورکزئی ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے حکیم اللہ محسود اورکزئی ایجنسی کے امیر تھے۔

امیر مقرر ہونے کے دو تین دن بعد اسلم فاروقی نے لوئر اورکزئی ایجنسی میں اپنے طورپر ’اسلامی شرعی نظام‘ کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جس کے تحت خواتین کا بغیر برقع گھروں سے نکلنے پر پابندی لگا دی گئی۔ اس اعلان کے بعد مردوں پر بھی کچھ پابندیاں لگائی گئی تھی جس کے تحت داڑھی رکھنا ان پر لازم کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مردوں پر یہ بھی لازم کیا گیا تھا کہ وہ کالروں والی قمیضوں کی بجائے کرتہ پہنیں گے کیونکہ طالبان کے بقول کرتہ پہننا ’سنت‘ ہے۔

اس اعلان کے بعد طالبان نے لوئر اورکزئی ایجنسی میں چند نوجوانوں کے کالر بھی کاٹ کر کرتے جیسے کر دیے۔

واضح رہے کہ اسلم فاروقی کا تعلق اورکزئی ایجنسی کے ماموں زئی قبیلہ سے ہے جہاں سب سے پہلے طالبان نے اپنے مراکز قائم کیے تھے۔ اس سے پہلے وہ اورکزئی میں فرقہ وارانہ تنظیموں سے منسلک رہے ہیں۔ اس وقت اورکزئی ایجنسی میں اپّر اور لوئر اورکزئی میں طالبان کے الگ الگ امیر مقرر ہیں جب کہ اس سے پہلے حکیم اللہ محسود تنہا پورے اورکزئی ایجنسی کے امیر تھے۔

اسی بارے میں