پشاور کے بعد لاہور میں دھماکے، چھتیس ہلاک

آتشزدگی
Image caption دھماکے کے نتیجے میں متعدد دکانوں اور ایک بینک کو آگ لگ گئی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیر کی شام دو بم دھماکوں میں کم از کم چھتیس افراد ہلاک اور قریباً ایک سو زخمی ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل پیر کی صبح صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں’خود کش‘ حملے میں نو افراد مارے گئے تھے۔

لاہور میں دھماکے: تصاویر

’کسی کا بیٹا نہیں مل رہا کسی کی بہن‘

یہ بھارت، اسرائیل کا کام ہے:رانا ثناء اللہ

لاہور سے بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا کے مطابق دھماکے شہر کے رہائشی علاقے علامہ اقبال ٹاؤن کے ایک مصروف بازار مون مارکیٹ میں پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات تقریباً پونے نو بجے ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق پہلا دھماکہ مون مارکیٹ کے اندر عباس پلازہ کی پہلی منزل کی دکانوں میں ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ مارکیٹ کے باہر بینک کے قریب ہوا۔ دھماکے تقریباً چالیس سیکنڈ کے فرق سے ہوئے اور ان کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

دھماکے کے نتیجے میں متعدد دکانوں اور ایک بینک کو آگ لگ گئی جسے کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد بجھا دیا گیا۔ کمشنر لاہور خسرو بختیار نے شیخ زید ہسپتال میں مقامی ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ فائر بریگیڈ کا عملہ اس کوشش میں مصروف ہے کہ آگ جائے وقوعہ کے قریب واقع ڈیزل کے ٹینک تک نہ پہنچ پائے۔

دھماکے کے وقت بازار میں خاصا رش تھا اور پولیس حکام کے مطابق زخمیوں اور ہلاک شدگان میں متعدد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے فوراً بعد جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو جائے وقوعہ کے قریب واقع شیخ زید ہسپتال اور جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

Image caption دھماکوں کی آواز دور دور تک سنی گئی

لاہور کے کمشنر خسرو پرویز کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں چھتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سو کے قریب زخمی ہیں۔ اس سے قبل لاہور پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز شفیق گجر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ ان دھماکوں میں اب تک تیس افراد کی ہلاکت جبکہ نوّے کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

شفیق گجر کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش سے ایک دھماکہ خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے جبکہ دوسرے حملے کی جگہ پر لگی آگ بجھنے کے بعد ہی اس کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے گا۔اقبال ٹاؤن میں جائے وقوعہ پر موجود ایس پی علی ناصر نے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کو بتایا کہ دھماکوں سے زمین پر گڑھے نہیں پڑے جس سے معلوم ہوتا ہے یہ خودکش حملے ہو سکتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ حتمی طور پر پوری تفتیش کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا۔

ایک دھماکے کے عینی شاہد معید ملک نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’میں سڑک کے کنارے اپنی موٹر سائیکل روک کر فون سن رہا تھا کہ اچانک بھگدڑ سی مچ گئی اور خواتین نے یہ کہہ کہ بھاگنا شروع کر دیا کہ بلاسٹ ہوا ہے۔ میں بھی اپنی موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے نکلنے لگا تو اسی وقت بینک کے پاس دھماکہ ہوا جس سے آگ لگ گئی‘۔

خیال رہے کہ علامہ اقبال ٹاؤن کا یہ علاقہ دوسری مرتبہ کسی بم حملے کا نشانہ بنا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس تیرہ اگست کو اسی علاقے میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

پشاور میں دھماکہ

Image caption پشاور میں دھماکے کے بعد گاڑیوں میں آگ لگ گئی

اس سے پہلے دن کے آغاز پر پشاور میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں حکام نے بتایا کہ سیشن کورٹ کے دروازے پر ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور پینتالیس کے قریب زخمی ہوگئے۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں قائم پولیس چوکی کے انچارج محمد گل نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک وکیل شامل ہیں۔ اس سے پہلے ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع تھی۔

پشاور پولیس کے ایک افسر رجب علی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کو سیشن کورٹ کے گیٹ پر اس وقت پیش آیا جب ایک مبینہ خودکش حملہ آور ایک رکشے سے اتر کر عدالت کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گیٹ پر تعینات اہلکاروں نے حملہ آور کو روکنے کا اشارہ کیا جس کے ساتھ ہی اس نے خود کو ایک دھماکے سے اڑا دیا۔

پشاور کے ضلعی رابطہ افسر صاحبزادہ محمد انیس کا کہنا ہے کہ اب تک جو شواہد اکھٹے کیے گئے ہیں ان کے مطابق تو یہ بظاہر ایک خودکش حملہ تھا تاہم اس سلسلے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس اہلکار کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر اور جسم کے دیگر اعضاء بھی ملے ہیں۔

صوبہ سرحد کے سنئیر صوبائی وزیر بشیر بلور کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی جرات کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد جائے وقوع کے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جس سے تین گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں عدالت کی مرکزی گیٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ سیشن کورٹ کی عمارت جیل روڈ پر واقع ہے جہاں قریب ایم پی اے ہاسٹل، عجائب گھر اور گورنر ہاؤس کے عمارات بھی قائم ہیں۔

پشاور میں تقریباً تین ہفتوں کے دوران کسی عدالت کے کے باہر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سےقبل انیس نومبر کو ڈسٹرکٹ کے گیٹ پر بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں انیس افراد ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ ابھی تک کسی تنظیم اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں