’علاقہ خالی کرنا حکمت عملی ہے‘

کلعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کےسربراہ حکیم اللہ محسود کے ترجمان اور خودکش حملہ آووروں کے ماسٹر مائنڈ قاری حسین نے حکومت پاکستان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے ورنہ پاکستان کے اندر خود کش حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہو گا۔

کسی نامعلوم مقام سے فون پر بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے قاری حسین نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ پاکستان کے اندر خود کش حملوں کو روک سکتے ہیں تو روک کر دکھائیں۔

قاری حسین نے صوبہ سرحد کے شہر پشاور اور بنوں میں ہونے والے خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں آئی ایس آئی کے دفتر کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ حکومت کی پالیسی سازی میں خفیہ اداروں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔

پشاور میں آئی ایس آئی اور بنوں میں ایک پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے خود کش حملوں میں بیس افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے وزیرستان میں فوجی کارروائی اور امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی معاونت اور شمولیت ہے۔

وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ طالبان نے یہ علاقے میں خالی کر دیئے ہیں اور ایسا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کا مقاصد وہاں پر گوریلا جنگ کے لیےاپنی عددی قوت کو برقرار رکھنا اور اسلح کو بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان میں طالبان پاکستان فوج کے خلاف گوریلا جنگ شروع کرچکے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس میں تیزی آئے گی۔

اسی بارے میں