’کچھ لوگوں کو عوامی صدر سے تکلیف ہے‘

  • عبادالحق
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
صدر آصف زرداری
،تصویر کا کیپشن

ایسے منصوبے بنائے ہیں جن سے تین برسوں میں بجلی ، پانی اور زورگار کی کوئی کمی نہیں ہوگی

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس بات کی تکلیف ہے کہ اسلام آباد میں عوام کا صدر کیوں بیٹھا ہوا ہے۔

انہوں نے بات پیر کو پنجاب کے دورے کے دوران فیصل آباد میں نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی۔

صدر آصف زرداری نے پنجابی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت آنے والا ہے جب تمام چالیں ناکام ہوجائیں اور عوام کو سستا پٹرول، بجلی اور گیس دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کتنی بھی شازشیں کر لی جائیں انہوں نے ایسے منصوبے بنائے ہیں جن سے تین برسوں میں بجلی ، پانی اور زورگار کی کوئی کمی نہیں ہوگی اور وہ سازشیں کرنے والوں کا عام انتخابات میں مقابلہ کریں گے اور ان کو جواب دیں گے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک سے غربت کا خاتمہ کریں اور ہر پاکستانی کو روٹی، کپڑا اور مکان ملے گا کیونکہ یہ ان کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کا وعدہ ہے۔

صدر زرداری کا کہنا ہے کہ عوام کی طاقت کے ذریعے سوات میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے اور وزیرستان میں بھی دہشت گردی کو شکست دیں گے۔

ان کے بقول جیل غیرت، قوم، ملک اور نظریات کے لیے کاٹی جاتی ہے اور عوام کی طاقت کے ذریعے انہوں نے جیل کاٹی ہے اور اسی طاقت کی وجہ سے وہ پہاڑ سے ٹکڑاتے ہیں کیونکہ سب اسی عوامی طاقت سے ڈرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ موت سے ڈرتے نہیں بلکہ موت کے پیچھے بھاگتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو بھی کسی سے ڈرنے کی کوئی ضروت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پنجاب کے ساتھ بہت سے یادیں وابستہ ہیں کیونکہ انہوں نے سات سال تک پنجاب میں جیل کاٹی ہے اور جتنا پیار انہیں پنجاب سے ملا ہے کہیں اور سے نہیں ملا۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ صدارت اور حکومت کے لینے کا مقصد یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظر بھٹو کے مشن کو پورا کیا جائے ۔

ادھر فیصل آباد آمد میں پاور لومز پچاؤ تحریک کی طرف سے صدر آصف زرداری کے آمد سے قبل شہر میں احتجاج کیا اور ایک ریلی نکالی۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ احتجاج میں شامل افراد نے صدر زرداری کے آمد کے موقع پر لگائے خیرمقدمی بینرز کو اتار دیا اور ٹائر جلائے۔ مظاہرین نے کچھ دھرنا دیا جس کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔