سرکش سندھی کے خلاف مقدمہ

سرکش سندھی
Image caption سرکش سندھی کے خلاف مذہبی نفرت پھیلانے، اقدامِ قتل اور عورتوں کو بلیک میل کرنے کا الزام ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنی والی خواتین نے ایک شاعر کے خلاف ہندو مسلم فسادات کی سازش کرنے کا مقدمہ درج کروایا ہے۔عورتوں کی تنظیم وومین ایکشن فورم نے پولیس کو شکایت کی ہے کہ شاعر سرکش سندھی نے اپنی تازہ متنازعہ کتاب میں ایک مسلمان عورت کی ہندو نوجوان کے ساتھ دوستی کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کی غیرت کو اپیل کی ہے کہ وہ مذکورہ ہندو نوجوان کو قتل کر دیں۔

وومین ایکش فورم سندھ چیپٹر کی سرکردہ رہنماء امر سندھو نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ شاعر سرکش سندھی نے ایک ذاتی مسئلے کو ہندو مسلم فسادات کی سازش کے لیے استعمال کیا ہے۔امر کے مطابق ان کی تنظیم نے شاعر کو سمجھانے کی کوشش کی مگر انہوں نے عورتوں کو مولویوں کے جلوس کی دھمکی دی ہے۔

لاڑکانہ پولیس نے وومین ایکشن فورم کی شکایت پر شاعر سرکش سندھی کے خلاف مذہبی نفرت پھیلانے، اقدام قتل اور عورتوں کو بلیک میل کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کر لیے ہیں۔ لاڑکانہ پولیس کے سربراہ عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ مذہبی فسادات کی سازش کرنے والے شاعر کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

سرکش سندھی نے حالیہ دنوں اپنی جیون کہانی کا متنازعہ دوسرا حصہ چھپوایا ہے۔ دو سو پندرہ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں دو مختلف عورتوں کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔جو بقول شاعر ان کے ساتھ ’پوتر محبت‘ کا اظہار کر چکی ہیں۔

سرکش نے ایک عورت شاعرہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ مجھے ابا کہتی تھیں اور انہوں نے ایک ہندو نوجوان سے جنسی تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔ جو صدمہ وہ برداشت نہیں کرسکے ہیں۔

شاعر نے اپنی کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے مذکورہ عورت کے عاشق ہندو نوجوان کو واجب القتل قرار دیا۔ انہوں نے ’غیرت مند مسلمانوں کی اسلامی غیرت کو پکار‘ کے نام سے پندرہ سو پمفلٹ ضلع گھوٹکی میں تقسیم کیے ہیں۔جہاں وہ ہندو نوجوان رہائش پذیر تھے۔

عمر رسیدہ شاعر نے مذکورہ پمفلٹ میں ہندو نوجوان کا نام اور پتہ لکھ کر بتایا ہے کہ سریچند نے ایک شادی شدہ تین بچوں کی ماں مسلمان عورت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور ان کی نظر میں وہ واجب القتل ہیں۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مذکورہ ہندو نوجوان کو قتل کرکے اسلامی غیرت کا ثبوت دیں۔

پمفلٹ کی تقسیم کے بعد شاعر کا کہنا ہے کہ سریچند انڈیا نقل مکانی کر چکے ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ اگر ان کی اپنی بیٹی ایسی حرکت کرتی تو وہ انہیں بہت پہلے قتل کروا چکے ہوتے۔

وومین ایکشن فورم کی رہنماؤں نے اپنی درخواست میں پولیس اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ شاعر کی مذکورہ کتاب پر پابندی لگا کر تمام کاپیاں ضبط اور تلف کی جائیں اور صوبہ بھر میں کسی کتاب گھر کو ان کی کتاب نہ رکھنے کا پابند بنایا جائے۔

شاعر سرکش سندھی ایک عمر رسیدہ شاعر اور کینسر کے مریض ہیں۔ان کی چھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔وہ بظاہر ترقی پسند ادبی تنظیموں کے رکن رہے ہیں۔مگر ان کی حالیہ کتاب نے ان کے حلیفو اور حریفوں دونوں کو حیران کردیا ہے۔

اسی بارے میں