ایک تینتالیس سالہ کی کہانی

ذوالفقار علی بھٹو
Image caption پاکستان پیپلز پارٹی نے چار بار اقتدار کا مزہ چکھا ہے۔

عام طور سے حضرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چالیس کے پیٹے میں ذہنی بالغ ہونا شروع ہوتے ہیں۔اگر یہی فارمولا انسانی گروہوں اور تنظیموں پر بھی لاگو کیا جائے تو پیپلز پارٹی کے بارے میں کیا کہیے گا جو خیر سے اب تینتالیسویں سال میں لگ گئی ہے۔ اس عرصےمیں پیپلز پارٹی نے چار فوجی آمر دیکھے ۔ ان میں سے دو فوجی آمروں یعنی جنرل ایوب خان اور جنرل ضیا الحق کی شدید مخالفت کی اور دو آمروں یعنی یحیٰی خان اور پرویز مشرف کے لیے نرم گوشہ رکھا۔چار مرتبہ اقتدار کا مزہ چکھا اور اتنی ہی مرتبہ نظریاتی پٹڑی بدلی۔

میرے بچپن کی پیپلز پارٹی ایک چیختی، دھاڑتی، انقلابی عوامی تنظیم کے لبادے میں گھومتی تھی۔کسی بھی مزدور یا ہاری یا تانگے والے یا چھوٹے دوکاندار سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ اس کا لیڈر اور اس کی جماعت کونسی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ن م راشد کا وہ کردار تھا جو گلی گلی آواز لگا رہا تھا خواب لے لو خواب۔اور لوگوں نے یہ خواب خریدنے کے لیے خود کو لٹوا دیا۔ پھر ایک روز اس خواب فروش کو سفاک تعبیر نے لوٹ لیا۔

جنرل ضیا الحق کا دور اور پیپلز پارٹی کا لڑکپن ایک ساتھ شروع ہوا۔اور ایک ایسا لڑکا جس کے باپ کو مار ڈالا جائے کیسا ہوتا ہے ؟ جس نے جو سمجھایا اسی کے ساتھ چل پڑا۔ مگر جوشیلا تھا، باصلاحیت بھی تھا ، خوبصورت تھا اور لمبی دوڑ کا گھوڑا تھا اس لیے طویل سرمایہ کاری کرنے والے بردہ فروشوں کی نظر میں بھی آگیا۔ کسی نے ساتھ دینے کے بہانے لوٹا تو کسی نے پناہ دینے کے وعدے پر۔۔

بہت جلد پیپلز پارٹی کو سمجھا دیا گیا کہ یہ خوابوں کی نہیں ضرورت کی دنیا ہے۔اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔یوں پارٹی نظریاتی طور پرخواب فروشی چھوڑ کر عملیت پسندی کے کاروبار میں داخل ہوگئی۔جس کا پہلا انعام اسے سن اٹھاسی میں شراکتِ اقتدار کی صورت میں ملا۔رفتہ رفتہ نئی پیپلز پارٹی اپنے طور پر عملیت پسندی میں اس قدر طاق ہوگئی کہ استاد ہوگئی۔

یہ درست ہے کہ پیپلز پارٹی ہو یا کوئی بھی جماعت ۔وقت کسی کو بھی جوں کا توں نہیں رہنے دیتا۔چین کی کیمونسٹ پارٹی کل کیا تھی اور آج کیا ہے۔ آج کی کانگریس کے لیے نہرو کا سوشلزم اتنا ہی اجنبی ہے جتنا نہرو کے لئے کارپوریٹ سرمایہ داری اجنبی تھی۔ آج کی کسی بھی مسلم لیگ کا تحریکِ پاکستان کے اثاثے سے کتنا تعلق ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کا باچا خان کے نظریے سے اتنا ہی ناطہ ہے جتنا باچا خان کا امریکہ سے تھا۔چنانچہ نظریاتی طور پر آج سیاسی جماعتوں میں کم و بیش وہی فرق ہے جتنا کوک اور پیپسی کے ذائقے میں ہے۔

پیپلز پارٹی معروف کتابی معنوں میں سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک خاندان کے عشق میں مبتلا ہجوم کا نام ہے۔ہجوم کی نفسیات میں جتنا والہانہ پن ہوتا ہے اتنا ہی وہ منہ پھٹ بھی ہوتا ہے۔ ہجوم بلا کی یادداشت رکھتا ہے جو دیوانگی میں بھی قائم رہتی ہے۔

میں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعتِ اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد سے کئی برس پہلے پوچھا تھا۔ بھٹو صاحب روپے پیسے کے معاملے میں کیسے تھے۔ پروفیسر غفور نے کہا کہ بھٹو پر آمر اور فاشسٹ سمیت ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی خرد برد اور لوٹ مار کا الزام کوئی نہیں لگاسکا۔

ویسے بھی جس کے پاس دیوانے کارکنوں کا بیلنس ہو اسے بینک بیلنس کی فکر کم ہی ہوتی ہے۔ بس یہی بنیادی فرق ہے تینتالیس سال پہلے میں اور تینتالیس سال بعد ۔۔