کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے۔۔۔

آصف جیلانی فیض احمد فیض اور ضیا محی الدین کے ساتھ بی بی سی سٹوڈیو میں
Image caption آصف جیلانی فیض احمد فیض اور ضیا محی الدین کے ساتھ بی بی سی سٹوڈیو میں

میں اپنے آپ کو بے حد خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی صحافتی زندگی کا سفر روز نامہ امروز کراچی سے شروع کیا جس کے چیف ایڈیٹر فیض احمد فیض تھے۔ جنوری انیس سو تریپن میں جب میں نے امروز میں کام شروع کیا تو اس زمانہ میں فیض صاحب راولپنڈی سازش کیس میں حیدر آباد سندھ کی جیل میں قید تھے۔

انہیں انیس سو اکیاون کے اوائل میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ سجاد ظہیر، محمد حسین عطا، جنرل اکبر خان، میجر اسحاق اور دوسرے فوجی افسروں کے ساتھ لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پانچ جنوری انیس سو تریپن کو اس کیس کا فیصلہ سنایا گیا تھا اور فیض صاحب کو چار سال قید کی سزا دی گئی تھی۔

سن پچپن میں رہائی کے بعد جب فیض صاحب دوبارہ امروز اور پاکستان ٹائمز کے چیف ایڈیٹر بنے تو چند ماہ بعد کراچی آئے اور انہوں نے امروز کے عملہ سے ملاقات کی اور ان کے مسائل کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ عملے نے پہلے سے کچھ مطالبات تحریر کیے تھے جو فیض صاحب کے سامنے پیش کیے گئے۔ عجیب وغریب انداز تھا ان کا۔ وہ مطالبات کی فہرست پر ایک ایک مطالبہ کو دہراتے اور قلم سے صحیح کا نشان لگا کر کہتے کہ ہاں یہ ہو جائے گا اور جن مطالبات کو وہ سمجھتے کہ یہ پورے نہیں ہو سکتے اس پر کراس کا نشان لگا کر کہتے یہ مشکل ہے۔ انہوں نے نہ مطالبات پر لمبی بحث کی اور نہ عملہ کو اپنے مطالبات کے حق میں کچھ کہنے کی ضرورت پیش آئی۔

میں اس زمانہ میں اخبار کا واحد رپورٹر تھا جس پر پولیس، سٹی کورٹ سندھ چیف کورٹ کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ اور دوسری وزارتوں کی کوریج کی ذمہ داری عائد تھی۔ میں پچھلی صف میں بیٹھا تھا۔ فیض صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ آپ کو کوئی کنوینس الاؤنس نہیں ملتا۔ آخر اتنی جگہ رپورٹنگ کے سلسلہ میں آنے جانے پر آپ کا کافی خرچ ہوتا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو پچاس روپے ماہانہ کا کنوینس الاؤنس ملنا چاہیے۔ اس زمانہ میں روز نامہ امروز میں دوسرے اخبارات کے برعکس باقاعدہ تنخواہ کا اسکیل مقرر تھا اور ایک سب ایڈیٹر اور رپورٹر کی تنخواہ کا اسکیل دو سو دس روپے ماہانہ سے شروع ہوتا تھا۔ یہ کنوینس الاؤنس اس اسکیل کے لحاظ سے اچھا خاصا تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ یہ میری زبردست ترقی ہے۔ فیض صاحب سے یہ میری پہلی رو برو ملاقات تھی۔ مجھے ایسا لگا کہ انہوں نے میرے کچھ کہے بغیر میرے دل کی بات بھانپ لی ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ آپ نے انیس سو تریپن کی طلبا کی تحریک بڑی جانفشانی سے کور کی ہے۔ آپ ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آپ سے بہتر طلبا کے مسائل کا کس کو ادراک ہو گا۔ کیوں نہ آپ امروز میں ہر ہفتہ طلبا کا صفحہ شروع کریں جس میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی میں طلبا کی سرگرمیوں اور ان کے مسائل کے بارے میں ذکر ہو۔ اس وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ایک شفیق مربی اور استاد نے میرا ہاتھ پکڑ میری ہمت بندھائی ہے اور مجھے راہ دکھائی ہے۔

فیض صاحب نے اس موقع پر اپنے خاص دھیمے لہجہ میں زور دیا کہ شہر اور ملک کے مسائل کی اس انداز سے نشان دہی کرنی چاہیے اور اس طرح پیش کیا جانا چاہیے کہ پڑھنے والے اس اخبار کو اپنی آواز سمجھیں اور اپنا اخبار کہنے میں فخر محسوس کریں۔ یہی اعلی صحافت کا آدرش ہے اور یہی کامیاب صحافت ہے۔ فیض صاحب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کے مسائل کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے خطوں کے مسائل اور خاص طور پر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے عوام کے مسائل کو بھی اپنے پڑھنے والوں کے سامنے پیش کریں۔ کنویں کے مینڈک بنے رہنا ٹھیک نہیں۔

جیسے ہی دفتری مسائل نمٹ گئے عملہ نے فیض صاحب سے فرمائش کی کہ وہ اپنا تازہ کلام عنایت فرمائیں۔ فیض صاحب نے یوم آزادی کے موقع پر جو تازہ نظم کہی تھی وہ سنائی:

چاند دیکھا تری آنکھوں میں نہ ہونٹوں پہ شفق

ملتی جلتی ہے شب غم سے تری دید اب کے

پھر سے بجھ جائیں گی شمعیں جو ہوا تیز چلی

لا کے رکھو سر محفل کوئی خورشید اب کے

اس کے بعد یہ دفتری میٹنگ شعری محفل میں بدل گئی اور جب بھی فیض صاحب امروز کے دفتر آتے تو عملہ سے ملاقات کا یہی انداز رہتا۔

اسی زمانہ کی یہ یاد اب بھی تازہ ہے۔ فیض صاحب کی آمد کی خبر سن کر سلیم عاصمی، آغا ناصر اور دوسرے ساتھیوں نے کراچی یونیورسٹی میں جہاں ہم نے یونیورسٹی کلب بنا رکھا تھا فیض صاحب کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی۔ فیض صاحب سے جب ان کے تازہ کلام کی فرمائش کی گئی تو ان کا اصرار تھا کہ وہ پہلے نوجوان طلبا شاعروں کو سنیں گے۔ ان نوجوانوں میں حبیب جالب بھی شامل تھے۔ جب ان سے اپنا کلام پیش کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے اپنا کلام سنانے کے بجائے فیض صاحب کی مشہور نظم تنہائی سنانے پر اصرار کیا۔ حبیب جالب کی غضب کی آواز تھی اور جب انہوں نے لہک کر یہ غزل سنائی تو پوری تقریب جھوم جھوم اٹھی۔

پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں

راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا

ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار

لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراخ

اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

فیض صاحب گو دوسری عالم گیر جنگ کے دوران فوج کے تعلقات عام کے شعبہ میں کام کرتے تھے اور انہیں لفٹیننٹ کرنل کا عہدہ بھی ملا تھا لیکن اس بات پر ان کے رفیق اتفاق کرتے ہیں کہ وہ کوئی اعلیٰ منتظم نہیں تھے البتہ ایک ایڈیٹر کی حیثیت سے وہ نہایت کامیاب شخص تھے۔ ان میں سب سے بڑا ہنر اپنے ماتحتوں میں اپنے دھیمے نرم اور ملائم انداز سے ایسا اعتماد اور وجدان پیدا کرنے کا تھا کہ کوئی کام ان کے لیے ناممکن نہیں رہتا تھا۔ وہ بلاشبہ خوش قسمت تھے کہ انہیں مولانا چراخ حسن حسرت، احمد ندیم قاسمی، ایوب کرمانی، سید سبط حسن، حمید ہاشمی اور ظہیر بابر جیسے ساتھی ملے۔ ایک کہکشاں تھی جو اب ناپید ہے۔

سن انیس سو اٹھاون میں جب ایوب خان نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا تو اس وقت فیض صاحب ادیبوں کی کانفرنس میں شرکت کے لیے سویت یونین گئے ہوئے تھے۔ ملک کے حالات کے پیش نظر ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پاکستان نہ جائیں لیکن انہوں نے یہ مشورہ نہ مانا اور وہ وطن لوٹے جہاں انہیں بغیر کسی الزام کے فی الفور گرفتار کر لیا گیا۔ وہ چار مہینہ قید رہے اور متواتر پوچھ گچھ کا نشانہ بنے۔ اس قید سے رہائی کے بعد انہوں نے یہ قطعہ لکھا:

ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہو

جو عمر سے ہم نے بھر پایا وہ سامنے لائے رکھتے ہیں

دامن میں ہے مشت خاک جگر، ساغر میں ہے خون حسرت مہ

لو ہم نے دامن جھاڑ دیا لو جام الٹائے دیتے ہیں

پھر ایوب خان کی مارشل لا حکومت نے سیکرٹری الطاف گوہر اور برگیڈیئر ایف آر خان کی سفارش پر پاکستان ٹائمز امروز اور لیل ونہار پر قبضہ کر لیا اور اعلیٰ درجہ کے ادارہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ میاں افتخار الدین اس ادارہ کی ملکیت سے محروم ہو گئے، فیض صاحب اپنی چیف ایڈیٹری ہاتھ سے کھو بیٹھے اور عوام آزاد اور ترقی پسند اخبارات سے تہی دست ہو گئے۔

فیض صاحب سن انیس سو اٹھتر سے انیس سو بیاسی تک جلا وطن رہے۔ اس دوران بیشتر عرصہ انہوں نے لندن میں گزارا۔ لندن میں وہ مسول ہل میں راولپنڈی سازش کیس کے ایک ساتھی ملزم افضل صاحب کے ہاں رہتے تھے۔ اس زمانہ میں میں بھی مسول ہل میں رہتا تھا۔ اکثر ملاقاتیں رہتی تھیں۔ انہیں قریب ہی الگزانڈرا پیلس کا خوشمنا پارک بہت دلکش لگتا تھا۔ یہ ایک پہاڑی پر ایک شاہی محل ہے جہاں سے بی بی سی کی ٹیلیوژن نشریات شروع ہوئی تھیں۔ لندن سے انہیں ایک خاص عقیدت تھی۔ ایک بار میں نے نہایت بھول پن سے ان سے اس عقیدت کی وجہ پوچھی۔ اپنے خاص انداز میں مسکراتے اور ہلکے سے کنکھارتے ہوئے بولے ارے بھئی یہ ہمارا سسرال جو ہے اور ویسے جب ہم انڈین آرمی میں لفٹنٹ کرنل تھے تو ہمیں ایم بی ای کا اعزاز بھی ملا ہے۔

فیض صاحب سن انیس سو اسی میں یاسر عرفات کی دعوت پر بیروت چلے گئے جہاں انہوں نے پی ایل او کے جریدہ لوٹس کی ادارت سنبھالی۔ مظلوم فلسطینیوں کے کاز سے فیض صاحب کو بے پناہ عقیدت تھی اور اسی لگن سے انہوں نے لوٹس کو بہت جلد نہایت موثر اور مقبول جریدے میں ڈھال دیا۔ اسی دوران انہوں نے فلسطین کے موضوع پر مضامین اور نظمیں لکھیں۔

فیض صاحب جب بیروت میں تھے تو وقتاً فوقتاً لندن آتے تھے۔ یہاں مختلف احباب کے ہاں محفلیں سجتی تھیں۔ اسی ایک محفل میں انہوں نے فلسطینی بچے کی لوری سنائی:

مت رو بچے

رو رو کے ابھی

تیری امی کی آنکھ لگی ہے

مت رو بچے

کچھ ہی پہلے

تیرے ابا نے

اپنے غم سے رخصت لی ہے

مت رو بچے

تیرے آنگن میں

مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں

چندر ما دفنا کے گئے ہیں

یہ لوری سنتے ہی محفل کے تمام لوگ رونے لگے۔

لندن میں قیام کے دوران فیض صاحب وقتاً فوقتاً سویت یونین آتے جاتے تھے۔ گو انہوں نے کبھی کہا نہیں لیکن اس دوران ان کی نظموں سے سویت نظام سے ناخوشی کی روح تہہ آب نظر آتی تھی۔ وہ دور برزنیف کا استبدادی دور تھا جب کہ سویت یونین نے افغانستان میں در اندازی کی تھی اور جہادی مزاحمت کی آگ بھڑکا دی تھی۔ سویت نظام کے بارے میں ان کی مایوسی ان کی اس نظم میں جھلکتی ہے:

اس وقت تولگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے

مہتاب نہ سورج نہ اندھیرا نہ سویرا

آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن

اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا

یا پھر

ہزار وہم و گماں سنبھالے

کئی طرح سے سوال تھامے

ابھی فیض صاحب ستر برس ہی کے تھے کہ لندن کے اردو مرکز کو نہ جانے کیا سوجھی کہ ان کے کلام کی کلیات ’سارے سخن ہمارے‘ کے نام سے شائع کی اور فیض صاحب کو اس کی تقریب رونمائی میں مدعو کیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ اردو مرکز فیض صاحب کے کلام کی کلیات شائع کر کے غالباً یہ اعلان کر رہا ہے کہ فیض صاحب کو جو کچھ کہنا تھا وہ انہوں نے کہہ دیا ہے اور اس کے بعد اب وہ کچھ نہیں کہیں گے اور بس یہ کلیات ہی ہے۔ بقول فیص: اب کوئی اور کرے پرورش گلشن غم

اسی کلیات میں پہلی بار فیض صاحب کا پنجابی کا بھی کلام شامل کیا گیا:

کدھرے نہ پیند یاں دساں

وے پردیسیا تیریاں

کاگ اڈاواں شگن مناواں

وگدی وادے ترلے پاواں

تری یاد پوے تے روواں

ترا ذکر کراں تاں ہساں

کدھرے نہ پیندیاں دساں