بلیوں کی لڑائی اور ساری روٹی

  • علی سلمان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
،تصویر کا کیپشن

صدر آصف زرداری عوامی لہجہ میں خطابات کر رہے ہیں

پنجاب میں جیسے جیسے صدر مملکت صدر آصف زرداری کا قیام طویل ہوتا جا رہا ہے ویسے ہی صوبے کی حکمران اتحادی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان تلخ نوائی میں اضافہ ہورہا ہے۔

مسلم لیگ نون کے لیے آصف علی زرداری کا اچانک دورہ پنجاب اور پرجوش عوامی طرز تخاطب غیر متوقع ہے، جواباً مسلم لیگ نون کی لیڈر شپ یا تو خاموش ہے یا پھر چند رہنماؤں کی جانب سے منفی ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔

صدر آصف زرداری کی آمد سے پہلے ہی پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور مسلم لیگ نون کے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے تند وتیز بیانات نے سیاسی ماحول کوگرما دیا تھا چنانچہ جب صدر آصف علی زرداری گزشتہ بدھ کو لاہور پہنچے تو مسلم لیگ نون کی جانب سے محض ایک صوبائی وزیر ان کے استقبال کے لیے موجود تھا۔

پیپلز پارٹی کے سنئیر وزیر راجہ ریاض نے یہ کہہ کر خفت مٹانے کی کوشش کی کہ وہ خود وزیر اعلی شہباز شریف کے نمائندے کے طور پر صدر مملکت کا استقبال کرنے کے لیے ائر پورٹ پر موجود تھے لیکن ان کے اس استدلال میں کتنا دم تھا اس کا اندازہ انہیں اگلے چوبیس گھنٹے میں ہوگیا جب پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے صدر مملکت کے بارے میں عام زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈر نواز شریف اور وزیر اعلی شہباز شریف پہلے سےطے شدہ پروگرام کے تحت غیر ملکی دوروں پر ہیں اور اگر صدر مملکت کو ان سے ملنے کا اتنا ہی شوق تھا تو وہ اپنی آمد کی پہلے سے اطلاع کردیتے۔

مسلم لیگ نون کے مرکزی ترجمان احسن اقبال نے کہا کہ وہ لاہور میں آصف زرداری کو خوش آمدید تو کہتے ہیں لیکن ان کے بقول لاہور نے ابھی تک ان کا صدر مملکت کا روپ دیکھا ہی نہیں بلکہ وہ تو پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

صدر آصف زرداری عوامی لہجہ میں خطابات کر رہے ہیں اور بار بار خود کو محترمہ بےنظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی جانشین اور ان کے خوابوں کوشرمندہ تعبیر کرنے والا قرار دیتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری بطور صدر بھی اور بطور پارٹی چیئر پرسن بھی سیاسی تقریر کرسکتے ہیں اور ان پر اس سلسلے میں اعتراضات بلا جواز ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رانا آفتاب احمد خان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کےسربراہ کے بارے میں مخالفانہ ریمارکس برداشت نہیں کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے راجہ ریاض نے پنجاب حکومت میں سنیئر وزیر ہونے کے باوجود میڈیا کے روبرو یہ شکوہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت صدر مملکت کی تقریبات میں ایک سازش کے تحت بد انتظامی پھیلانے کی مرتکب ہو رہی ہے جس کی شکایت وہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے غیر ملکی دورے سے لوٹنے پر ان سے کریں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ صدر آصف زرداری عوامی لہجہ اپنا کر اور عام آدمی کے مسائل کے حل کی بات کرکے پنجاب میں پیپلز پارٹی اور اپنے آپ کو سیاسی طور پر مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے بعض حلقوں میں یہ شک پیدا ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنےسیاسی پنجے گاڑنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی کی ترجمان فوزیہ وہاب کا کہنا ہے کہ انہیں پنجاب فتح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پنجاب پہلے ہی پیپلز پارٹی کا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ انہیں علم ہے کہ کس طرح عام انتخابات میں ان کی سیٹوں کو چرایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی خندہ پیشانی سے حالات کا سامنا کررہی ہے۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف ایک نجی ٹی وی چینل پر یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ نہ تو صدر آصف زرداری کے حق میں کسی قرارداد کی حمایت کریں گے اور نہ ہی انہیں ان کی کسی بات پر یقین ہے۔

دوسری جانب صدر زرداری نے اپنے تمام تر جوشیلے خطابات کے باوجود مسلم لیگ نون سے سیاسی مفاہمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔

لاہور کےمدیروں سے ایک ملاقات میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر شریف برداران کو ان پر یقین نہیں ہے تو بھی کوئی بات نہیں انہیں توشرتف بردران پر یقین ہے۔

میاں نواز شریف جو چین کے دورے پر ہیں ان کا بیان بھی مفاہمانہ ہے اور انہوں نے دو باتیں واضح طور پر کہی ہیں ایک تو یہ کہ پیپلز پارٹی کو اپنے پانچ برس مکمل کرنے چاہیئں اور دوسرا یہ کہ اگر جہموریت کو کسی نے پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی تو حکومت سے پہلے وہ میدان میں آئیں گے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں متحارب جماعتیں سیاسی میدان میں تو ایک دوسرے کے خلاف خم ٹھونکے کھڑی ہیں لیکن ان کی مرکزی قیادت میں بظاہر یہ اتفاق نظر آتا ہے کہ بلیوں کی لڑائی میں بندر کو ساری روٹی کھانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔