گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ

Image caption سنہ اسّی کی دہائی کے شروع میں سید مہدی شاہ نے باقاعدہ عملی سیاست کا آغاز کیا

گلگت بلتستان کے منتخب ہونے والے پہلے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ سنہ انیس سو چون میں گلگت بلتستان کے ضلع سکردو کے گاؤں سیک میدان میں پیدا ہوئے۔ وہ گلگت بلتستان کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر ہیں اور وہ گذشتہ لگ بھگ چالیس سال سے اس جماعت سے وابستہ ہیں۔

اس عرصے کے دوران وہ گلگت بلتستان کے لیے پی پی پی سیکریٹری جنرل سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے سکردو میں ہی بارہ جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے سکردو کالج میں اپنی پڑھائی کے دوران طلبہ سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور وہ کالج میں طلبہ یونین کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پی ایس ایف میں شمولیت اختیار کی۔

سنہ 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا تو انہوں نے سید مہدی شاہ اور دیگر طلبہ کی دعوت پر سکردو انٹرمیڈیٹ کالج میں خطاب کیا اور اس موقع پر ذوالفقار بھٹو نے اس کالج کو ڈگری کالج کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔

سنہ اسّی کی دہائی کے شروع میں سید مہدی شاہ نے باقاعدہ عملی سیاست کا آغاز کیا اور وہ سکردو میونسپل کمیٹی کے بلا مقابلہ رکن منتخب ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے گلگت بلتستان ناردرن ایریاز کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن قمست نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ یہ انتخاب ہار گئے۔

سید مہدی شاہ بے نظیر بھٹو کے اقتدار کے دونوں ادوار میں گلگت بلتستان میں سوشل ایکشن بورڈ کے چیئرمین اور پیپلز پروگرام کے ایڈمنسڑیڑ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سنہ انیس سو چورانوے میں بھی گلگت بلتستان نادرن ایریاز کونسل کے انتخابات میں دوسری مرتبہ حصہ لیا لیکن وہ اس بار بھی ناکام رہے۔

یہ پہلی مرتبہ تھا کہ ناردن ایریاز کونسل کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے۔ اسی دوران مہدی شاہ گلگت بلتستان کے لیے پیپلز پارٹی کے سیکریڑی جنرل منتخب ہوئے۔

سن انیس سو ننانوے میں انہوں نے دوبارہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے لیکن سنہ دو ہزار چار میں ہونے والے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں وہ ہار گئے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد جولائی سنہ دو ہزار نو میں سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کے لیے پیپلز پارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی دوران اس سال ستمبر میں پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان میں ’ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر دو ہزار نو‘ کا نفاذ کیا جس کے تحت گلگت بلتستان کی نئی انتظامی حیثیت متعین کی گئی۔

نومبر میں اس آرڈر کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پہلے انتخابات ہوئے اور سید مہدی شاہ نہ صرف خود کامیاب ہوئے بلکہ ان کی قیادت میں پیپلز پارٹی یہ انتخابات جیتی۔

اس آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ تو نہیں دیا گیا لیکن پہلی بار گورنر مقرر کیا گیا اور وزیر برائے امور کشمیر قمر الزمان کائرہ گلگت بلتستان کے پہلے قائم مقام گورنر ہیں اور اس حکم نامے کے تحت گلگت بلتستان کا وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلے وزیر اعلیٰ منختب ہوئے۔

اسی بارے میں