جاسوسی:تین افراد کا کورٹ مارشل

  • آصف فاروقی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا کیپشن

ندیم احمد شاہ فضائیہ کے سابق پائلیٹ ہیں اور گزشتہ کئی برس سے وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے

چند ماہ قبل راولپنڈی سے لاپتہ ہونے والے دو شہریوں اور ایک فوجی افسر کے خلاف جاسوسی اور فوجی اہلکاروں کو تخریب کاری کی ترغیب دینے کے الزامات کے تحت جمعہ کے روز کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔

کرنل شاہد بشیر، فضائیہ کے سابق پائلٹ اور ایڈووکیٹ ندیم احمد شاہ اور انجینئر اویس علی خان کو اس سال مئی میں راولپنڈی سے فوج کے انٹیلی جنس ادارے نے حراست میں لیا تھا۔

ان افراد کے خاندان کے ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ انہیں اطلاع دی گئی کہ ان تینوں کے خلاف جاسوسی کے الزامات کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کی جا رہی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ ان کے علم میں ہے کہ ان میں سے بعض افراد کے خلاف جاسوسی کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی تھیں لیکن کورٹ مارشل ہونے کا معاملہ ان کے علم میں نہیں ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں فوج کے زیر حراست ان تینوں افراد کو ابھی تک باضابطہ طور پر الزامات کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے لیکن بعص ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان پر پاکستانی فضائیہ کے بلوچستان میں واقع ہوائی اڈے شمشی ایئر بیس کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کرنے اور فوجی افسران کو تخریب کاری پر اکسانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اس ایئر بیس کے بارے میں سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے چند ماہ قبل دعوی کیا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون طیاروں سے ہونے والے حملوں میں اس فوجی ہوائی اڈے کو استعمال کیا جاتا ہے۔

افغانستان میں امریکی فوجی کارروائی میں مدد کے لیے پاکستان نے امریکہ کو جو سہولیات فراہم کر رکھی ہیں ان میں شمشی ایئر بیس بھی شامل ہے جسے امریکی فوج سپلائی بیس کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

ان تینوں افراد پر آرمی ایکٹ کی دفعہ اکتیس ڈی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے جس میں سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔

اس کورٹ مارشل کیس کی سماعت پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں قائم ایک برگیڈیئر کی سربراہی میں قائم فوجی عدالت میں کی جائے گی۔

الزامات کی جو تفصیل ان افراد کے اہل خانہ کو دی گئی ہے ان کے مطابق فوج کے انجینئرنگ یونٹ کے رکن کرنل شاہد بشیر پر الزام ہے کہ انہوں نے شمشی ایئر بیس کے بارے میں خفیہ معلومات ایسے افراد کو فراہم کیں جو اس فوجی اڈے پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے لیفٹنٹ کرنل شاہد بشیر فوج کی انجینئرنگ کور کے باریش افسر ہیں۔ ان سے کالعدم تنظیم حزب التحریر سے ان کے روابط کے بارے میں بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

ندیم احمد شاہ راولپنڈی بار کے سرگرم کارکن ہیں۔ وہ فضائیہ کے سابق پائلیٹ ہیں اور گزشتہ کئی برس سے وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ ان کے بھائی جماعت اسلامی کے رکن ہیں۔ ندیم احمد شاہ خود حافظ قرآن اور فقہ کے علم پر خاصا عبور رکھتے ہیں۔

انہیں پانچ مئی کو راولپنڈی سے غیر قانونی حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی مبینہ گمشدگی پر راولپنڈی بار نے پولیس رپورٹ دائر کی تھی جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نےازخود نوٹس کے تحت عدالتی کارروائی بھی کی تھی۔

ندیم احمد ایڈووکیٹ کی گمشدگی کے بارے میں قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان کو بتایا تھا کہ انہیں جاسوسی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے خفیہ اداروں نے حراست میں لیا ہے۔

ندیم احمد کے بھائی رضا احمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ابھی تک علم نہیں ہے کہ ان کے بھائی پر کیا الزامات لگائے گئے ہیں۔

’ندیم کو چارج شیٹ دی گئی ہے لیکن ہمیں ان تک رسائی نہیں ہے۔ ہم نے فوجی عدالت کے سامنے مقدمہ لڑنے کے لیے وکیل تو کر لیا ہے لیکن ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ کیا الزامات ہیں اور ان کا دفاع کس بنیاد پر کیا جائےگا۔‘

اویس علی خان امریکہ سے میکنیکل انجیئرنگ کی ڈگری لے کر چند برس قبل پاکستان لوٹے تھے۔ امریکہ سے گرین کارڈ ہولڈر اور امریکی شہری کے شوہر اویس علی خان نے سنہ دو ہزار دو میں پاکستان لوٹنے کے بعد پاکستانی فوج کے زیرانتظام اسلحہ اور گولہ بارود بنانے والے ادارے ایئر ویپن کمپلیکس میں ملازمت اختیار کی تھی لیکن دو سال سے وہ ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنی فیکٹری چلا رہے تھے۔

اویس علی خان کی والدہ بیگم ثریا مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے کے کسی مذہبی یا سیاسی گروہ سے تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی کسی قسم کی تخریبی یا سیاسی کارروائی میں شریک رہا ہے۔

راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ سے ٹیلی فون پر گلوگیر آواز میں انتالیس سالہ اویس علی خان کی والدہ نے کہا ’میرا بیٹا صرف دین کی بات کرتا تھا۔ اس پر الزام بھی یہی لگایا ہے کہ تم نے فوجیوں سے دین کی بات کر لی تھی۔ میرے بیٹے کے ایسے لوگوں سے رابطے نہیں تھے جو شدت پسند کہلاتے ہیں۔‘

ثریا مسعود نے کہا کہ ایئر ویپن کمپلیکس جیسے حساس ادارے میں ملازمت کے موقع پر اویس کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی گئی تھی اور اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو اس ادارے میں ملازمت نہیں دی جاتی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو شدید سردی میں بنیادی ضرورت کی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ’عید سے دو روز قبل ہماری ملاقات ہوئی تو اویس نے بتایا کہ اسے ایک چارپائی دی گئی تھی جس پر بستر بھی نہیں تھا اور احتجاج کرنے پر اسے رضائی اور ہیٹر وغیرہ دیا گیا جس کے پیسے بھی ان سے وصول کیے گئے ہیں۔ میرے بیٹے نے اتنے عرصے سے سورج بھی نہیں دیکھا۔‘

اویس چھ بچوں کے والد ہیں اور ان کا آخری بیٹا ان کے لاپتہ ہوجانے کے چند روز بعد پیدا ہوا۔