پشاور کچہری کے گیٹ پر دھماکہ، انیس افراد ہلاک

Image caption ملک حالت جنگ میں ہے اور جنگ میں کچھ بھی کسی بھی وقت ہو سکتا ہے لیکن ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں تیار ہیں: بشیر بلور

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے گیٹ پر ایک خود کش حملے میں انیس افراد ہلاک اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

پشاور کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر صاحبزادہ محمد انیس نے میڈیا کو بتایا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور کچہری میں داخل ہونا چاہتا تھا اور اس کو جب تلاشی کے لیے روکا گیا تو اس نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔ ڈی سی اور پشاور نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں اے ایس آئی سمیت تین اہلکار بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبدالحمید آفریدی نے سولہ افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے چھ کی حالت نازک ہے۔

ایک عینی شاہد عارف ریحان نے بی بی سی کو بتایا ’آج بھی اخبار دینے آیا تھا، پولیس اہلکاروں سے بات چیت ہوئی تو انھوں نے تنخواہوں کا ذکر کیا اور پھر میں چلا گیا۔ ابھی چند لمحے گزرے تھے کہ اتنے میں دھماکہ ہوا اور واپس آکر دیکھا تو ان پولیس والوں کی لاشیں پڑی تھیں۔‘

ایک عینی شاہد اویس قادری ایڈووکیٹ نے کہا ’حملہ آور ایک پیلی ٹیکسی سے نیچے اترا اور جوڈیشل کملیکس کے اندر جانا چاہ رہا تھا۔ گیٹ پر تعینات سکیورٹی کے اہلکاروں نے روکا تو اتنے میں دھماکہ ہوگیا۔‘

چارسدہ سے اپنے مقدمے کی سماعت کے لیے آنے والے طارق اقبال نے بتایا ’میں گیٹ کے اندر چلا گیا تھا اور اس کے بعد ایک شخص آیا جسے روکا تو زور دار دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد ہر طرف لاشیں پڑی نظر آئیں۔ میں نے تقریباً پندرہ لاشیں دیکھیں۔ پولیس اہلکاروں کی لاشیں تو جیسے ریزہ ریزہ ہو گئی تھیں۔‘

سینیئر وزیر بشیر احمد بلور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے اور جنگ میں کچھ بھی کسی بھی وقت ہو سکتا ہے لیکن ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی بیرون ملک سے امداد کی جا رہی ہے اور وہ وفاقی حکومت سے بات کریں گے کے اقدامات کیے جائیں جس سے ان کی امداد بند ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا ’دھماکے یہ لوگ خود کرتے ہیں اور پھر نام بلیک واٹر کا لگاتے ہیں۔‘ مولانا فضل اللہ کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’اچھا ہے جہاں بھی جانا ہے جائیں، پاکستان سے باہر نکلیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ احکامات جاری کر دیے ہیں کہ مائننگ ڈیپارٹمنٹ کو ایک ماہ تک بارودی مواد روک دی جائے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ خیبر روڈ پر اس سے قبل بھی کئی بار دھماکے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے قبل خیبر روڈ پر ہی واقع حساس ادارے پر گزشتہ ہفتے کار بم حملہ ہوا تھا۔ خیبر روڈ ہی پر پرل کانٹینینٹل ہوٹل بھی واقع ہے جس پر پہلے کار خودکش حملہ ہب چکا ہے۔

اسی بارے میں