پشاور دھماکہ: ایک سو تیرہ ہلاک، امدادی کام جاری

Image caption اڑسٹھ ایسے افراد آئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز و اقارب ابھی تک لاپتہ ہیں: ایدھی فاؤنڈیشن

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں گرنے والی عمارت کے ملبے سے جمعرات کے روز مزید دس لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ تین زخمی ہسپتال میں دم توڑ گئے جس کے ساتھ مرنے والوں کی کُل تعداد ایک سو تیرہ تک پہنچ گئی ہے۔

قصہ خوانی مینا بازار میں موجود ایدھی ویلفیئر فاونڈیشن کے میڈیا انچارج مجاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ملبے کو ہٹانے اور وہاں سے لاشیں نکالے جانے کے لیے امدادی کام تاحال جاری ہے۔

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی چالیس رکنی ٹیم، آرمی انجینئرنگ کور کے اہلکار اور سٹی گورنمنٹ کے امدادی اہلکار بھاری مشینری سے ملبہ ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

دھماکے کے اندوہناک مناظر

’صاف نظر آ رہا تھا کہ لوگ جل رہے تھے‘

مجاہد خان کے بقول جمعرات کو دس مزید لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ان کے مطابق ان کے پاس اڑسٹھ ایسے افراد آئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز و اقارب ابھی تک لاپتہ ہیں جو بقول ان کے واقعے کے وقت منہدم شدہ عمارت میں موجود تھے۔ ان کے مطابق اس بنیاد پر انہیں یہ شک ہے کہ اب بھی چالیس سے زائد افراد ملبے تلے دبے ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک سو آٹھ میں سے اکہتر لاشیں ایسی ہیں جو اتنی بری طرح جھلس گئی ہیں کہ ان کی پہچان ممکن نہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر عطا اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس مرنے والوں کی تعداد چورانوے اور زخمیوں کی دو سو سے زائد ہیں جن میں اب بھی پینتیس افراد کی حالت نازک ہے۔ ان کے مطابق ہلاک شدگان میں اکتیس خواتین اور تیرہ بچے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شدید زخمیوں میں سے تین افراد دم توڑ گئے ہیں۔

دوسری طرف انجمن تاجران پشاور نے تین روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے شہر کے کئی کاروباری مراکز بند ہیں۔ تنظیم نے احتجاج کے طور پر وزیراعلیٰ کے ساتھ پہلے سے شیڈول ملاقات کرنے سے انکار کردیا ہے۔

پولیس نے سکیورٹی کے پیش نظر شہر کے کئی سڑکوں اور راستوں پر مزید چیک پوسٹیں لگادی ہیں جہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی اور لوگوں سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔

دوسری طرف ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورگزئی سےکالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں کار بم دھماکے میں طالبان نہیں بلکہ امریکی سکیورٹی ایجنسی ’ بلیک واٹر‘ اور دیگر ادارے ملوث ہیں۔

جمعرات کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے وائرلیس فون پر بات کرتے ہوئے حکیم اللہ محسود نے کہا کہ ’اگر طالبان اسلام آباد اور جی ایچ کیو پر حملے کرسکتے ہیں تو پھر وہ عام عوام کو کیوں ٹارگٹ بنائیں۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ شہری مقامات پر ہونے والے تمام بم دھماکوں میں امریکی سکیورٹی ایجنسی ’ بلیک واٹر‘ اور دیگر پاکستانی ادارے ملوث ہیں جس کا مقصد ان کے بقول عسکریت پسندوں کو بدنام کرنا ہے۔ ان سے بار بار جب یہ سوال کیا گیا کہ اب تو حکومت کے علاوہ عام عوام بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان دھماکوں میں بیت اللہ گروپ کے طالبان ملوث ہیں تو اس پر عسکریت پسند کمانڈر نے کہا ’ہماری جنگ صرف حکومت اور سکیورٹی فورسز کے خلاف ہے عام لوگوں کے خلاف نہیں اس لیے وہ ان میں ملوث نہیں۔‘

اس موقع پر حکیم اللہ کے ہمراہ کالعدم تنظیم کے ترجمان اعظم طارق بھی موجود تھے۔ اعظم طارق نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ذرائع ابلاغ کے وہ ادارے جو ان کے بقول ’طالبان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں‘ وہ ان کے نشانے پر ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں