تھانے پر کار ’خودکش‘ حملہ، تین ہلاک

پشاور خودکش حملہ
Image caption پشاور میں گزشتہ چند دنوں سے دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس سٹیشن کے قریب ہونے والے ایک مبینہ خودکش کار بم حملے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور چوبیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور کے ایس پی رورل بشیر اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی صبح پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں اس وقت پیش آیا جب ماشو خیل کے علاقے سے آنے والے ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی مسجد کی عمارت سے ٹکرا دی۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے سے مسجد کا ایک حصہ تباہ ہوگیا ہے جبکہ قریب واقع بڈھ بیر تھانے کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق حملے میں تھانے کی دیوار اور اندرنی حصے کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ دھماکے میں اب تک تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہیں جب کہ کم از کم چوبیس افراد زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر حملہ آور کا ہدف پولیس سٹشین تھا تاہم تھانے کے اردگرد سخت حفاظتی انتظامات کے باعث وہ اندر پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قریب واقع دو تین مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ تھانہ بڈھ بیر پشاور سے کوہاٹ جانے والی اہم شاہراہ پر پشاور کے نواحی علاقے میں واقع ہے۔ شہر سے دور مضافاتی مقام پر ہونے کی وجہ سے اس تھانے کے اردگرد سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس سٹیشن جانے والے تمام راستوں پر مضبوط بئیرز لگائے گئے ہیں۔

پشاور شہر میں گزشتہ چند دنوں سے دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دو دن پہلے پشتخرہ پولیس سٹیشن کے قریب ایک پولیس ناکے کو خـودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے ایک دن قبل شہر کے حساس مقام پر آئی ایس آئی کے مرکز کو ایک دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس سے مرکز کی عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔

اسی بارے میں