پشاور میں پھر دھماکہ، گیارہ ہلاک

فائل فوٹو
Image caption پشاور ان دنوں دہشت گردی کی شدید لہر میں ہے

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کے مطابق ایک چیک پوسٹ پر کار خودکش حملہ ہوا ہے جس میں گیارہ افراد ہلاک اور چھبیس زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور کے ضلعی رابطہ آفسر صاحبزادہ انیس کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی میں سوار ایک مبینہ خودکش بمبار نے اس وقت خود کو دھماکے کے ساتھ اڑا دیا جب رنگ روڈ پشتخرہ کے علاقے میں پولیس نے اسے چیک پوسٹ پر روکنے کی کوشش کی۔

پشتخرہ میں دھماکہ، تصاویر

ان کے بقول دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک جبکہ چھبیس زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار، تین خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔ ہلال احمر پاکستان کی گاڑی تباہ ہوگئی ہے اور ڈرائیور ہلاک ہو گیا ہے۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ، خیبر ٹیچنگ اور حیات آباد میڈیکل ہسپتال پہنچادیا ہے جہاں پر بعض کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

پشاور کا پشتخرہ نامی علاقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے قریب واقع ہے۔ خیبر ایجنسی میں پہلے سے ہی متعدد مقامی شدت پسند تنظیمیں سرگرم عمل ہیں تاہم اب ایسی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کی وجہ سے فرار ہونے والے جنگجو بھی یہاں پہنچ چکے ہیں۔

تازہ دھماکے ساتھ ہی صوبہ سرحد میں گزشتہ چھ دنوں کے دوران ہونے والے دھماکوں کی تعداد چھ تک پہنچ گئی جس میں مجموعی طور اسی سے زائد افرادہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں سے چار دھماکے پشاور میں ہوئے ہیں۔

جمعہ کو ہی دو مختلف کار خودکش حملوں میں پشاور میں آئی ایس آئی کے دفتر اور بنوں میں پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں مجموعی طور پر تیئیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں