’وسط مدتی انتخابات مسائل کا حل نہیں‘

  • عباد الحق
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
،تصویر کا کیپشن

’مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا جائے‘

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں ہونے والی ایک ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مڈٹرم انتخابات مسائل کا حل نہیں ہیں بلکہ یہ ملکی مفاد کے منافی بھی ہیں۔

سنیچر کو یہ ملاقات وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ پر ہوئی جو لگ بھگ ایک گھنٹے تک جاری رہی۔

صوبہ پنجاب میں وفاقی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ مڈٹرم انتخابات ملک میں جاری سیاسی عمل کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔

وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعلیٰ شہبازشریف کے ساتھ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب صدر آصف علی زرداری کے دورہ پنجاب کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کے درمیان محاذ آرائی کی صورت حال تھی اور صدر زرداری کے دورے کے دوران دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات بھی دیے۔

ملاقات میں یوسف رضا گیلانی اور شہباز شریف نے اس بات بھی زور دیا کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام اور اداروں کی مضبوطی کے لیے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا جائے اور دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان روابط کو بہتر بنایا جائے تاکہ ملک میں جمہوری ادارے مستحکم ہوں۔

وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ حکومت صلح صفائی کا عمل جاری رکھے گی تاکہ سیاست میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مفاہمتی رویہ اپنایا جاسکے۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایک ادارے کے طور پر عدلیہ جس احترام کا تقاضہ کرتی ہے وہ اس کے ساتھ ضرور روا رکھا جائے۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں گے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے جمعہ کو ہی وزارت قانون اور تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر عمل درآمد کریں اور اس ضمن میں تمام کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاہم بعد ازاں لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ صدر کو آئین کی دفعہ دو سو اڑتالیس کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اُن کے خلاف مقدمات کی سماعت نہیں ہو سکتی۔

وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد شہباز شریف نے وزیر اعلیْ بلوچستان اسلم ریئسانی سے بھی ملاقات کی۔

ادھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے رحیم یار خان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہتر کے آئین کو اس کی اصل حالت میں بحال کریں گے ۔ان کا کہنا ہے کہ تہتر کا آئین ملک کی سکیورٹی کا ضامن ہے اور وہ اس کا احترام کریں گے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آئین میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے سترھویں ترمیم اور اٹھاون ٹو بی کو ختم کیا جائے گا کیونکہ بقول ان کے ذوالفقار علی بھٹو کے دیئے ہوئے آئین کو اگر پیپلز پارٹی بحال نہیں کرے گی تو کون کرے گا۔

وزیر اعظم نےکہا کہ عوام نے انہیں پانچ برس کے لیے منتخب کیا اور پانچ سال بعد وہ دوبارہ عوام کی عدالت میں جائیں گے۔