پنجابی طالبان کون ہیں؟

  • اعجاز مہر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں شعیہ، بریلوی اور دیوبندی سمیت پانچ مکاتب فکر کے رجسٹرڈ مدارس کی تعداد   بیس ہزار کے قریب ہے: محمد حنیف جالندھری
،تصویر کا کیپشن

پاکستان میں شعیہ، بریلوی اور دیوبندی سمیت پانچ مکاتب فکر کے رجسٹرڈ مدارس کی تعداد بیس ہزار کے قریب ہے: محمد حنیف جالندھری

گزشتہ چند ماہ سے پنجابی طالبان کا بڑا چرچہ ہور ہا ہے اور اس میں جنوبی پنجاب کا ذکر بڑھ چڑھ کر ہوتا رہا ہے۔ سرائیکی پٹی میں شدت پسند پنجابی طالبان کے تعلق کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے نامہ نگار اعجاز مہر نے بھکر، لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور ملتان میں جاکر مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں سے بات کی اور ایک خصوصی سیریز ترتیب دی ہے۔ جنوبی پنجاب میں شدت پسندی حقیقت اور افسانہ کے نام سے مرتب کردہ اس سیریز کی اس تیسری قسط میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پنجابی طالبان کون ہیں۔ کتنی تعداد میں ہیں اور کیا یہ سرائیکی زبان بولنے والے ہی ہیں؟۔ (ایڈیٹر)

پنجابی طالبان

کالعدم جیش محمد ہو یا لشکر جھنگوی ان کا تعلق القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان سے اب ایک کھلا راز ہے۔ جس کی تصدیق کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک کہہ چکے ہیں کہ ’جو ہمارے پاس میسر انٹیلیجنس ہے اس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ کے ساتھ لشکر جھنگوی اور جیش محمد وغیرہ کا تعلق ہے اور ہمارے پاس اس بارے میں ثبوت موجود ہیں۔ آج کل جو کارروائیاں ہو رہی ہیں اس میں وہ ملوث ہیں‘۔

پاکستان میں کئی برسوں سے ہونے والے دھماکوں اور حملوں میں طالبان کا نام تو سرفہرست آتا رہا لیکن چند برسوں سے پنجابی طالبان کا ذکر بھی سننے کو مل رہا ہے۔ پنجابی طالبان کون ہیں؟ اس بارے میں تحقیق کار پروفیسر خادم حسین کہتے ہیں کہ سپاہ صحابہ، لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی، حرکت المجاہدین اور حرکت الانصار ایسی تنظیمیں ہیں جو پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمینٹ نے اپنے مقاصد کے لیے بنوائیں اور ان میں سے کچھ افغانستان میں لڑتی رہیں۔ ان کے بقول جب سوویت یونین کو شکست ہوئی تو امریکہ واپس چلا گیا اور پاکستانی اسٹیبلشمینٹ نے افغانستان میں لڑنے والے جہادیوں کو اکٹھا کرکے کشمیر بھیجا جہاں سے ان کے تعلق کا آغاز ہوا۔

’جب افغانستان میں طالبان کی حکومت آگئی تو اس حکومت کے عقائد، نظریات اور انفراسٹرکچر اور یہاں پاکستان میں جو اس حوالے سے سرگرمِ عمل تھے، ان کے عقائد نظریات اور انفراسٹرکچر تقریباً ایک جیسے تھے اور جب وہ اکٹھے ہوئے تو وہاں پر ان کو پنجابی طالبان کا نام دیا گیا، یہ نوے کی دہائی کے آخر کی بات ہے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پنجابی طالبان کا تعلق صرف جنوبی پنجاب سے ہے اور وہ سرائیکی بولنے والے ہی ہیں تو ان کا جواب نفی میں ملا۔ ’ہماری تحقیق کے مطابق جنوبی پنجاب میں طویل صحرا ہونے کی وجہ سے زیادہ تر ٹریننگ کیمپ بنائے گئے لیکن اس میں پورے پنجاب کے لوگ شامل رہے ہیں۔ آپ مریدکے کو دیکھ لیں وہ تو وسطی پنجاب میں ہے۔ یہاں تک کہ قاری مشتاق وغیرہ کا تعلق بھی وسطی پنجاب سے ہے۔ تو میں یہ کہوں گا کہ پنجابی طالبان میں جنوبی، وسطی اور شمالی پنجاب کے لوگ شامل ہیں‘۔

پنجابی طالبان ہوں یا دیگر شدت پسند ان کی تعداد کے بارے میں تحقیق کار پروفیسر خادم حسین بتاتے ہیں کہ ’لڑنے والے پنجابی طالبان کی تعداد آٹھ سےگیارہ ہزار ہوگی اور اتنی ہی تعداد عربوں اور ازبکوں اور چیچن وغیرہ کی ہے۔ جبکہ پاکستان میں پشتون طالبان کی بھی تعداد کم و بیش برابر ہے، جس میں سوات اور باجوڑ کے طالب شامل نہیں ہیں‘۔ پنجابی طالبان کے بارے میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ’پنجابی طالبان کو طالبان کہنا بہت غلط ہے کیونکہ یہ جہادی ہیں اور ان کو میں کہوں گی دیوبندی سلفی، کیونکہ وہ اپنا ایجنڈا ابن طیمیہ سے لے کر چلتے ہیں ۔۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی نظام لایا جائے‘۔

انہوں نے بتایا کہ یہ سارے گروپ جو پنجاب میں کام کر رہے ہیں زیادہ تر وہ ہیں جنکی پاکستانی ریاست سے کچھ دوستی بھی ہے اور وہ ریاست پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ریاست ان کی ہمدرد ہے۔ ان کے مطابق ’جہادی گروہوں میں کچھ لوگ یا گروہ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی ڈھائی انچ کی مسجد بنا لی ہے اور وہ طالبان سے جا ملے، مثال کے طور پر امجد فاروقی گروپ، الیاس کشمیری یا ایسے کچھ اور‘۔

پنجابی طالبان میں صرف جنوبی پنجاب کے لوگوں کے شامل ہونے کے تاثر کو ڈاکٹر عائشہ بھی رد کرتی ہیں اور ان کہنا ہے کہ پنجاب میں ’تین مختلف ایسی جگہیں ہیں جہاں سے یہ لوگ اٹھتے ہیں، جنوبی پنجاب سارا، دوسرا فیصل آباد اور گجرانوالہ وغیرہ ۔۔یہ خاص خطہ ہے اور تیسرا چکوال ہے۔۔۔ جنوبی پنجاب ان سب میں سے زیادہ ضروری اس لیے ہے کیونکہ یہ فرنٹیئر اور بلوچستان کے ساتھ بھی لگتا ہے۔ جو خاص حملے ہیں، جن میں زیادہ دماغ لڑانے والی بات ہے تو اس کے لیے شاید فیصل آباد، گجرانوالہ وغیرہ سے نوجوان جاتے ہیں، نہ کہ جنوبی پنجاب سے۔

پنجاب میں شدت پسندی کے بارے میں ڈاکٹر عائشہ کہتی ہیں کہ اس بارے میں حقائق کا علم سب کو ہے لیکن فریقین مصلحتوں کا شکار ہیں۔’پاکستان کا حکمران سیاسی طبقہ جانتا ہے کہ یہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن نام اس لیے نہیں لیتے کیونکہ وہ خوفزدہ ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ اتنے عرصے میں ان کے مفادات ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ ایک سیاستدان ہیں، میں ان کا نام نہیں لینا چاہتی وہ اس وقت جنوبی پنجاب میں ایم این اے ہیں۔ ان کے والد کو لشکر جھنگوی والوں نے قتل کر دیا لیکن اب وہ جو الیکشن میں کامیاب ہوئے ہیں، وہ سپاہ صحابہ اور جیش محمد کی سپورٹ سے آئے ہیں۔ کیونکہ جو ووٹر ہے ان کے نظریات اتنے سالوں میں بدل گئے ہیں اور اس کے لیے ان کو آپس میں پیکٹ کرنا پڑا ہے اور بالکل اِسی طرح جس طرح آپ کے وزیر اعلی پنجاب نے لشکر جھنگوی کے ساتھ معاہدہ کرکے خود کو بلا مقابلہ منتخب کروایا‘۔

جنوبی پنجاب یا سرائیکی پٹی میں شدت پسندی کے بارے میں پاکستان سرائیکی پارٹی کے سربراہ تاج محمد لنگاہ کا اپنا ہی نقطہ نظر ہے۔’جنوبی پنجاب سے زیادہ تو لوگ جہاد کے لیے بھرتی ضرور کیے جاتے ہیں۔ غربت کی بنیاد پر، انہیں لالچ دیا جاتا ہے اور ان کہ والدین کو پیسے دیے جاتے ہیں۔ جہادیوں کے مراکز سرائیکی علاقے میں نہیں ہیں بلکہ وسطی پنجاب میں ہیں اور ان کو پنجابی اور پشتون کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ جو واویلا ہے کہ سرائیکی علاقے میں طالبان کی یلغار ہے اور وہاں فوجی آپریشن کیا جائے تو یہ سرائیکی صوبے کی تحریک کو دبانے کے لیے ہے ۔ یہ جو پنجابی طالبان ہیں وہ پورے پنجاب کے ہیں اور انہیں ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تربیت دی ہے‘۔

صوبہ سرحد کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں خدشات

جنوبی پنجاب میں پہلے سے موجود شدت پسندی میں صوبہ سرحد کی وجہ سے اضافے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے شدت پسندی جب صوبہ سرحد کے ڈیرہ اسماعیل خان جیسے بندوبستی اضلاع تک پھیلی تو جنوبی پنجاب پر بھی اس کا بظاہر اثر ہوتا دکھائی دیا۔ بھکر پنجاب کا وہ ضلع ہے جس کی سرحدیں صوبہ سرحد کے ڈیرہ اسماعیل خان سے ملتی ہیں۔ بھکر کے ایک وکیل سلیم اسلم چھینہ کہتے ہیں کہ ’جب سے ڈیرہ اسماعیل خان کے حالات خراب ہوئے ہیں تب سے بھکر کی پراپرٹی میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انتظامیہ نے تو کچھ عرصہ پہلے یہ بھی کیا تھا کہ صوبہ سرحد کا جس کے پاس شناختی کارڈ ہے وہ رجسٹری نہیں کروا سکتا، لیکن صوبہ سرحد والوں کے یہاں دوست احباب ہیں وہ ان کے نام پر املاک رجسٹر کراتے ہیں۔ اب تو یہ لوگ ہم پر غالب آچکے ہیں‘۔

بھکر کے ہی ایک مقامی صحافی کاظم رضا نقوی کہتے ہیں کہ سکیورٹی انتظامات ناکافی ہیں ’ہمارے ہاں کلور کوٹ سے لے کر ِبہل تک دریائے سندھ کا جو شرقی کنارہ ہے وہ ایک سو تیس کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا مغربی کنارہ جو ہے وہ صوبہ سرحد کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ ایک سو تیس کلومیٹر میں تیرہ ایسے پتن ہیں جہاں سے کشتیوں کے ذریعےگزر کر پنجاب میں آیا جا سکتا ہے لیکن اگر ہم نقشے کو دیکھیں تو ہمارے ہاں تینتیس کے قریب پتن ہیں۔ جہاں سے شدت پسند با آسانی آ جا سکتے ہیں‘۔

سرائیکی پٹی کے چھ اضلاع میں گھومنے اور وہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات چیت اور اسلام آباد میں مقیم بعض تحقیق کاروں اور نجزیہ نگاروں سے بات چیت کے بعد یہ امر واضح ہوا کہ شدت پسندی محض جنوبی پنجاب یا سرائیکی پٹی میں ہی نہیں بلکہ وسطی اور شمالی پنجاب میں بھی موجود ہے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ جنوبی پنجاب جہادیوں کی بھرتی کا ایک بڑا مرکز ضرور ہو سکتا ہے۔ سرائیکی پٹی میں شدت پسندی اپنی جگہ لیکن آج بھی کئی لوگوں کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ یہ صوفیا کا خطہ ہے اور یہاں ملا اور صوفی کا صدیوں سے فکری تنازع جاری ہے اور انہیں یقین ہے کہ جیت اب بھی تشدد کی نہیں بلکہ امن و محبت کی ہوگی۔

جنوبی پنجاب میں شدت پسندی۔۔ حقائق اور افسانہ کے عنوان سے چوتھی اور آخری قسط میں آپ پڑھ پائیں گے کہ کیا شدت پسندی میں ریاستی اداروں کا بھی کوئی کردار ہے؟۔ آئندہ ہفتے پھر ملیں گے۔