پاکستان میں یومِ یکجہتیِ کشمیر

یومِ کشمیر
Image caption وزیراعظم پاکستان کا یوم پر کشمیر ہاؤس میں اظہارِ یکجہتی

پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں جمعہ کو سرکاری طور پر یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا جس کا مقصد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے آزادی پسند لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔

اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بھارت عالمی دباؤ کے باعث مذاکرات پر آمادہ ہو رہا ہے اور یہ کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے مرحلے پر آیا جب بھارت نے پاکستان کو سیکریڑی سطح پر مذاکرات کی تجویز دی۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں عام تعطیل رہی اور اس موقع پر تمام سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر اور اداروں کے علاوہ تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز سائرن اور ایک منٹ کی خاموشی کے ساتھ ہوا اور کشمیر کی بھارت سے آزادی کے لئے دعا کی گئی۔

اس موقع پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد سمیت مختلف شہروں میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے بارش اور سردی کے باوجود جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد کی گئیں اور پاکستان کو کشمیر کے ساتھ ملانے والے راستوں پر یکجہتی کے علامت کے طور پر انسانی زنجیر بنائی گئی۔

اسی نوعیت کی سب سے بڑی تقریب مظفرآباد کو پاکستان سے الگ کرنے والے کوہالہ پل پر بھی ہوئی۔

اس میں پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کی مختلف سیاسی مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کے علاوہ پاکستان کے چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ایک ایک وزیر نے شرکت کی جبکہ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے ایک رکن نے بھی اس میں شریک ہوئے۔

Image caption یومِ کشمیر کے موقع پر پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے

پاکستان میں بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت اہم شہروں راولپنڈی، لاہور، پشاور ، کراچی کے علاوہ دیگر شہروں اور قصبات میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اجتماعات اور تقاریب منعقد کی گئیں۔

حکومت پاکستان سن نوے سے سرکاری طور پر پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر مناتی آ رہی ہے لیکن اس دن کی کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہے۔

روایتی طور پر اس موقع پر پاکستان کے صدر یا وزیر اعظم مظفرآباد کا دورہ کرتے رہے ہیں لیکن اس بار موسم کی خرابی کے باعث پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا دورہ مظفرآباد منسوخ کر دیا گیا۔

تاہم انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں اسلام آباد میں واقع کشمیر ہاوس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے منعقد کی جانے والی تقریب میں شرکت کی۔

سید یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی دباؤ کے باعث مذاکرات پر آمادہ ہورہا ہے اور یہ کہ دنیا اب مسلہ کشمیر کے حل کی اہمیت کو سمجھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازع کشمیر سمیت تمام مسائل باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے اور یہ کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

Image caption یومِ کشمیر کے موقع پر کشمیر ہاؤس میں کشمیری رہنماؤں کا اظہارِ یکجہتی

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور یہ کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

ان کا بیان ایک ایسے مرحلے پر آیا جب بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد پہلی بار پاکستان کو جمعرات کے روز خارجہ سیکریڑی کی سطح پر مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی بھارتی تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے اس کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ بھارت سے اس ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں