این آر او کے خلاف رائے عامہ مہم

نواز شریف
Image caption این آر او کرپشن کو جائز قرار دینے کا بل ہے۔

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ نون نے قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او کے خلاف رائے عامہ کو متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان سنیچر کو وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف کی طرف سے این آر او کے بارے میں جاری کیے جانے والے پالیسی بیان کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے رہنما اور وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان کی رائے عامہ کو این آر او کے خلاف متحرک کرنے کا پروگرام تیار کیا ہے۔

اس سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ این آر او کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد ان کی جماعت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کھنچاؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون وانصاف میں شامل مسلم لیگ نون کے ارکان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت این آر او پارلیمنٹ سے منظور کے بعد بھی عدالت کو اس کا جوڈیشل ریویو لینے کا اختیار ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زاہد حامد کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی فہرستیں فراہم کی جائیں جن لوگوں نے این آر او سے فائدہ اٹھایا ہے۔

وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف نے پالیسی بیان میں کہا کہ این آر او کی کامیابی پاکستانی قوم کی شکست ہوگی اور اس بل کی منظوری میں شامل ہونے والے عناصر کو ان جرائم میں برابر کا شریک سمجھا جائے گا جن کے تحفظ کے لیے یہ قانون لایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس بل کی منظوری مسلمہ سیاسی، قانونی اور جمہوری اقدار کے قتل کے مترادف ہوگی اور انہیں یقین ہے کہ پارلیمنٹ کا کوئی باضمیر رکن پارلیمنٹ کو رسوا کرنے کے لیے اس عمل میں شریک نہیں ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان قوم این آر او کی حمایت کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ کے سامنے این آر او کا مسئلہ ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے اور بقول ان کے انہیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ایک مخصوص گروہ کی کامیابی کے لیے این آر او کو منظور کرکے اپنی ناکامی کے مسودہ پردستخط کرنے کی مرتکب ہوگی اور یہ کیوں چاہے گی کہ ایک ڈکیٹر کے قانون کو تحفظ دے کر اپنے جمہوری کردار کو سوالیہ نشان بنالے۔

Image caption این آر او کی کامیابی پاکستانی قوم کی شکست ہوگی

وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے بھی بہترین لائحہ یہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں نام ونہاد اکثریت کا سہارا لینے کے بجائے عدالتوں سے رجوع کرے کیونکہ بقول ان کے آزاد عدلیہ کے قیام کے بعد اب ان کے پاس ماضی کی طرح یہ جواز بھی باقی نہیں رہا کہ انہیں عدلیہ پر اعتماد نہیں رہا۔

ان کے بقول این آر او کا قانون ہرطرح کے اخلاقی اور سیاسی جواز سے محروم ایک ایسی دستاویز ہے جسے پاکستانی رائے عامہ ابتدا ہی سے حقارت کے ساتھ مسترد کر چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج حکومت کے روایتی حلیف بھی اس کی توثیق کے گناہ میں شریک ہونے سے گریزاں دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری طرف سابق کرکٹر وسیم اکرم کے گھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے این آر او بل پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ این آر او کرپشن کو جائز قرار دینے کا بل ہے ۔ انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ جن افراد نے این آر او کے تحت فائدہ لیا ہے اور اس سے دستبرار ہوں اور ان لوگوں کو خود عدالتوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ نواز شریف نے بتایا کہ تین نومبر کو ان کی جماعت کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہورہا ہے جس میں این آر او کے حوالے سے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اسی بارے میں