ایدھی کی طرف سے پانچ لاکھ ڈالر کی امداد

Image caption ایدھی پہلے امریکہ جا رہے ہیں

امدادی، رفاعی اور فلاحی خدمات انجام دینے کے حوالے سے عالمگیر شہرت رکھنے والے پاکستانی مولانا عبدالستار ایدھی ہیٹی میں گزشتہ دو صدیوں میں آنے والے بدتریں زلزلے سے متاثرہ لاکھوں افراد کی فوری امداد کے لیے پانچ لاکھ امریکی ڈالر کی رقم لے کر آئندہ دو روز میں ہیٹی روانہ ہو رہے ہیں۔

ایدھی فاونڈیش سمیت پاکستان کی دیگر امدادی اور فلاحی تنظیمیں بھی ہیٹی امداد اور امدادی سامان بھیجینے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کےسربراہ مولانا عبدالستار ایدھی نے کہا ہے کہ وہ دو روز میں ہیٹی کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ زلزلے کے متاثرین کی مدد کریں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وہ کراچی سے امریکہ جائیں گے اور وہاں سے اپنے بیٹے قطب الدین کو ساتھ لیکر ہیٹی پہنچیں گے، انہوں نے بتایا کہ وہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر ( چار کروڑ پچیس لاکھ) کی مدد فراہم کریں گے۔

ایدھی کے مطابق وہ اس رقم سے مقامی طور پر سامان خرید کر وہاں تقسیم کریں گے کیونکہ یہاں سے سامان لے جانا مہنگا پڑتا ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی متاثرین کی مدد کے لیے اجلاس کیا ہے، تنظیم کے رہنما ڈاکٹر ٹیپو سلطان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم اس پر غور کر رہی ہے کہ دوائیں بہیجی جائیں یا ڈاکٹر یا ان دونوں کی ضرورت ہے۔ اس بارے میں ایک دور روز میں اس کا حتمی فیصلہ ہوجائے گا۔

پاکستان ہلال احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم ہیٹی میں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے وہاں سے ضرورت کے مطابق مدد کی جائے گی۔

تنظیم کے ترجمان خالد بن ولید نے بتایا کہ پاکستان میں پیرا میڈکس کو مطلع کردیا ہے کہ اگر ضرورت ہوئی اور اجازت ملی تو انہیں ہیٹی بھیجا جائے گا۔

انہوں نے بتایا اس کے علاوہ ان کی تنظیم ریلیف آئٹم بھی بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں خشک خوراک ہوتی ہے اور یہ طلب کی بنیاد پر فراہم کی جائے گی۔

اسی بارے میں