آخری وقت اشاعت:  جمعـء, 18 دسمبر, 2009, 18:52 GMT 23:52 PST

’سیف اللہ پر نیو یارک میں مقدمہ نہ چلائیں‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

گوانتانامو بے میں قید پاکستانی شہری سیف اللہ پراچہ کے خاندان نے نیویارک کی عدالت پر عدم اعمتاد کا اظہار کیا ہے اور امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا مقدمہ کسی اور ریاست میں چلایا جائے۔

سیف اللہ پراچہ پر القاعدہ اور طالبان کی مدد کرنے کا الزام ہے، ان سے مالی معاونت لینے اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کے الزامات کا سامنا ہے۔ دو ہزار تین کو انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کراچی ائرپورٹ سے بینکاک جانے کے لیے نکلے تھے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی جانب سے جمعرات کی شام گوانتانامو سے سیف اللہ پراچہ کی خاندان کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کرائی گئی۔ جس کے بعد سیف اللہ پراچہ کی بیگم فرحت پراچہ ، بیٹی منیزہ اور بیٹے مصطفیٰ پراچہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا۔

فرحت پراچہ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کو اسیری کے دوران دو مرتبہ ہارٹ اٹیک ہوچکا، وہ دوران تفتیش بے ہوش ہوجایا کرتے تھے اور انہیں وہاں ہی طبی امداد فراہم کی جاتی مگر کبھی باہر منتقل نہیں کیا گیا۔

حکام نے انہیں ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا مگر انہوں نے انکار کردیا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں جو فوجی ہپستال ہے وہ اس قابل نہیں کہ یہاں یہ آپریشن ہوسکے۔ امریکی حکام نے جن ڈاکٹروں کو یہ آپریشن کرنا تھا ان کا پیپر دکھایا مگر اس پر کسی کے دستخط موجود نہیں تھے اور انہوں نے جب ڈاکٹروں سے یہ دریافت کیا کہ وہ ڈاکٹر پہلے ہیں یا فوجی افسر تو انہوں نے جواب دیا کہ فوجی اس لیے وہ آپریشن کے لیے تیار نہیں ہوئے۔

فرحت پراچہ کے مطابق ان کے شوہر نے بتایا کہ انہوں نے یہ سنا ہے کہ کئی غلط آپریشن ہوئے ہیں جس میں کچھ کی ٹانگ غلط کٹ گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیف اللہ پراچہ کو نیویارک کی عدالت میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے صرف چند بلاک دور ہے۔ ’وہاں کے لوگ پہلے ہی خوفزدہ ہیں اور تعصب پرست ہیں اس لیے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ انہیں کسی اور ریاست میں پیش کیا جائے جہاں عدلیہ غیر جانبدار اور تعصب پرست نہ ہو۔‘

پراچہ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں امریکی صدر اوباما سے بہت امیدیں وابستہ تھیں اور اب بھی ہیں۔ ’مگر اوباما کے سامنے کافی رکاوٹیں ہیں، امریکی شہری غصے میں ہیں انہیں اپنی جان کی فکر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سارے مسلمان انہیں مارنے پر تلے ہوئے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔‘

فرحت پراچہ کا کہنا تھا کہ ان کا نام ابھی تک ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے جس وجہ سے وہ شوہر اور بیٹے سے ملنے نہیں جاسکتیں۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف اور شوکت عزیز کو کوئی خط لکھے، موجودہ حکومت میں صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی سے رابطہ کیا ہے مگر ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔

فرحت پراچہ کا کہنا تھا کہ ان کا نام ابھی تک ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے جس وجہ سے وہ شوہر اور بیٹے سے ملنے نہیں جاسکتیں۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف اور شوکت عزیز کو کوئی خط لکھے، موجودہ حکومت میں صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی سے رابطہ کیا ہے مگر ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔

سیف اللہ پراچہ اور فرحت پراچہ کے بیٹے عذیر پراچہ بھی اس وقت امریکی قید میں ہیں۔ ان پر خالد شیخ محمد کی جانب سے بالٹی مور میں نائن الیون میں ملوث ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے اور گیس اسٹیشن کو بم سے اڑانے کی منصوبہ بندی کے الزامات ہیں۔جس میں انہیں تیس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

فرحت پراچہ کے مطابق مہینے میں ایک بار ٹیلیفون پر عذیر سے بات ہوتی تھی مگر بعد میں یہ سلسلہ بند کردیا گیا۔ ’امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہاں سے کچھ ایسے لوگ بات کرتے ہیں جنہیں بات نہیں کرنی چاہئیے۔ کچھ لوگ گوانتانامو سے رہا ہوکر آئے تھے انہوں نے ہم سے رابطے کی کوشش کی تھی وہ بھی تین چار لوگ ہیں مگر امریکی کہتے ہیں کہ وہ دس بارہ لوگ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ ایک الگ ٹیلیفون لائن رکھیں جس کے ذریعے صرف عذیر سے بات کی جائے۔‘

انٹر نیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے اہلکار فیلکس کوگیلے نے بی بی سی کو بتایا کہ دو ہزار آٹھ سے گوانتانامو کے قیدیوں کا خاندان سے رابطہ کرانے کا پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ہر قیدی کو تین ماہ میں ایک مرتبہ ٹیلیفون پر اپنے خاندان سے رابطے کی اجازت ہوتی تھی۔ ہم ان کے گھر جاکر اپنے موبائل ٹیلیفون سے ان کی بات کراتے تھے اور وہ ایک گھنٹے تک بات کرسکتے تھے۔‘

فیلکس کوگیلے کے مطابق رواں سال اکتوبر سے ویڈیو کانفرنس کا سلسلہ شروع ہوا، جس کا انتظام واشنگٹن کی ٹیم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی قیدی یہ خواہش ظاہر کرتا ہے تو اس کا خاندان سے رابطہ کرایا جاتا ہے مگر ایسے کئی قیدی ہیں جو ٹیلیفون نہیں کرنا چاہتے اور خط کے ذریعے رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔