جیئے سندھ کا آزادی جلوس، کیوں؟

Image caption جیئے سندھ کے مطابق ’پاکستان نہ کھپے‘ ریلی میں دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی

گزشتہ اتوار کو کراچی میں کلہاڑیوں والے سرخ پرچم اٹھائے پاکستان نہ کھپے (پاکستان نہیں چاہیے) کے نعرے لگاتے ہوئے ہزاروں سندھیوں کے ’فریڈم مارچ’ کا چرچہ آزاد میڈیا میں تو اتنا نہیں ہوا البتہ اقتدار کے اصل ایوانوں میں بیٹھ با اختیار حکام کےلیے اس جلوس نے کئی سوالات پیدا کردیئے ہیں۔

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی تو کیا سندھ کے کسی بھی بڑے شہر میں گزشتہ نصف صدی میں سندھ کی کسی علیحدگی پسند جماعت کی اپیل پر اتنا بڑا سندھیوں کا جلوس نہیں نکلا۔ کراچی کے سابقہ بندر روڈ اور موجودہ محمد علی جناح روڈ پر تبت سنٹر سے نمائش تک سرخ پرچم جھولتے نظر آئے۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں کچھ ماہ قبل متحدہ قومی موومنٹ نے جلسہ کیا تھا اور کراچی کے بعض صحافیوں کے مطابق جیئے سندھ قومی محاذ کا جلوس متحدہ کے جلوس سے کافی بڑا تھا۔ لیکن ماسوائے چند اخبارات کے پاکستان کی قومی میڈیا نے اس کی کوریج اتنی بھی نہیں کی جتنی کہ چند روز قبل الطاف حسین کے گلگت میں فون پر کیےگئے خطاب کی دیکھنے کو ملی۔

ہاں البتہ سندھی میڈیا میں اس کی کوریج نمایاں نظر آئی۔ پانچ کے قریب سندھی ٹی وی چینلز نے براہ راست اس جلسے کی کوریج کی۔ منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ جلوس میں شرکاء کی تعداد دو لاکھ تھی جبکہ سندھی میڈیا میں اکثر کےمطابق یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ اور جنگ اخبار نے یہ تعداد ایک لاکھ بتائی ہے۔

جیئے سندھ قومی محاذ کی اپیل پر نکالےگئے اس آزادی کے جلوس کا مقصد تو سندھ میں سندھیوں سے ہونے والی زیادتیوں، سندھ کے معدنی وسائل پر سندھیوں کے حقوق کو تسلیم کرنے اور سندھ کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی طرف اقوام عالم کی توجہ مبذول کرانا بتایاگیا ہے۔

لیکن اس تنظیم کے سربراہ بشیر خان قریشی اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صفدر سرکی سمیت اکثر خطاب کرنے والوں نے اپنی تقاریر میں سندھ کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے اعداد و شمار دیتے ہوئےحکمران پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کےلیےجو بظاہر ایک پیغام دیا ہے وہ قابل ذکر ہے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، مرتضی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے قتل کو ریاستی قتل قرار دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ وفاق کی سیاست چھوڑیں اور سندھ کی آزادی کی بات کریں۔

جبکہ جیئے سندھ قومی محاذ کے رہنماؤں نے متحدہ قومی موومنٹ کو اپیل کی ہے کہ وہ اعلیٰ نسل ہونے کی ’فاشسٹ‘ سوچ چھوڑ کر سندھ کی آزادی کی قومی تحریک کا حصےدار بن کر اپنا تاریخی فرض پورا کریں۔

اسلام آباد کے بعض صحافیوں کا خیال ہے کہ ایسے وقت میں جب صدر آصف علی زرداری کو ایوان صدر سے نکالنے کی باتیں ہو رہی ہیں، جیئے سندھ قومی محاذ کے اچانک اتنے بڑے جلوس نکالنے کا ایک مقصد یہ پیغام دینا بھی ہوسکتا ہے کہ سندھ میں علیحدگی کا عنصر اب بھی بڑے پیمانے پر موجود ہے اور اگر سندھ میں وفاق کی سوچ رکھنے والی پیپلز پارٹی کے آئینی اور جمہوری طور پر منتخب صدر کو غیر آئینی انداز میں بزور بازو نکالا گیا تو اس کے اثرات وفاق کے لیے منفی ہوں گے۔

ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا بینظیر بھٹو، جب ان کی لاشیں راولپنڈی سے لاڑکانہ پہنچیں تھی تو اس وقت سندھ میں کئی پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بھی پاکستان نہ کھپے کے نعرے لگائے تھے۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے قتل پر پنجاب میں ہونے والی خود سوزیوں کی بنا پر پاکستان چاہیے کا نعرہ لگا کر سب کو خاموش کرادیا تھا اور بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے یعنی پاکستان چاہیے کا نعرہ لگا کر اپنی جماعت کے وفاق سے ناراض کارکنوں کو چپ کرائی تھی۔

سوات آپریشن کے دوران پشتو بولنے والے متاثرین کی بڑی تعداد میں سندھ آنے کی مخالفت کے دوران سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے جیئے سندھ محاذ کے جلوسوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کے چند ایس ایچ اوز خدمات حاصل کی تھی۔ لیکن کراچی میں اب جیئے سندھ قومی محاذ کے اتنے بڑے جلوس کے لیے کہیں رکاوٹ پیدا نہیں کی گئی۔ جہاں پیپلز پارٹی نے جیئے سندھ کے جلوس کو نہیں روکا وہاں بارہ مئی سنہ دو ہزار سات کو جس طرح متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے مخالفین کی جو درگت بنائی، انہوں نے بھی جیئے سندھ کے اتنے بڑے جلوس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

جیئے سندھ کا ’آزادی جلوس‘ پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کے تاثر کو جیئے سندھ قومی محاذ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صفدر سرکی نے ’بکواس‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ جب ان سے پوچھا کہ اچانک ہزاروں سندھی کراچی میں کیسے اور کہاں سے آئے تو انہوں نے کہا ’یہ اچانک نہیں ہوا۔۔ ہم نے چار ماہ سے سندھ کے ہر ضلع کے اکثر دیہات میں جا کر مہم چلائی اور کراچی کے گرد و نواح میں ڈیڑھ سے زیادہ گوٹھوں میں جا کر لوگوں کو جلوس میں شرکت کے لیے آمادہ کیا۔‘

صفدر سرکی نے بتایا کہ ’ہم نے تو سندھیوں کو کہا کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سندھ کی نمائندہ جماعتیں نہیں ہیں۔ ان دونوں جماعتوں نے سندھیوں کو حقوق دلائے ہیں اور نہ کبھی دلائیں گی۔ اس لیے نکلو اور ثابت کرو کہ کراچی میں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے بڑا جلوس سندھی بھی نکال سکتے ہیں اور اس جلوس میں دو لاکھ افراد کی شرکت نے ثابت کردیا کہ جیئے سندھ ہی سندھیوں کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے جو سندھ کی پاکستان سے آزادی چاہتی ہے اور ہمارا یہ نعرہ ہے کہ پاکستان نہ کھپے۔‘

تاہم صفدر سرکی نے تسلیم کیا کہ جلوس کے تمام شرکاء ان کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے اور اس میں سندھ کی مختلف قومپرست جماعتوں کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے جلوس میں اندرون سندھ سے پچاس ہزار کے قریب لوگ آئے جبکہ ڈیڑھ لاکھ لوگ کراچی سے شریک ہوئے اور کراچی کے بیشتر گاؤں میں ہمارے کارکن کم ضرور ہیں لیکن ہمدرد کہیں زیادہ ہیں۔‘