’جب ہر دوسرا شخص خود کش بمبار لگے‘

پشاور بم دھماکا
Image caption بدھ کے روز پشاور شہر میں ہونے والے بم دھماکے میں ستاسی افراد ہلاک اور دو سو زخمی ہو گئے

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور نے اپنی طویل تاریخ میں شاید ہی کبھی اتنی بڑی تباہی دیکھی ہو جتنی کہ بدھ کو جب ایک ظالم ترین شخص نے بارود سے بھری گاڑی ایک مصروف تجارتی مرکز میں کھڑی کر کے بے گناہ اور معصوم بچوں، خواتین اور بڑوں کو بے دردی سے موت کی نیند سلا دیا اور درجنوں کو موت سے بھی بد تر حالات کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا۔

اس تباہی کی ذمہ داری کوئی قبول کرے یا نہ یہ بے معنی ہے۔ اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے اس واقعہ کو بھولنا مشکل ہو گا۔ یہ زخم ایک طویل مدت تک رہیں گے۔ شاید اس دن لوگ یہ زخم بھول جائیں گے جب ملک میں کوئی شدت پسند، فرقہ پرست یا دہشت گرد تنظیم نہ رہے اور ان کے خلاف مکمل کامیابی حاصل کر لی جائے۔

پشاور کے لوگ فخر محسوس کرتے تھے جب اس شہر کو ’ وسطیٰ ایشیاء کا راستہ‘ پُکارا جاتا تھا۔ افغانستان کے ساتھ اپنے قریبی محل و وقوع کی وجہ سے اس شہر نے کافی تاریخی حیثیت حاصل کی اور پھر اس شہر نے ہزاروں کی تعداد میں افعان مہاجرین کو پناہ دے کر وہ کارنامہ دکھایا کہ شاید دنیا میں کسی شہر نے حاصل کیا ہو۔

یہی سے پھر اس شہر کا مقدر بم دھماکے بن گیا اور سنہ انیس سو اسی اور نوے کی دہائیوں میں پشاور نے جس طرح دھماکوں کا سامنا کیا شاید ہی جرمنی اور روس کے شہروں نے دوسری جنگِ عظیم میں کیا ہو۔

’افغان جہاد‘ نے پشاور کی ثقافت اور آزاد خیال رجحان کو تبدیل کر دیا اور اب اس شہر کو شدت پسندی اور رجعت پسندی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس ’ باغات کے شہر‘ کو باردو کے شہر میں تبدیل کر دیا۔ آج اس شہر میں جو کیفیت بن گئی ہے وہ اس طرح ہے کہ ہر شخص کو دوسرا شخص خودکش بمبار لگ رہا ہے ہر دوسری گاڑی باردو سے بھری گاڑی نظر آ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کہ موت سامنے ناچ رہی ہے۔

وہ دن کون بھول سکتا ہے جب سنہ انیس سو چھیانوے میں پشاور شہر میں ودود سنز نامی دکان کے سامنے ایک دھماکا ہوا تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت چھیاسٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے لیکن بدھ کو ہونے والی دہشت گردی نے بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو رواں ماہ پشاور میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں عام شہریوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے رواں ماہ نو اکتوبر کو شہر کے خیبر بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے میں پچاس سے زائد بے گناہ شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

کیا سنہ انیس سو اسی اور نوے کی دہائیوں کے طریقہ کار کو دوہرایا جا رہا ہے؟ شہری آبادی کو نشانہ بنایا جائے تاکہ حکومت پر عوامی دباؤ ڈالا جائے۔ خیبر بازار اور پیپل منڈی میں نہ تو کوئی فوجی یا کوئی اور سرکاری ہدف موجود تھا جس کو کسی شدت پسند تنظیم کے لیے ختم کرنا ضروری تھا۔

کہتے ہیں جو ڈرتا ہے وہ پھر بے گناہ لوگوں کو مارنا شروع کر دیتا ہے لیکن اگر حکومت پشاور میں سکیورٹی کے حوالے سے بروقت اقدامات نہیں کرتی تو یہ رائے کہ ’ پاکستان نے پشاور کے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے‘ زور پکڑ لے گی اور عوامی رائے کی غیر موجودگی میں جنوبی وزیرستان یا سوات آپریشن متاثر ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں