ایوانِ صدر عدلیہ کیلیے محترم ہے:چیف جسٹس

جسٹس افتخار
Image caption ’اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ کون شخص صدر کے عہدے پر براجمان ہے‘

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدلیہ ایوان صدر کا احترام کرتی ہے اُسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ صدر کے عہدے پر کون براجمان ہے۔

منگل کے روز این ار او کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانا مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔

درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو قائمقام اٹارنی جنرل شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ وفاق کا شروع دن سے ہی یہی موقف ہے کہ وہ این آر او کا دفاع نہیں کرے گی۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر وہ صدر آصف علی زردرای کو بچانا چاہتے ہیں تو کُھل کر بات کریں جس پر شاہ خاور کا کہنا تھا کہ وہ کسی شخص کو بچانے کی بات نہیں کر رہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ ایوانِ صدر کا احترام کرتی ہے اور اسے اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ کون شخص صدر کے عہدے پر براجمان ہے۔ بینچ میں جسٹس جاوید اقبال نے صدر آصف علی زرداری کا نام لیے بغیر اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اپنے کلائنٹ سے کہیں کہ وہ قومی خزانے میں پانچ ارب روپے جمع کرواکر اپنی جان چھڑائیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں احتساب کے جتنے بھی قوانین بنائے گئے وہ شفاف نہیں تھے اوراگر عدالت این آر او کے خلاف کوئی فیصلہ دے دے تو کوئی آسمان نہیں گر پڑے گا جس پر بینچ میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آسمان بدعنوان، قاتل اور ڈکیتوں کو تحفظ دینے سےگرتا ہے۔

بینچ میں شامل راجہ فیاض کا کہنا تھا کہ احتساب کا کوئی شفاف نظام نہیں بنایا گیا تو اس کی ذمہ داری انتظامیہ اور مقننہ پر عائد ہوتی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اٹارنی جنرل سے صدر کے بیان کی وضاحت بھی طلب کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جمہوریت کا عدالتی قتل نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس اور بیچ میں شامل دیگر ججوں نے اس بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے برعکس وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا بیان قابل تعریف ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ این آر او کے متعلق عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اُسے قبول کریں گے۔

جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد خان نے جو عدالت کے معاون کے طور پر پیش ہوئے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ این آر او ایک امتیازی قانون ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زُمرے میں آتا ہے۔

سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نوید احسن نے عدالت میں صدر آصف علی زردرای اور اُن کی اہلیہ بےنظیر بھٹو مرحومہ کے بیرون ملکوں میں اکاوئنٹس کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کیں۔ نیب کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ افراد کے بیرون ممالک بارہ اکاوئنٹس ہیں جس میں پانچ کروڑ ڈالر سے زائد رقم اور زیورات موجود ہیں۔

سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے جنہیں عدالت نے صدر آصف علی زردرای کے خلاف بیرون ملک مقدمات کی واپسی کے حوالے سے طلب کیا تھا، عدالت کو بتایا کہ انہوں نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے کہنے پر سوئٹزرلینڈ کی حکومت کو صدر زردرای اور بینظیر بھٹو کے مقدمات واپس لینے کے بارے میں خط لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل نیب کے حکام نے صدر آصف علی زردراری کے خلاف مقدمات ختم کرنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی تھی۔

این آر او کے بارے میں درخواستوں کی سماعت اب بدھ کو ہوگی۔

اسی بارے میں