لوبان کے درختوں پر تنازعہ

Image caption لوبان کے درخت غریب کو روز گار مہیا کرتے ہیں

لوبان جس درخت سے پیدا ہوتا ہے اسے تھر پارکر کے ریگستان میں لوگ گوگر یا گگرال کے نام سے جانتے ہیں۔ تھر پارکر کے آخری کونے میں واقع ننگر پارکر میں کارونجھر کے پہاڑو ں پر یہ درخت پائے جاتے ہیں۔

ننگر پارکار کے غریب لوگ گوگر کے حوالے سے ایک مسئلے سے دو چار ہیں۔ کافی عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں اور متعلقہ محکموں سے ان کی داد رسی کے لئے رجوع کر رہے ہیں۔

بلآخر ایک این جی او نے ڈسٹرکٹ جج اور محتسب کو درخواست دی اور ان سے مدد کی استعدا کی۔ ڈسٹرکٹ جج سید ساغر حسین زیدی نے اکیس جنوری کو ایک ’ویجیلنس کمیٹی‘ تشکیل دے دی جس میں رینجر سمیت شہریوں کو بھی نمائندگی دی گئی ہے ۔

کمیٹی کا اجلا س سیشن جج نے انتیس جنوری کو اپنے دفتر میں فریقین کو طلب کیا تھا لیکن اجلاس دیگر مصروفیات کے نتیجے میں ملتوی کر دیا گیا ۔ سیشن جج خود کمیٹی کے سربراہ ہیں ۔ محتسب کے نمائندے نے علاقے کا دورہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

لوبان اپنی مانگ اور کھپت کے باعث قیمتی چیز قرار دیا جاتا ہے۔ اسے نیپال اور دیگر ممالک کو درآمد کیا جاتا ہے ۔

قحط کے دنوں میں غریب لوگ پہاڑ پر جا کر اس سے پیدا ہونے والے مال کو جمع کیا کرتے تھے اور پھر فروخت کر کے اپنا گزارہ کرتے تھے۔

لوبان ان درختوں سے اکھٹا کرنے کے لئے علاقے کے با اثر لوگ بھی مقابلے میں کود پڑے ہیں۔ ان لوگوں نے پہلے مرحلے میں غریب لوگوں کو مار بھگایا اور اس حد تک سختی کی کہ غریب خواتین کا پانی بھرنے کا راستہ بھی روک دیا گیا۔ اس معاملہ پر جھگڑا فساد روز کا معمول بن گیا ہے حالانکہ ننگر پارکر میں سڑک کی تعمیر سے قبل کوئی جھگڑا شاز و نادر ہی ہوتا تھا ۔

Image caption لوبان کے درختوں سے علاقے کے بااثر منافع کمانا چاہتے ہیں

بااثر لوگوں کا مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ پوری پیداوار پر وہ ہی قابض ہو جائیں بلکہ انہوں نے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا ایک اور انوکھا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ یہ طریقہ اسی طرح کا ہے جو شہروں میں بھینس سے زیادہ سے زیادہ اور قبل از وقت دودھ حاصل کرنے کا ہے۔ بھینس کو ایک انجکشن لگایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں اس کا دودھ قبل از وقت خارج ہو جاتا ہے۔

زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے خواہش مند حضرات درخت میں جگہ جگہ کلہاڑی مار کر اس میں کوئی کیمیائی مواد داخل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں درخت اپنی مقررہ مقدار سے زیادہ پیداوار دیتا ہے ۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے پیداوار تو بڑھ گئی لیکن درخت کی عمر گھٹ کر صرف چھہ ماہ رہ جاتی ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ جن درختوں میں کیمیائی مواد لگایا جاتا ہے وہ صرف چھہ ماہ میں سوکھ جاتے ہیں اور خود بخود گرجا تے ہیں ۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو ضرورت کے دنوں میں ان کی مدد کرنے والے درخت ختم ہو رہے ہیں دوسری طرف علاقے کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ گوگر یا گگرال کے درخت پہاڑ پر خوبصورتی کا سبب ہیں اور ما حول کو خراب ہونے سے محفوظ رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں