کینجھر جھیل میں تیرتا ہوا شکارا

Image caption کینجھر جھیل کراچی سے ایک سو بائیس کلومیٹر کی مسافت پر ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے

پاکستان میں پہلی مرتبہ معیاری سیاحت کو متعارف کروانے کے لیے صوبہ سندھ کی خوبصورت کینجھر جھیل میں فلوٹنگ ہٹ یا تیرتا ہوا گھر بنایا گیا ہے۔

کینجھر جھیل کے تازہ پانیوں میں یہ ایک گھر نما ہٹ ہے۔کمرے کے ساتھ کچن اور اٹیچ باتھ بنائے گئے ہیں۔جبکہ کمرے کے اندر ڈبل بیڈ، کھانے کی چھوٹی ٹیبل اور چار مزید آرام دہ کرسیاں رکھی گئی ہیں اور کمرے کی چھت پر سردیوں کی دھوپ کا لطف حاصل کرنے کے لیے بیٹھنے کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔

کینجھر سے منسلک قدیم رومانوی داستان نوری جام تماچی سے نام اخذ کرکے اسے، نوری فلوٹنگ ہٹ، کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہ فلوٹنگ ہٹ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ نامی ضلع ٹھٹھہ کی ایک مقامی تنظیم نے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی سمال گرانٹ سکیم کے تعاون سے تعمیر کیا ہے۔

آر ڈی ایف کے مقامی رہنماء اسماعیل زرداری کا کہنا ہے کہ فلوٹنگ ہٹ کی تعمیر میں دو سے تین ماہ لگ گئے ہیں اور کراچی کے مقامی مچھیروں سے ہی انہوں نے یہ ہٹ تعمیر کروایا ہے تاکہ کینجھر پر سیاحت کو فروغ دیا جاسکے۔ان کے مطابق اس ہٹ میں ایک وقت میں تیس لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فلوٹنگ ہٹ میں لگے واش روم کے نیچے فائبر ٹینک لگایا گیا اور ٹریٹمٹنٹ کے بعد کچرے کو جھیل سے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔

کینجھر جھیل پاکستان میں تازہ اور میٹھے پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ایک سو چالیس سکوائر کلومیٹر کے رقبے پر محیط یہ جھیل سینکڑوں آبی پرندوں اور مچھلیوں کی بڑی اقسام کا گھر ہے۔جبکہ کراچی کو پانی فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بھی کینجھر جھیل ہے۔

Image caption آر ڈی ایف کے مقامی رہنماء اسماعیل زرداری کا کہنا ہے کہ فلوٹنگ ہٹ کی تعمیر میں دو سے تین ماہ لگ گئے ہیں

اقوام متحدہ کے یو این ڈی پی سمال گرانٹ پروگرام کے پاکستان میں سربراہ مسعود لوہار کے مطابق وہ پاکستان میں معیاری سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ان کے مطابق صرف کینجھر جھیل پر ایک ہفتے میں سترہ ہزار لوگ سیر کرنے آتے ہیں مگر ان کے لیے وہاں کوئی معیاری بندوبست نہیں ہے ان کے مطابق کچھ نہیں رکھا گیا ہے۔اور وہ جلدی جلدی آتے اور چلے جاتے ہیں۔

مسعود کے مطابق فلوٹنگ ہٹ کے ذریعے وہ عام لوگوں میں ماحول دوست رجحان پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنے ماحول سے لطف اندوز بھی ہوں اور اس کا تحفظ بھی کرسکیں۔ان کے مطابق فلوٹنگ ہٹ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ایک عام سی کشتی کی مدد سے آپ اس گھر کو جھیل کے گھرے پانیوں میں جہاں چاہیں بہ آسانی لے جا سکتے ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ بھرپور چھٹیاں گزار سکتے ہیں۔

کینجھر جھیل کراچی سے ایک سو بائیس کلومیٹر کی مسافت پر ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے اور وہاں ہفتہ وار تعطیلات کے دنوں میں کراچی کے ہزاروں لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں۔کیبنجھر جھیل میں موٹر پر چلنے والی چھوٹی کشتیاں ہی سیاحوں کی واحد تفریح ہیں۔کینجھر جھیل پر فلوٹنگ ہٹ متعارف کروانے تنظیم کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی دلچسپی کے بعد مزید فلوٹنگ ہٹ بنائے جاسکتے ہیں۔

اسی بارے میں