آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 28 october, 2009, 12:48 GMT 17:48 PST

پشاور میں کار بم دھماکہ، نوے افراد ہلاک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے اندرون شہر میں ایک کار بم دھماکے میں نوے افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر حیدر آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ کار بم دھماکے میں ستاسی افراد کی لاشیں ہسپتال لائی گئیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لاشوں کے علاوہ بڑی تعداد میں انسانی اعضاء بھی ہسپتال لائے گئے ہیں۔ جب کہ بعض دوسرے ذرائع اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نوے بتا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو سو زخمیوں میں سے پچیس کی حالت نازک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

کلِک ’صاف نظر آ رہا تھا کہ لوگ جل رہے تھے‘

کلِک پشاور میں کار بم دھماکہ، تصاویر

کلِک لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کا انٹرویو

کلِک شہریوں نے کے کیا دیکھا

یہ دھماکہ پشاور علاقے پیپل منڈی کے مینا بازار چوک میں ہوا ہے۔ مینا بازار میں میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔

یہ بم دھماکہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا پاکستان میں آمد کے چند ہی گھنٹوں بعد ہوا ہے۔

اس علاقے میں کئی عمارتوں کو آگ لگ گئی ہے جبکہ ایک عمارت منہدم بھی ہو گئی ہے جس کے ملبے تلے لوگ دبے ہوئے ہیں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی کو سے بات کرتے ہوئے اس دھماکے سے لاتعلقی کااظہار کیا اور کہا کہ اس دھماکے کے پیچھے خفیہ اداروں اور امریکی تنظیم بلیک واٹر کا ہاتھ ہے۔

ایک عینی شاہد عمر نے بی بی سی کو بتایا ’میں اس دھماکے کے دس منٹ بعد جائے وقوعہ پر پہنچا تو صرف دھواں نظر آرہا تھا اور سب عمارتوں کے شیشیے ٹوٹے ہوئے تھے دروازے باہر نکلے ہوئے تھے۔ اس بازار میں زیادہ تر عورتیں اور بچے آتے ہیں۔ لوگ رو رہے تھے دھواں اُٹھ رہا تھا اور لگ رہا تھا جیسے قیامت آئی ہوئی تھی۔ لوگ بچوں اور عورتوں کو اٹھا کر ہسپتال لے جار ہے تھے۔

’ابھی تک آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکہ کس چیز میں ہوا۔ زحمی کافی خراب حالت میں تھے۔ پانچ لاشیں تو میں نے خود دیکھیں۔ امدادی کارروائیاں اب بھی ہو رہی ہیں لیکن ابھی بھی کافی لوگ لاپتہ ہیں۔ میرے اپنے بھائی اور کزن اسی بازار میں تھے۔ ہم یہاں کاروبار کرتے ہیں اور کافی دیر تک ہم انہیں ڈھونڈتے رہے کیونکہ ان کے موبائل بھی کام نہیں کر رہے تھے۔‘

صوبہ سرحد کے سینیئر وزیر بشیر احمد بلور نے سرکاری ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ اگر جی اچ کیو پر حملہ ہو سکتا ہے تو پشاور میں بھی ہر گاڑی کو چیک نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ یہ ایک کاروباری علاقہ ہے جہاں پر بہت رش ہوتا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔