نئے وزیر اعلیٰ مہدی شاہ کا حلف

مہدی شاہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ نے گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ان کا انتخاب بلامقابلہ ہوا۔ وزیر بیگ اسمبلی کے سپیکر اور جمیل احمد نائب سپیکر منتخب ہوئے ہیں۔

اس سے ایک روز پہلے یعنی جمعرات کو بارہ نومبر کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے نتیجے میں گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے منتخب ہونے والے اراکین نے حلف اٹھایا تھا۔

ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح برتری حاصل کی اور نئی حکومت اب پیپلز پارٹی ہی بنائے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے جماعت کے سربراہ مہدی شاہ کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے جس پر جمعہ کو انتخاب ہوں گے۔

حکومتِ پاکستان کی طرف سے ستمبر میں گلگت بلتستان میں ’ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر دو ہزار نو‘ نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے اراکین پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ منتخب کریں گے۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کےسبکدوش ہونے والے سپیکر ملک محمد مسکین نے جمعرات کے روز گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے نئے منتخب ہونے والے بتیس اراکین سے حلف لیا۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے چوبیس میں سے تئیس نشستوں پر بارہ نومبر کو انتخابات ہوئے تھے جبکہ ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ایک نشست پر انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی نے بارہ نشستیں جیتی تھیں جبکہ مسلم لیگ ( ق مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام یا جے یو آئی (ف ) نے دو دو نشستیں حاصل کیں اور متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد تینتیس ہے جن میں سے چوبیس پر براہ راست بالغ رائے دہی کے ذریعے انتخابات ہوتا ہے جبکہ خواتین کی چھ اور ٹیکنوکریٹس کے تین مخصوص نشستوں پر متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخاب ہوتا ہے اور پارلیمانی جماعتیں اپنے امیدواروں کو نامزد کرتی ہیں۔

منگل کے روز ان نو مخصوص نشستوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے خواتین کی چھ مخصوص نشستوں میں سے چار نشستیں حاصل کیں اور دو ٹیکنوکریٹ کی نشستیں بھی پیپلز پارٹی نے جیتیں۔

جمعیت علماء اسلام ( ف) نے ایک ٹیکنوکریٹ اور خواتین کے لیے مختص ایک نشست حاصل کی۔ مسلم لیگ ( ق) کے حصے میں بھی خواتین کے لیے مخصوص ایک نشست آئی۔

پیپلز پارٹی کی پہلے ہی بارہ نشستیں تھیں اور چھ مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے بعد ان کے اراکین کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے۔ پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت یعنی سترہ اراکین کی ضرورت تھی۔

اسی بارے میں