’ کمیشن کی سفارشات انسان دوست ہیں‘

ایچ آر سی پی کے وائس چیئرمین غازی صلاح الدین اور اقبال حیدر
Image caption قوانین پر عمل درآمد کروانا ضروری ہے اس کے بغیر قوانین بنانے کا کوئی فائدہ نہیں: سید اقبال حیدر

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے شریک چیئرپرسن سید اقبال حیدر نے بچوں اور خواتین قیدیوں کے بارے میں لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی سفارشات کو سراہتے ہوئے انھیں انسان دوست تجاویز قرار دیا ہے۔

اتوار کو انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے جو سفارشات مرتب کی ہیں وہ شاندار ہیں التبہ اس بات کو دیکھنا ہے کہ آیا حکومت ان سفارشات کو قبول کرتی ہے یا نہیں اور قبول کرنے کی صورت میں اس پر عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہوسکے گی۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے بے گناہی ثابت کرنے کے لیے جلتے کوئلوں پر چلانےاور پانی میں پھینکنے یا اس جیسے دیگر کاموں پر مجبور کرنے والوں کو تین سال قید کی سزا دینے اور قیدی بچوں(لڑکے اور لڑکیاں) کو جیل کے بجائے فلاحی اداروں میں رکھنے کی سفارشات مرتب کی ہیں۔

سید اقبال حیدر جو سابق وزیر قانون بھی ہیں نے کہا کہ کوئی بھی ایسی روایت جو انسانی جسم اور جان کے لیے خطرناک ہو اس کی حوصلہ شکنی چاہیے اس لیے کمیشن نے جو سفارشات تیار کی ہیں وہ انسان دوست ہیں۔ ان کے بقول اگر حکومت کمیشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے انہیں اپناتی ہے تو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ نئے قوانین پر عمل درآمد کیا جائے

انہوں نے کہا کہ نئے قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں وہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے جن کے لیے یہ قوانین بنانے کی سفارشات کی گئی ہیں۔ اس لیے قوانین پر عمل درآمد کروانا ضروری ہے اس کے بغیر قوانین بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

خیال رہے کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے یہ تحویز دی کہ نابالغ قیدی بچوں کے مقدمات کی تفتیش گریڈ سترہ کے پولیس افسر سے کرائی جائے اور تفتیش کے دوران ماہر نفسیات اور میڈیکل آفیسر موجود ہو۔ اس کے علاوہ ان نابالغ بچوں کو جیل میں بھجوانے کے بجائے فلاحی اداروں کے سپرد کیا جائے اور جرم ثابت ہونے پر بھی ان کو فلاحی اداروں میں رکھا جائےجہاں انہیں تعلیم اور صحت کی سہولتیں مل سکیں۔

اسی بارے میں