’وزیرستان کی ثقافت حملے کی زد میں‘

فرحت تاج
Image caption فرحت تاج نےدستاویزی فلم میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پشتو گائیک کمال محسود کا انٹرویو بھی شامل کیا ہے

امریکہ میں منعقدہ لاس اینجلس ریئل فلم فیسٹول میں پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان پر ایک پشتون خاتون کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم کو دو ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔

ناروے کی اوسلو یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو اور پاکستان میں شدت پسندی کے موضوع پر انگریزی اخبارات میں مضامین لکھنے والی فرحت تاج نے یہ دستاویزی فلم ’ وزیرستان کی ثقافت، حملے کی زد میں‘ کے موضوع پر بنائی ہے۔

امریکہ کی لاس اینجلس ریئل فلم فیسٹول نے سال دو ہزار نو میں جن تین مختصر دستاویزی فلموں کو ایوارڈ سے نوازا ہے ان میں فرحت تاج کی بنائی ہوئی ڈاکومنٹری کو ’ بہترین مختصر فلم‘ اور ’بہترین صوتی ڈیزائن‘ کی کٹیگری میں ایوارڈز ملے ہیں۔

لاس اینجلس ریئل فلم فیسٹول ہر سال ان باصلاحیت فلم میکرز اور لکھاریوں کے کام کے اعتراف میں انہیں ایوارڈز سے نوازتا ہے جن کے کام کا اعتراف بڑے بڑے سیاسی اور کمرشل نوعیت کے فیسٹول میں نہیں ہوتا۔

’ وزیرستان کی ثقافت، حملے کی زد میں‘ کے موضوع پر بنائی گئی تیس منٹ کی دستاویزی فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں وزیرستان کی ماضی کی کہانی یورپ کے ان تین افراد کی زبانی بیان کی گئی ہے جنہوں نے برطانوی دورِ حکومت میں وزیرستان میں یا تو خدمات سرانجام دی ہیں یا وہاں کا سفر کیا ہے۔

ان میں ناروے کے مشہور ادیب اور ’سوات پٹھان‘ نامی مشہور کتاب کے مصنف فریڈرک برتھ، انیس سو چالیس کی دہائی میں وزیرستان میں خاصہ دار افسر کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے فرینک لیسن اور کمانڈنٹ میجر ویلی براؤن کی بیوہ کے انٹرویوز شامل ہیں۔ میجر ویلی براؤن اور مسز ویلی براؤن نے اپنا ہنی مون جنوبی وزیرستان میں منایا تھا۔

فرحت تاج نے ناروے سے بی بی سی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دستاویزی فلم کا خیال اس وقت آیا جب انہوں نے مختلف سیمیناروں اور محفلوں میں یورپ کے پڑھے لکھے لوگوں کے وزیرستان کے بارے میں خیالات سنے جو بقول ان کے حقیقت سے کوسوں دور تھے۔ان کے بقول یورپ میں رائے عامہ کا خیال ہے کہ وزیرستان کے عام لوگ مغرب مخالف، اسلامی انتہا پسند، تہذیب مخالف ہیں اور وہ طالبان اور القاعدہ کے ساتھ عملاً لڑ رہے ہیں یا پھر ان کے حامی ہیں۔

ان کے مطابق ’اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ بہتر یہی ہوگا کہ میں ان یورپین کو اپنے ہی ان بزرگوں کی زبانی وزیرستان کی تصویر دکھاؤں جنہوں نے قبائلی علاقوں یا وزیرستان میں یا تو خدمات انجام دی ہوں یا پھر وہاں پر ایک عرصے تک رہے ہوں۔اس طرح ان لوگوں کو ہماری باتوں سے زیادہ اپنے بزرگوں کی باتوں پر زیادہ یقین آجائے گا۔‘

اس فیصلے کے بعد فرحت تاج نے اوسلو ہی میں رہائش پذیر فریڈرک برتھ سے رابطہ کیا اور انہوں نے انٹرویو دینے کی حامی بھر لی لیکن مشکل یہ تھی کہ ایسے برطانویوں کو کیسے اور کہاں تلاش کیا جائے۔

آخر میں ان کی یہ مشکل ڈنمارک کے ایک محقق نے یہ مشورہ دے کر حل کردی کہ وہ جنوبی اشیاء میں انگریزوں کی قبرستانوں کی دیکھ بال کرنے والی تنظیم سے رابطہ قائم کریں۔اس تنظیم سے رابطہ کرنے کے بعد فرحت تاج نے تنظیم کے دو سال میں ایک بار شائع ہونے والے رسالے’ چوکیدار‘ میں اشتہار چھاپ دیا جس کے بعد وزیرستان میں انیس چالیس کی دھائی میں خاصہ دار کے عہدے پر فائز رہنے والے فرینک لیسن نے ان سے رابط کیا۔

فرینک لیسن نے ہی میجر ویلی ولسن کی بیوہ مارگریٹ ولسن اور جونی گرلنگ کا پتہ دیا تاہم جونی گرلنگ صعیف عمری کی وجہ سے انٹرویو کے لیے تیار نہیں ہوسکے۔

فرحت تاج نے اپنی دستاویزی فلم میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پشتو گائیک کمال محسود کا انٹرویو بھی شامل کیا ہے جو بقول ان کے دنیا والوں کو یہ بتانا ہے کہ خود وزیرستان کے لوگ طالبان اور القاعدہ کے زبردست متاثرین میں شامل ہیں۔

کمال محسود کا کہنا ہے کہ طالبان نے انہیں گلوکاری ترک کرنے کی دھمکی دی ہے۔ان کا کہنا ہے ’ کلچر ماں کی مانندہوتا ہے۔ ماں، بدشکل اور لوڑی لنگڑی کیوں نہ ہو آپ پھر ان سے پیار کرتے ہیں۔ میں اپنے کلچر سے بے پناہ محبت کرتاہوں جو اس وقت مذہبی انتہاپسندی کی وجہ سے سخت متاثر ہوا ہے۔‘

اسی بارے میں